فرنود: دلیل، سند، مثال

آخری وقت اشاعت:  پير 27 اگست 2012 ,‭ 00:15 GMT 05:15 PST

یہ کتاب جون ایلیا کی تحریروں کا مجموعہ ہے لیکن پڑھنے، رکھنے، بار بار پڑھنے اور تحفے میں دینے کے لائق ہے

نام کتاب: فرنود

مصنف: جون ایلیا

تالیف و ترتیب: خالد احمد انصاری

صفحات: 718

قیمت: 800 روپے

ناشر: الحمد پبلی کیشنز۔ رانا چیمبرز سیکنڈ فلور، لیک روڈ۔ لاہور

یہ جون ایلیا کے سات مضامین اور کوئی ایک سو اسّی سے زائد انشائیوں اور اداریوں پر مشتمل دستاویز ہے۔ اس سے پہلے ان کی شاعری کے پانچ مجموعے: شاید، یعنی، گمان، لیکن اور گویا آ چکے ہیں اور ابھی ہو سکتا ہے کہ بہت کچھ آئے۔

اصل میں جون ایلیا خود اپنے حساب کے آدمی تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ شاعری کو چھپوانے سے زیادہ سنانے کی چیز سمجھتے تھے۔ یعنی انہیں لگتا تھا کہ شعر سناتے ہوئے وہ ہر شعر میں جو ایک حالت اور کیفیت شامل کرتے تھے شاید وہ پوری طرح شعر میں آتی نہیں۔ ان کا فی بطنِ شاعر بہت مستحکم تھا، یہ بھی ان کے گمان کا گمان ہے کیونکہ جنھوں نے ان کا شعر پڑھا ہے وہ بھی تو ایک حالت و کیفیت میں جاتے اور آتے ہیں، تو اسے کیا کہا جائے گا؟

لیکن یہ شاعری کہاں سے آ گئی بیچ میں، بات تو جون ایلیا کے مضامین، انشائیوں اور اداریوں پر ہو رہی تھی جو انہوں نے چوالیس سال کی مدت کے دوران ماہنامہ انشا، عالمی ڈائجسٹ، 1990 میں جشنِ جون ایلیا کے موقع پر شائع ہونے والے مجلے اور سب سے زیادہ سسپنس ڈائجسٹ کے لیے لکھے۔ لیکن جون ایلیا کا نام آتے ہی بات شاعری اور ان کی شخصیت کی طرف چلی جاتی ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

شاید اس لیے کہ وہ سراپا شاعر تھے لیکن انھیں ضرور اندازہ ہو گیا تھا شاعری کو درکار معاشرے کی کایا پلٹ رہی ہے لیکن یہ بھی ایک الگ تفصیل ہے۔ ان کی نثر۔ انھیں ضرور یقین تھا کہ ان کی نثر تو خود ہی اپنا کچھ کر لے گی لیکن شاعری کو ان کی ضرورت ہے۔ جیسے عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ بچے کو ماں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ماں کو بچے کی ضرورت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ایسا ہی جون ایلیا کا معاملہ بھی لگتا ہے۔ شاعری کو ان کی ضرورت تھی جیسے بچے کو ہوتی ہے اور انھیں شاعری کی ضرورت تھی جیسے ماں کو بچے کی ہوتی ہے۔ اور یہ بھی تو ہے کہ بچے ماں کے بغیر رہ لیتے ہیں لیکن ماں سے بچے لے لیے جائیں تو جیتے جی مر جاتی ہے۔

اصل میں جون ایلیا خود اپنے حساب کے آدمی تھے۔ مجھے لگتا ہے کہ وہ شاعری کو چھپوانے سے زیادہ سنانے کی چیز سمجھتے تھے

اور نثر؟ شکیل عادل زادہ کا کہنا ہے کہ ’اس نثری مجموعے کی قریباً ساری تحریریں ضرورتاً لکھی گئی ہیں‘۔

اس بات کا ان تحریروں کی قدر سے کیا علاقہ ہوا؟ لیکن ذرا آگے چلیے، انہوں نے خود ہی وضاحت کی ہے ’حاضری لگا دینے کی اِس عام روش سے وہ ہمیشہ مجتنب رہے‘۔ سو یہ کام ضرورتی ہونے کے باوجود سرسری نہیں کیا گیا۔

اور جون ایلیا کا خود کہنا تھا کہ ’نثر کاری میں بڑی حجت کرنے پڑتی ہے۔ یہ شاعری نہیں جو چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، ہر حال میں سرزد ہو جائے۔ نثر کے لیے خود کو باندھ کے، جکڑ کے بیٹھنا پڑتا ہے‘۔

مجھے ان کی شاعری اور نثر الگ الگ نہیں لگیں اگر نثر میں بھی ان کے سامنے مشاعرے کے سامعین ہوتے اور یہ بھی انھیں سامنے بیٹھ کر سنانی ہوتی تو اس میں بھی وہ سب کچھ درآتا جو ان کے شعر میں ہے۔

جون ایلیا کی اصل شاعری ان کی نثر ہے یا کم سے کم دونوں ایک دوسرے سے الگ نہیں، ضرور یہ بات بہت سوں کو بیٹھے گی نہیں۔ خرابی ان میں نہیں، اس روایت و وراثت میں ہے جس نے شاعری اور شعر کو محض تفریح کا سامان بنا دیا پست معنوں میں بھی اور وسیع معنوں میں بھی۔

خالد انصاری نے لکھا ہے کہ جون ایلیا نے ذہینہ سائیکی کے فرضی نام سے بھی لکھا اور اس کتاب میں ایک مضمون ’مرد برقع اوڑھیں‘ ہے بھی۔ لیکن کیا انہوں نے ایک ہی مضمون لکھا؟ اور ہیں تو کیوں شامل نہیں؟ اگر ملے نہیں تو اب جس کسی کے پاس ہوں وہ انھیں جمع کر دے یا خالد انصاری ہی یہ کام بھی کر دیں۔

اس کتاب میں شامل تحریریں فلسفیانہ بھی ہیں، سماجی بھی اور سیاسی بھی

اس کتاب میں شامل تحریریں فلسفیانہ بھی ہیں، سماجی بھی اور سیاسی بھی۔ سیاسی اور سماجی تحریریں ایسی اہم ہیں کہ ان سے ہر دور کی جیتی جاگتی تصویر سامنے آ جاتی ہے اور یہ بھی علم ہوتا ہے کہ حکومتوں نے اپنے ہی ملک کے لوگوں کو کس کس بات کے بارے میں کتنا لاعلم رکھا۔ پھر جون ایک کی دوستیاں اور تعلق داریوں کا حساب بھی ہے۔

اس مختصر تبصرے میں اس کتاب کا پورا تعارف بھی ممکن نہیں اور پھر یہ کتاب جون ایلیا کی تحریروں کا مجموعہ ہے لیکن پڑھنے، رکھنے، بار بار پڑھنے اور تحفے میں دینے کے لائق ہے۔ شکیل عادل زادہ کو جون ایلیا کے بارے میں اور، اور سب کچھ بتانا چاہیے۔

فرنود میں شامل ساری تحریروں میں نام کا اہتمام ہے: دلیل، سند، مثال۔ اس کے بعد بھی اختلاف کی گنجائش دکھائی دے گی، تو زندہ تحریر کا ایک لازمی وصف اختلاف پر اکسانا بھی ہے۔ لیکن بات کرنے کا یہ ڈھنگ کہ دماغ بھی بول رہا ہے اور دل بھی اور کبھی کبھی تو دونوں مکالمے میں ایسے ہوتے ہیں کہ سننے والا سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ وہ کہاں اور کس کی طرف ہے۔ نثر کا یہ وفور اردو میں کم ہی ہے، ہے بھی تو ایسے وفور کا سا نہیں۔ خود فرنود اٹھا کے دیکھ لیجے۔

کتاب بہت اچھی شائع ہوئی ہے۔ قیمت مناسب ہے۔ جلد بندی زیادہ توجہ چاہتی تھی۔ ٹائٹل اچھا نہیں ہے، یہی معنی اور طرح مصور کیے جاتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔ ٹائپنگ اور پروفنگ کی غلطیاں چند ایک ہیں اور یہ کمال ہے

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔