حسن ہے، ہنر ہے لیکن پیسہ نہیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 22 ستمبر 2012 ,‭ 08:29 GMT 13:29 PST
ودیا بالن

ودیا بالن نے ہیروئن پر مبنی فلموں میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔

بھارتی فلم انڈسٹری میں ہیرو اور ہیروئنوں کے معاوضے میں کافی فرق ہے جسے کچھ لوگ سماجی ڈھانچے کا آئینہ دار مانتے ہیں تو کچھ دوسرے کمرشل اپیل کا نتیجہ۔

معروف اداکارہ ودیا بالن نے ایک بار اداکاراؤں کے تئیں فلم انڈسٹری کے رویے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’'كمرشل سطح پر فلم آج بھی ہیرو کے نام پر چلتی ہے۔ عام طور پر ایسی فلمیں فائدے کا سودا نہیں ہوتیں جو ہیروئن کے گرد گھومتی ہیں. ہیرو - ہیروئن کی فیس میں یہاں بہت فرق ہے‘۔

بظاہر فلم انڈسٹری میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ ودیابالن کی ’عشقیہ‘ پروان چڑھی، ہیروئن کے اردگرد گھومتی ’دی ڈرٹي پکچر‘ سے ودیا بالن کی کامیابی کی نئی ’کہانی‘ لکھی جا چکی ہے۔ انہیں ودیا بالن نہیں ’ودیا بالن خان‘ پکارا جا رہا ہے۔

کیا آج بھی ودیا کی کمائی کسی خان جتنی ہو پائی ہے؟ کیا انہیں بھی ٹاپ اداکاروں کے برابر معاوضہ ملتا ہے؟ کرینہ کپور جیسی ٹاپ ہیروئنوں کی شکایت ہے کہ انہیں شاہ رخ یا سلمان کی طرح بڑی رقم والے چیک نہیں ملتے۔

فلم کے سینیئر تجزیہ نگار جے پرکاش چوكسے کہتے ہیں کہ اپنے کئی دہائیوں کے کیریئر میں انہوں نے یہی دیکھا ہے کہ ہیرو اور ہیروئن کی فیس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

کرینہ کپور

کرینہ کپور کی تازہ فلم ہیروئن کے گرد گھومتی ہے۔

ماضی پر نظر ڈالتے ہوئے وہ کہتے ہیں ’اگر انیس سو تینتیس میں بنی فلم ’سیتا رام‘ کے لیے پرتھوی راج کپور کو پچاس ہزار ملے تھے اور سیتا کا کردار کرنے والی درگا كھوٹے کو دس ہزار۔ جب نرگس، نوتن، مدھوبالا اور ميناكماري جیسی با صلاحیت اداکاراؤں کا بول بالا تھا تو بھی ان کی فیس ہیرو سے کم ہوتی تھی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ فرق زمین آسمان کا نہیں تھا۔ ہیرو کو پانچ لاکھ ملتے تھے اور ہیروئن کو ڈھائی لاکھ‘۔

تاہم فلم انڈسٹری میں کئی لوگ آج بھی اس پر کھل کر بات نہیں کرتے۔ اداکارہ سری دیوی سے جب ہیرو ہیروئن کے معاوضوں میں فرق کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’میں ایسا نہیں مانتی۔ ہیروئن کو بھی اچھا پیسہ ملتا ہے وہ اس کی حقدار بھی ہیں‘۔

تو آخر معاوضے میں اس ’جانبداری‘ کی کیا وجہ ہے؟ اپنی فلم ’ہیروئن‘ کو فلم انڈسٹری کا آئینہ بتانے والے مدھر بھنڈارکر بغیر کسی لاگ لپیٹ کے کہتے ہیں، ’لوگ فلم دیکھنے جاتے ہیں تو پوچھتے ہیں کہ ہیرو کون ہے، یہ نہیں پوچھتے ہیروئین کون ہے۔ ہیرو فلم کو کمرشل سطح پر لے کر جا سکتا ہے۔ ہیروئن تو اٹھ کر دس لوگوں کو پیٹ نہیں سکتی، کہیں بھی اٹھ کر گانا نہیں گا سکتی۔ لوگوں کی ذہنیت ہے کہ وہ بڑے ہیرو کی ہی فلمیں دیکھیں گے‘۔

کئی اداکارائیں معاوضے میں وسیع فرق کے لیےمردوں پر مبنی سماجی ڈھانچے کو ہی ذمہ دار مانتی ہیں جن میں رانی مکھر جی بھی شامل ہیں۔

رانی مکھر جی

وہ کہتی ہیں کہ ’زیادہ تر خواتین ہندوستان میں شوہروں کا خیال رکھتی ہیں، کھانا بناتی ہیں. عام ہندوستانی خواتین خود سے ٹکٹ خرید کر سینما ہال میں فلم دیکھنے نہیں جاتی ہیں۔ انہیں گھر میں پائیریٹڈ سی ڈیز پر فلم دیکھنے کو ملتی ہے۔ اگر یہ چیزیں بدل جائیں، اگر بڑی تعداد میں خواتین بھی خود سے ویڈیوز دیکھنے جانے لگیں تو اس کا اثر فلموں اور ہماری فیس پر براہ راست پڑے گا‘۔

تو کیا یہ سمجھا جائے کہ اگر خواتین ناظرین کے طور پر ایک بڑا بازار بن کر ابھرے تو ہیروئن کی بھی اہمیت بڑھے گی یا خواتین پر مبنی فلمیں زیادہ ہوں گی اور ہیروئنوں کو زیادہ پیسے بھی ملیں گے؟

مثال کے طور پر کرینہ کپور کی فلم ہیروئن کی کافی شہرت ہے لیکن بتایا یہ جا رہا ہے کہ ان کی یہ فلم تقسیم کاروں میں اتنے اونچے دام پر فروخت ہوئی جتنی کہ سلمان اور شاہ رخ خان کی بكتي ہیں۔ ظاہر ہے فلم سازوں کو پہلے سے ہی اس کا علم ہوتا ہے اور وہ ہیروئنوں کا معاوضہ بھی اسی تناسب سے رکھتے ہیں۔ .

فلم کاروبار سے وابستہ لوگ مستقبل کے حوالے سے زیادہ پر امید نہیں ہیں۔ جے پرکاش چوكسے کہتے ہیں کہ ’ودیا بالن نے دی ڈرٹي پکچر جیسی ہٹ دی ہے لیکن آپ کو کیا لگتا ہے کہ ان کی اور عمران ہاشمی کی آنے والی فلم گھن چكّر میں ودیا بالن کو عمران سے کئی گنا زیادہ پیسہ ملے گا۔ ایسا نہیں ہو گا‘۔

تجزیہ نگار کومل نہاٹا بھی اس معاملے پر پرامید نہیں نظر آئے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جتنا پیسہ ہیرو کو ملتا ہے اگر ہیروئن کو بھی دینے لگیں تو پروڈیوسر کا ديواليہ نکل جائے گا کیونکہ لوگ ہیرو کے نام پر ہی فلم دیکھتے ہیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہیروئن کو کبھی بھی اتنے پیسے ملیں گے جتنے ہیرو کو ملتے ہیں‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔