’افریقن ایکسپریس‘ نے لندن جیتا

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 ستمبر 2012 ,‭ 13:30 GMT 18:30 PST
افریقن ایکسپریس

افریقن ایکسپریس پر مختلف ممالک کے اسّی موسیقار سوار ہیں۔

لندن میں منعقد ہونے والے اولمپکس اور پیرالمپکس کھیلوں کا جشن منانے والی افریقن ایکسپریس نامی ٹرین پر افریقہ، یورپ اور دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اسّی موسیقار اور گلوکار سوار ہیں۔ انہوں نے لندن کے علاقے کنگز کراس میں اپنے سفر کا آخری کنسرٹ کیا۔

لندن پہنچنے سے سے قبل یہ ٹرین برطانیہ کے کئی شہروں میں رک چکی ہے جن میں ملٹن کِینز، اسٹوک آن ٹرینٹ، لیڈز، مڈلزبرا، گلاسگو، مانچسٹر، کارڈف اور برسٹل کے نام شامل ہیں۔

افریقن ایکسپریس پر بابا مال، روکیا تراور، امادو باگایوکو، اور ٹونی ایلین جیسے نامور افریقی گلوکار سوار تھے۔ انہوں نے ڈیمن البرن، جان پال جونس، کارل بارات اور نک زنر جیسے راک سٹار کے ہمراہ موسیقی کے پروگرام پیش کیے۔

اس ٹرین پر بی بی سی کی افریقہ سروس کے صحافی بھی سوار تھے۔ راکسٹار ڈیمن البرن نے بتایا ’میرے لیے یہ سفر ایک سحرانگیز تجربہ رہا ہے‘۔

افریقن ایکسپریس پر سوار موسیقاروں کا کہنا ہے کہ ان کے لیے یہ سفر موسیقی کے تبادلے اور مشترکہ طور پر کام کرنے کی تجربہ گاہ جیسا ہے۔

اس ٹرین کے ایک سفر کے دوران مختلف بینڈ کے موسیقاروں نے بغیر رکے پورا دن مل کر ساز بجائے اور نغمے گائے۔

افریقن ایکسپریس کی خاص بات یہ تھی کہ اس پر سوار ہر چھوٹے بڑے موسیقار نے مل کر ایک ساتھ بغیر کسی تخصیص کے گانا گایا۔

مصر سے تعلق رکھنے والی نوجوان موسیقار ایم سی کریم روش کو یقین نہیں آرہا تھا جب افریقن ایکسپریس کے منتظمین نے ان سے ایک دن رابطہ کر کے نامور موسیقار جان پال جانز کے ساتھ گانے کو کہا۔ کریم روش جان پال جانن کو موسیقی کا گرو مانتی ہیں اور انہیں یقین نہیں آرہا کہ وہ ان کے ساتھ گائیں گی۔

ان کا کہنا تھا ’مجھے یقین نہیں آیا کہ میرے ساتھ یہ سب ہو رہا تھا۔ کبھی کبھی لوگ سٹیج پر گانے سے پہلے ہفتوں مشق کرتے ہیں لیکن یہاں تو ہم ایسے ہی گانے لگتے تھے‘۔

جیسے جیسے یہ ٹرین اپنی آخری منزل پر پہنچ رہی تھی اس پر موسیقار اس تجربے کے بارے میں خوش بھی ہیں اور مایوس بھی۔ مایوس اس لیے کیونکہ انہیں اپنے ساتھی موسیقاروں سے جدا ہونا آسان نہیں لگ رہا۔

ٹرین پر سوار بعض نوجوان گلوکاروں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس تجربے نے ان کی زندگی بدل دی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔