’ہالی وڈ میں اب بڑی فیس نہیں ملتی‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 11 ستمبر 2012 ,‭ 14:32 GMT 19:32 PST
بریڈ پٹ

کساد بازاری کا اثر ہالی وڈ پر بھی پڑا ہے اور اب اداکاروں کو پہلے جیسے پہسے نہیں ملتے ہیں

ہالی وڈ کے معرف ادا کار بریڈ پٹ کا کا کہنا ہے کہ اب وہ دن ہوا ہوئے جب ہالی وڈ کے اداکاروں کو لاکھوں ڈالر کی موٹی رقم ملا کرتی تھی۔

بریڈ پٹ کا شمار ہالی وڈ کے مہنگے ترین اداکاروں میں ہوتا ہے جو ایک فلم کے لیے لاکھوں ڈالر لیا کرتے ہیں۔

ان سے جب پوچھا گيا کہ کیا اب بھی یہ ممکن ہے کہ فلم سٹار کو ایک فلم کے لیے ایک کروڑ ڈالر تک کی قیمت ادا کی جاتی ہو تو انہوں نے ہنستے ہوئے جواب دیا ’وہ چیز اب ختم ہوچکی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سچ مانیے تو وہ حساب کتاب اب کام نہیں کرتا، آج کل وہ معاہدے نہیں ہوتے ہیں‘۔

حال ہی میں فوربز میگزین نے دو ہزار بارہ کی جو فہرست جاری کی تھی اس میں ٹام کروز سالانہ سات کروڑ پانچ لاکھ ڈالر کی کمائي کے ساتھ سرفہرست تھے۔

جبکہ بریڈ پٹ نے دو کروڑ پانچ لاکھ ڈالر کمائے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویسے عومی طور پر ہالی وڈ کا یہ دلچسپ اور اچھا وقت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’بہت سے سٹوڈیوز کو کساد بازاری کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا رہا ہے اور ساتھ ہی وہ دوسری بڑي چیزوں کے لیے بھی قسمت آزمائی کرتے رہے ہیں۔ اس سب کے ساتھ ہی دلچسپ فلم سازوں کے لیے ایک نیا خلاء بھی پیدا ہوتا رہا ہے‘۔

"بہت سے سٹوڈیوز کو کساد بازار کے سبب چیلنجز کا سامنا رہا ہے اور ساتھ ہی وہ دوسری بڑي چیزوں کے لیے بھی قسمت آزمائی کرتے رہے ہیں۔ اس سب کے ساتھ ہی دلچسپ فلم سازوں کے لیے ایک نیا خلاء بھی پیدا ہوتا رہا ہے۔"

بریڈ پٹ

بریڈ پٹ حالیہ کچھ برسوں میں طرح طرح کے کردار کرتے رہے ہیں جن میں اگر وہ کسی کردار کے لیے آسکر کے لیے نامزد ہوئے تو بعض بچوں کے لیے اینیمیٹیڈ فلم یا پھر کرائم تھرلرز بھی ہیں۔

ان کا کہنا ہے اگر آپ کردار پہ کردار کرتے رہیں گے تو پھر آپ کو دوسروں کی طرح مالی توازن بھی قائم رکھنا پڑیگا۔

لیکن اداکاروں کے پاس لاکھوں ڈالر کمانے کے دوسرے ذرائع بھی ہیں۔ مثلا یہ کہ فلم کے لیے فیس کم لیں اور فلم کی کمائي میں سے کچھ حصہ اپنے لیے مختص کر لیں۔

لیکن یہ طریقہ کار تبھی کارگر ثابت ہوسکتا ہے جب فلم اچھا بزنس کر سکے۔

ادا کار جوڈ لاء کہتے ہیں کہ انہوں نے کبھی بھی دو کروڑ یا ڈیڑھ کروڑ ڈالر کی فیس طلب نہیں کی اور وہ اس فارمولے پر بھی عمل کر چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں انہوں بعض مصلحتوں کے پیش نظر فیس کا مطالبہ کیا تھا تاہم اب وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’ کچھ فلمیں ہی ایسی تھیں کہ ان سے دور ہٹنا تھا تو ان سے پیسوں کے مطالبے میں اضافہ کرتے رہنا پڑا تاکہ وہ یہ کہہ کر خود ہی پیچھا چھوڑ دیں کہ وہ اتنا پیسہ نہیں دے سکتے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔