بھارتی فلم جوکر: ناظرین کو جوکر بنانے کی کوشش

آخری وقت اشاعت:  منگل 4 ستمبر 2012 ,‭ 23:51 GMT 04:51 PST

اکشے کمار نے اس فلم سے بالی وڈ میں اپنی سنچری مکمل کی ہے

ایڈیٹر، موسیقی ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر سريش كدر نے اپنی دوسری فلم میں تمام محکموں کو اکیلے ہی سنبھالا ہے۔

’جوکر‘ جہاں سريش کی بطور ہدایت کار دوسری فلم ہے وہیں اکشے کمار نے اس فلم سے بالی وڈ میں اپنی سنچری مکمل کی ہے۔ جیسا کہ فلم کے عنوان سے ہی پتہ چلتا ہے، فلم ناظرین کو جوکر بنانے کی ایک کوشش ہے۔

بی بی سی ہندی کے ارنب بینرجی لکھتے ہیں کہ ایک فلم ناقد ہونے کی حیثیت سے میرا کام ہے ہر فلم کو مکمل دیکھنا اور پھر اس پر اپنی رائے دینا۔

لیکن یقین مانیے ’جوکر‘ کو مکمل دیکھنا میرے صبر کا امتحان تو تھا ہی، ساتھ ہی مجھے ایسا بھی لگا کہ اس فلم کے ذریعے کیا لوگوں کی سمجھ کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔

کہنے کو تو ’جوکر‘ ایک کامیڈی فلم ہے لیکن فلم کے مزاح میں نيا پن بالکل نہیں بلکہ میں تو کہوں گا کہ فلم حماقت کی بلندیوں کو چھوتی ہے۔

فلم میں اکشے کمار امریکی خلائی ایجنسی ’ناسا‘ کے ایک سائنسدان ہیں۔ اکشے نے ایک ایسا آلہ بنانا چاہتے ہیں جس کے ذریعے انسان دوسری دنیا کے جانوروں سے بات کر سکے۔ لیکن اکشے جب یہ آلہ بنانے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو ناسا کے اہلکار انہیں ایک ماہ کا وقت دیتے ہیں جس کے دوران انہیں یہ آلہ تیار کرنا ہے۔

اسی دوران اکشے کو ان کے گاؤں پگلا پور واپس آنا پڑتا ہے کیونکہ اچانک ان کے والد کی طبیعت خراب ہو جاتی ہے۔ پگلا پور ایک ایسا گاؤں ہے جو بھارت میں ہوتے ہوئے بھی بھارت کے نقشے پر نہیں ہے۔

اکشے اپنی گرل فرینڈ سوناكشي سنہا کے ساتھ جیسے ہی پگلا پور پہنچتے ہیں، ویسے ہی شروع ہوتا ہے ایک کے بعد ایک مسائل کا سلسلہ۔ اکشے کو پتہ چلتا ہے کہ ان کے والد کی بیماری کی بات جھوٹی تھی اور صرف انہیں پگلا پور واپس بلانے کے لیے کہی گئی تھی۔

اس گاؤں کا نام پگلا پور اس لیے بھی ہے کیوں کہ یہاں رہنے والا ہر انسان تھوڑا عجیب ہے۔ پگلا پور میں نہ تو بجلی ہے اور نہ ہی پانی اور اس مسئلے کا حل بھی کسی کے پاس نہیں ہے۔

گاؤں کی حالت کو بہتر بنانے کی ذمہ داری اکشے اپنے سر پر لیتے ہیں اور ایک ایسا حل تلاش کرتے ہیں جس سے ساری دنیا کی نظریں آ ٹکتی ہیں پگلا پور پر۔

اب آپ ہی سوچیے کہ ایک ایسی فلم جہاں ہر کردار بغیر وجہ ہنستا ہو، گاتا ہو، ناچتا اور ضرورت سے زیادہ مصنوعی اور ڈرامائی ہو تو آپ سنیما گھر میں بیٹھے کیا کریں گے؟ شاید اپنے بال نوچیں گے۔

فلم کے ہدایت کار شريش كدر شاید ہمیں اس بات کا احساس دلانے کہ کوشش کر رہے ہیں کہ فلم بغیر کہانی کے بھی چل سکتی ہے بس اس میں کامیڈی کا تڑکا لگا دیجیے۔

مجھے لگتا ہے راؤڈي راٹھور کو ملی کامیابی کے بعد اکشے کمار نے جب جوکر کو دیکھا تو وہ بھی گھبرا گئے اور انہیں خود یہ فلم پسند نہیں آئی اور شاید اسی وجہ سے وہ میڈیا میں فلم کو پروموٹ کرتے نظر نہیں آئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔