لہری: پاکستان میں مزاح کا انتقال

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 13 ستمبر 2012 ,‭ 11:07 GMT 16:07 PST

لہری کی آخری فلم ’دھنک‘ تھی جو سنہ انیس سو چھیاسی میں ریلیز ہوئی

پاکستان کے مزاحیہ اداکار لہری جمعرات کی صبح کراچی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے ان کی عمر تراسی سال تھی۔

وہ کئی برسوں سے مسلسل علیل تھے تاہم انھیں بارہ اگست کو ہسپتال میں داخل کیا گیا تھا اور پچھلے کئی دن سے وہ مصنوعی تنفس پر زندہ تھے۔

لہری سنہ انیس سو انتیس میں پیدا ہوئے۔ لہری نے پسماندگان میں پانچ بیٹے اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔

لہری کا اصل نام سفیر اللہ صدیقی تھا۔ انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز پچاس کی دہائی میں بلیک اینڈ وائٹ فلموں سے کیا۔ ان کی پہلی فلم ’انوکھی‘ تھی جو سنہ انیس سو چھپن میں ریلیز ہوئی۔ ان کی آخری فلم ’دھنک‘ تھی جو سنہ انیس سو چھیاسی میں بنی تھی۔

ان کا فلمی کیریئر تیس سال پر محیط ہے اور ایک اندازے کے مطابق انھوں نے کوئی سوا دو سو فلموں میں کام کیا جن میں چند ایک پنجابی فلموں کے علاوہ باقی سب اردو فلمیں تھیں۔

اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے

لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے مزاح کی خاص بات ان کے برجستہ جملے ہوتے تھے اور وہ کبھی مزاح کے لیے جسمانی حرکتوں سے کام نہیں لیتے تھے۔

سفیر اللہ لہری کو سنہ انیس سو چونسٹھ سے انیس سو چھیاسی تک کا بہترین مزاحیہ قرار دیتے ہوئے نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔

واضح رہے کہ نگار ایوارڈ پاکستان میں فلم کا سب سے معتبر ایوارڈ سمجھا جاتا ہے۔

لہری کی ایوارڈ حاصل کرنے والی فلموں میں ’پیغام‘ سنہ انیس سو چونسٹھ، ’کنیز‘ سنہ انیس سو پینسٹھ، ’میں وہ نہیں‘ سنہ انیس سو سٹرسٹھ،

’ساقی‘ سنہ انیس سو اڑسٹھ، ’نئی لیلا نیا مجنوں‘ سنہ انیس سو انہتر، ’انجمن‘ سنہ انیس سو ستر، ’دل لگی‘ سنہ انیس سو بھہتر، ’آج اور کل‘ سنہ انیس سو چھہتر، ’نیا انداز‘ سنہ انیس سو اناسی، ’صائمہ‘ سنہ انیس سو پچاسی اور ’بیوی ہو تو ایسی‘ سنہ انیس سو چھیاسی شامل ہیں۔

لہری برصغیر کی فلمی دنیا اپنی طرز کے منفرد اداکار تھے۔ ان کے مزاح کی خاص بات ان کے برجستہ جملے ہوتے تھے اور وہ کبھی مزاح کے لیے جسمانی حرکتوں سے کام نہیں لیتے تھے۔ ان کے اس انداز کے پیرو کاروں میں معین اختر مرحوم سرفہرست ہیں اور پاکستان کے حیات مزاح کاروں میں انور مقصود نے بھی انھی کے انداز کو کمال دیا ہے۔

لہری ایک ایسے مزاح کار تھے جو ہنسانے اور تکلیف پہچانے کے فرق کو جانتے تھے۔ ادھر ایک عرصے سے علالت کے باعث وہ اداکاری سے دور تھے لیکن پاکستان کی فلم انڈسٹری کی تاریخ میں ان کے نام کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔

ان کے بعد فلمی دنیا، ٹی وی اور سٹیج میں مزاح سے وابستہ ہونے والے تمام لوگ ان کی ہنرمندی اور بڑائی کے قائل ہیں اور ان میں سے بیشتر سمجھتے ہیں کہ لہری ایک ایسے اداکار تھے جنھوں نے نہ صرف فلمی دنیا میں اپنے لیے جگہ بنائی بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی مزاح کا ایک نیا راستہ دکھایا۔

"ہمارے پاکستان کے تمام ہی اداکاروں سے ایسے مراسم ہیں جیسے وہ ہمارے خاندان کے رکن ہوں لیکن لہری ان لوگوں میں سے ہیں جن کا میں بےحد احترام کرتی ہوں، صرف اس لیے نہیں کہ وہ برِ صغیر کے ایک بڑے اداکار ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ وہ ایک انتہائی اچھے انسان ہیں۔"

اداکارہ شبنم

ان کے ساتھی اداکار ان کا بے حد احترام کرتے تھے۔ اسی سال جب اداکارہ شبنم اپنے شوہر روبن گھوش کے ساتھ پاکستان کے دورے پر آئیں تو خاص طور پر لہری کی عیادت کے لیے گئیں۔

ایک تقریب میں شبنم نے لہری کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا ’ہمارے (شبنم اور روبن گھوش) پاکستان کے تمام ہی اداکاروں سے ایسے مراسم ہیں جیسے وہ ہمارے خاندان ہی کے رکن ہوں لیکن لہری ان لوگوں میں سے ہیں جن کا میں بےحد احترام کرتی ہوں، صرف اس لیے نہیں کہ وہ برِ صغیر کے ایک بڑے اداکار ہیں بلکہ اس لیے بھی کہ وہ ایک انتہائی اچھے انسان ہیں۔‘

اداکار لہری کی نماز جنازہ بعد نماز عصر کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ادا کی جائے گی اور تدفین یاسین آباد قبرستان میں ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔