ہالی وڈ کی فلموں میں میرٹھ کے ہتھیار

آخری وقت اشاعت:  منگل 28 اگست 2012 ,‭ 14:49 GMT 19:49 PST

دیپکا ایكسپورٹس کمپنی گزشتہ بیس برس سے نقلی ہتھیار بنانے کا کام کر رہی ہے

آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے دلی سے جڑا میرٹھ شہر انگریز حکومت کے خلاف بغاوت کا گڑھ بنا تھا اور ہتھیاروں سے لیس ہندوستانی سپاہیوں نے انگریزوں کے خلاف بغاوت کی شروعات اسی شہر سے کی تھی۔

یہ بات تو بہت لوگ جانتے ہیں لیکن اکثریت کو شاید یہ پتہ نہ ہو کہ آج بھی میرٹھ اپنے ہتھیاروں کے لیے جانا جاتا ہے۔

یہ اور بات ہے کہ اب یہ ہتھیار اصل لڑائی میں نہیں بلکہ ہالی وڈ کی فلمی لڑائیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔

آسکر یافتہ فلم گلیڈی ایٹر، 300، پائریٹس آف دی كیریبيئن، دی لاسٹ سیمورائے جیسی ہالی وڈ کی تاریخی یا جنگوں سے متعلق ایسی کئی فلمیں ہیں جو آپ نے دیکھی ہوں گی۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جو کپڑے یا ہتھیار ان فلموں میں استعمال ہوتے ہیں وہ کہاں بنتے ہیں؟

ان ہتھیاروں اور ملبوسات کی تیاری کا مرکز میرٹھ شہر کی فیکٹریاں ہیں جہاں ہتھوڑے کی مار اور شعلوں سے نکل کر تیز ہوتی تلوار کی دھار آپ کا استقبال کرتی ہیں۔

ہالی وڈ فلموں اور دنیا کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں اداکار جو خود، ڈھالیں اور بھالے استعمال کرتے ہیں ان میں سے بڑا حصہ انہی فیکٹریوں میں بنتا ہے۔

میرٹھ کی دیپکا ایكسپورٹس کمپنی گزشتہ بیس برس سے یہ نقلی ہتھیار بنانے کا کام کر رہی ہے۔

کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر گگن اگروال کہتے ہیں، ’ہم نے کئی فلموں کے لیے كاسٹيوم، ڈھالیں اور دیگر ہتھیار تیار کیے ہیں۔ کئی ایسی کمپنیاں ہیں جو ہمیں نمونے بھیجتے ہیں کہ ایسا مواد موجود ہے۔ تاریخی عجائب گھروں سے بھی آرڈر آتے رہتے ہیں۔ جیسے ہمارے یہاں رام ليلا پیش کی جاتی ہے ویسے ہی بیرون ملک میں روایتی کہانیوں کی پیشکش ہوتی ہے۔ ہم تاریخ سے بھی مشورہ لیتے ہیں کہ اس دور کا مواد کیسا تھا۔ اس کاروبار میں آگے بڑھنے کے کافی امکانات ہیں‘۔

گگن بتاتے ہیں، ’ہم نے ٹام کروز اور بریڈ پٹ کی فلم کے لیے سامان تیار کیا ہے۔ابھی ایک انگریزی فلم سگلیرٹي آنے والی ہے جس میں بپاشا باسو ہیں، اس کے لیے بھی ہم نے چیزیں بنائی ہیں۔ ہم بی بی سی کی روم سیریز کا بھی حصہ رہے ہیں‘۔

ہم نے ٹام کروز اور بریڈ پٹ کی فلم کے لیے سامان تیار کیا ہے:گگن اگروال

میرٹھ کی ان فیکٹریوں میں کاریگر زیادہ کام آج بھی ہاتھ سے ہی کرتے ہیں اور یہاں ہنرمند کارکنوں کی بہت مانگ ہے۔

اس کام میں مصروف ایک کاریگر دیویندر کمار نے بتایا کہ ’ہم یہ کام بہت محنت سے کرتے ہیں۔ وقت اور ڈیڈ لائن کا بھی خیال رکھنا پڑتا ہے کیونکہ یہ سامان بیرونِ ملک جاتا ہے۔ کچھ سامان بنانے میں تو کافی وقت لگ جاتا ہے. چاہے چمڑا لگانے کی بات ہو یا کچھ اور، سب سے بہتر انداز میں کیا جاتا ہے. اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ کوئی غلطی نہ ہو‘۔

اسی طرح غیر ملکی فلموں یا عجائب گھروں کے لیے سامان بنانے میں چیلنجز بھی کئی ہوتے ہیں۔ جس دور کے ہتھیار یا کپڑے ہیں، انہیں تحقیق کے بعد جوں کا توں فیکٹری میں تیار کرنا ہوتا ہے۔

دیپکا ایكسپورٹس کے نائب صدر راجیو رستوگي کہتے ہیں، ’ہمارے پاس تحقیقی مواد، تصاویر اور رسالے بھیجے جاتے ہیں۔ انہیں پڑھنے اور دیکھنے کے بعد ہوبہو سامان تیار کیا جاتا ہے۔ چونکہ سامان ہالی وڈ فلموں یا عجائب گھروں میں استعمال ہونا ہوتا ہے اس لیے معیار کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ اپنے افراد کو ہم پوری ٹریننگ دیتے ہیں‘۔

اس سوال پر کہ کیا بھارتی فلموں کے لیے ایسا سامان تیار کرنے کا آرڈر نہیں ملتا، گگن اگروال نے کہا، ’ایک تو بھارت میں تاریخی فلمیں بنتی ہی کم ہیں اور دوسرا ان فلموں کا بجٹ کم ہوتا ہے۔ اس وجہ سے بالی وڈ فلمز ایسا آرڈر کم ہی دیتی ہیں۔ ایک فلم ساز کی ٹیم آئی بھی تھی ہمارے پاس لیکن ان کا بجٹ کم تھا اس لیے انکار کر دیا‘۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔