جنگی کیمپ یا فراموشی سے فرار

آخری وقت اشاعت:  منگل 25 ستمبر 2012 ,‭ 19:15 GMT 00:15 PST

نام کتاب: فراموشی سے فرار

Escape From Oblivion

مصنف: اکرام سہگل

صفحات: 138

قیمت: 695 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

یہ کتاب ایک ایسے پاکستانی فوجی افسر کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جو مشرقی پاکستانیوں کے خلاف فوجی آپریشن کے ہند و پاک جنگ 1971 بن جانے کے بعد جنگی قیدی بنا اور پھر وہاں سے فرار ہو کر پاکستان آنے میں کامیاب ہوا۔

اس فوجی آپریشن کی شاید ایک اہم بات یہ ہے کہ آپریشن کرنے والے فوجی جوانوں اور افسروں میں مشرقی پاکستانی یا مشرقی پاکستانی جوانوں اور فوجی افسروں کی تعداد اتنی تھی کہ ان کے لیے آٹے میں نمک کی مثال بھی استعمال نہیں کی جا سکتی۔

پاکستانی فوجی افسر کی یادیں

یہ کتاب ایک ایسے پاکستانی فوجی افسر کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جو مشرقی پاکستانیوں کے خلاف فوجی آپریشن کے ہند و پاک جنگ 1971 بن جانے کے بعد جنگی قیدی بنا اور پھر وہاں سے فرار ہو کر پاکستان آنے میں کامیاب ہوا۔

اکرام سہگل اس ناقابلِ تعین تناسب رکھنے والے نمک کا ایک زرہ تھے۔ زرہ بھی پورا نہیں کیونکہ ان کی والد بنگالی نہیں تھے۔ نیم مشرقی پاکستانی کی اصطلاح میں نے اسی لیے استعمال کی ہے۔ آپ چاہیں تو انھیں نیم مغربی پاکستانی بھی کہہ سکتے ہیں اور نیم پاکستانی بھی۔

یہ اصطلاح بڑی حد تک اس سوچ کا اظہار کرتی ہے جس نے مشرقی پاکستانیوں کے خلاف آپریشن کے حالات پیدا کیے اور جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندستان نے اسے جنگ میں تبدیل کر دیا۔ اس جنگ میں پاکستان کو شکست ہوئی اور اس شکست میں بھی سب سے بڑا سبب یہی سوچ اور اس کے محرکات تھے۔

جنگی قیدیوں کے ہندستانی کیمپ سے فرار ہونے والے اس فوجی افسر کی منزل پاکستان رہ جانے والا حصہ تھا، اس لیے اسے نیم پاکستانی ہی کہنا مناسب ہو گا۔ اس نیم پاکستانی کو اپنے اِس ’آدھے پن‘ کی بھی قیمت ادا کرنی پڑی کیونکہ جب وہ فرار کے بعد پاکستان پہنچنے کامیاب ہوا تو اسے اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے بہت سے ناپسندیدہ مرحلوں سے گذرنا پڑا۔

اس کتاب میں ان مراحل کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں تو وہ یادداشتیں ہیں جو ان ناخوشگوار واقعات کے بارے میں بتاتی ہیں، جنھیں نگلنے اور مٹانے میں فراموشی بھی ناکام رہی۔ شاید یہ یادیں، بہت چبھنے اور اندر ہی اندر تکلیف دینے والی تھیں اور مصنف کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ انھیں لفظوں میں منتقل کر دے۔ نفسیات والے کہتے ہیں کہ ایسے امراض میں علاج کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔

جنگی کیمپ کے حالات

یہ کتاب سطروں اور لفظوں کے درمیان اور خالی حاشیوں میں موجود ساری ان کہی باتوں کو ہی بیان نہیں کرتی۔ ہندستانی حراست، جنگی کیمپ کے حالات اور نگرانی کرنے والے اُن فوجیوں کے روّیوں کے بارے میں بھی بتاتی ہے جو ہندستان میں موجود مختلف قومیتوں کے تھے۔اس کے علاوہ یہ اس افسر کی ہمت اور حوصلے کی بھی روداد ہے جس کا نام اکرام سہگل ہے۔

یہ کتاب سطروں اور لفظوں کے درمیان اور خالی حاشیوں میں موجود ساری ان کہی باتوں کو ہی بیان نہیں کرتی۔ ہندستانی حراست، جنگی کیمپ کے حالات اور نگرانی کرنے والے اُن فوجیوں کے روّیوں کے بارے میں بھی بتاتی ہے جو ہندستان میں موجود مختلف قومیتوں کے تھے۔اس کے علاوہ یہ اس افسر کی ہمت اور حوصلے کی بھی روداد ہے جس کا نام اکرام سہگل ہے۔

اکرام سہگل اب صرف سابق فوجی افسر ہی نہیں ہیں۔ اگر صرف سابق فوجی رہتے تو انھیں کوئی بھی نہ جانتا۔ انھوں نے لوٹنے کے ایک عرصے بعد انگریزی میں کالم لکھنے شروع کیے، جو زیادہ تر تجزیاتی نوعیت کے ہوتے تھے اور اس طرح انھوں نے اپنے لیے ’دفاعی تجزیہ کار‘ کی شناخت پیدا کی۔

پاکستان کے معروف کالم نگار کے مطابق اب تو کچھ سہولت ہو گئی ہے لیکن پہلے تو انگریزی میں لکھنے کے باوجود اتنا معاوضہ نہیں ملتا تھا کہ کالم لکھ کر گھر چلایا جا سکے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اکرام سہگل عرصے سے ایک بڑی سکیورٹی ایجنسی بھی چلا رہے ہیں۔

وطن سے محبت

اکرام سہگل کی کتاب میں پاکستان سے ان کی جو محبت اور وفاداری جھلکتی ہے، وہ اُس تصورِ وطن کے برخلاف ہے جس کے لیے مادرِ وطن کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ شاید کچھ لوگوں کو حیرت بھی ہو کہ مصنف نے ماں دھرتی پر باپ کے ملک کو ترجیح کیوں دی؟۔

ایک سو تیس سے زائد صفحات پر پھیلی ان یادداشتوں کو بیان کرنے کا انداز اتنا پکڑنے والا ہے کہ فکشن کا گمان ہوتا ہے۔ ان میں، اُن کی ہندستانیوں سے وہ ملاقاتیں اور مڈبھیڑیں بھی ہیں جن کے سبب وہ کولکتہ پہنچ کر امریکی قونصلیٹ سے پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور پھر پاکستان پہنچے۔

اکرام سہگل نے جنگی کیمپ میں ننانوے دن گذارے اور سوویں دن فرار کی راہ اختیار کی۔

ان یادداشتوں میں جنگی کیمپ کے علاوہ ان دنوں کی یادیں بھی ہیں جب انھیں نیم پاکستانی ہونے کی بنا پر ہیڈکوارٹرز اور انٹر سروسز سکریننگ کمیٹی کی چھان پھٹک سے گذرنا پڑا۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ تفصیلات انھوں نے اس لیے بیان نہیں کیں کیونکہ وہ ’سرکاری رازوں‘ کے زمرے میں آتی تھیں۔

برصغیر میں دوسری بڑی تقسیم کو شکل دینے والی جنگ کے ان دنوں کے بارے میں اب تک بہت سے پاکستانیوں، ہندستانیوں اور بنگلہ دیشیوں نے کتابیں لکھی ہیں لیکن اکرام سہگل کی کتاب اس لیے کچھ منفرد ہے کہ اس ان کا انداز فطری اور خود اپنے تجربات اور مشاہدات پر مبنی ہے۔

اکرام سہگل کی کتاب میں پاکستان سے ان کی جو محبت اور وفاداری جھلکتی ہے، وہ اُس تصورِ وطن کے برخلاف ہے جس کے لیے مادرِ وطن کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔ شاید کچھ لوگوں کو حیرت بھی ہو کہ مصنف نے ماں دھرتی پر باپ کے ملک کو ترجیح کیوں دی؟۔

اس کا درست جواب کیا ہو سکتا ہے؟ میں اس بارے میں پورے وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن غالبًا اس کا ایک سبب اپنی والدہ کے ہم نسلوں کے خلاف ایک متنازع آپریشن کا حصہ بننا بھی ہو۔

مشرقی پاکستان میں آپریشن سے پہلے، آپریشن کے درمیان اور آپریشن کے بعد جو کچھ ہوا، اس میں آپریشن کے دوران کو اس لیے پہلے اور بعد کے برابر نہیں رکھا جاتا کیونکہ دوران والے حصے میں باقاعدہ مسلح فوج ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہی تھی جن کی اکثریت نہتی تھی اور جنھیں اپنا جرم صرف یہ دکھائی دے رہا تھا کہ انھوں نے اپنی پسند کی پارٹی کو ووٹ دیے ہیں یا یہ کہ وہ آپریشن کرنے والوں کہ ہم نسل اور ہم زبان نہیں ہیں۔

اکرام سہگل نے اسی آپریشن کے دوران اپنا شمار ان لوگوں میں کرایا جو آپریشن کرنے والے تھے اور شاید اسی لیے ان کے پاس جنگی کیمپ سے فرار ہو کر ’اِدھر‘ آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔

اگرچہ وہ لکھتے ہیں کہ ’میں 27 مارچ 1971 کو ایسٹرن کمانڈ کے لیے سامان لے جانے والی ایک فلائٹ پر ڈھاکہ پہنچا۔ ڈھاکہ اس وقت مقتل بنا ہوا تھا اور بنگالی ماں اور پنجابی باپ سے ہونے کہ باعث میرے لیے ایسا جذباتی میدان تھا جس میں بارودی سرنگیں بچھی ہوں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔