برفی کی آسکر میں نامزدگی پر اعتراضات

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 11:31 GMT 16:31 PST

ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم برفی کے کچھ مناظر براہ راست چارلي چیپلن کی فلم سے لئے گئے ہیں

آسکر کے غیر ملکی فلموں کے زمرے میں بھارت کی طرف سے فلم ’برفي‘ کے نامزد ہونے کے بعد جہاں فلم سے وابستہ لوگ خوش ہیں تو وہیں بہت لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا واقعی ’برفی‘ آسکر کے قابل ہے ۔

اگر ایک طبقہ یہ کہہ رہا ہے کہ ’برفی‘ کا آسکر کے لیے نامزد ہونا صحیح ہے تو دوسرا طبقہ یہ سوال اٹھا رہا ہے کہ کیا جیوری کے پاس ’برفی‘ سے بہتر کوئی فلم نہیں تھی جسے بھارت کی طرف سے بھیجا جا سکے۔

’برفی‘ کے منتخب ہونے کے بعد کچھ فلم ناقدین نے اس بات کو بھی اجاگر کیا ہے کہ برفی کے کچھ مناظر براہ راست چارلي چیپلن کی فلم سے لیے گئے ہیں۔ تاہم فلم کے ہدایت کار انوراگ باسو کا کہنا ہے کہ اپنی فلم میں ان مناظر کے ذریعے وہ چارلي چیپلن کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے۔

اب یہاں غور طلب ایک اور بات بھی ہے۔ میڈیا کا ایک طبقہ اور کچھ مداح دل و جان سے چاہتے ہیں کہ ان کی پسندیدہ فلم ’برفی‘ آسکر جیسا بڑا انعام جیت جائے اور یہ وہی لوگ ہیں جو بھارتی فلموں کی یہ کہہ کر نکتہ چینی کرتے ہیں کہ ان فلموں میں ناچ گانا ہی اہم ہوتا ہے اور تخلیق سازی پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔

نامور فلم ساز شیام بینیگل نے بی بی سی ہندی کے ارب پنرجی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھ پا رہے ہیں کہ آسکر ایوارڈ کے لئے ’برفی‘ کے منتخب ہونے پر اتنا ہنگامہ کیوں مچا ہے۔

"آسکر میں غیر ملکی فلموں کی کیٹیگری بنائی ہی اس لئے گئی ہے تاکہ ہم اپنی فلمیں اس میں بھیج سکیں۔ لیکن اس کے مقابلے کے لئے ہمیں اپنی بہترین فلمز بھیجنا چاہیے۔ ہم جو فلم بھیج رہے ہیں ہمیں اس پر پورا یقین ہونا چاہیے پھر چاہے وہ انعام جیتے یا نہیں وہ اور بات ہے۔"

شرمیلا ٹیگور

حالانکہ خود بینیگل نے ابھی تک یہ فلم نہیں دیکھی ہے پر پھر بھی وہ کہتے ہیں، ’فلم فیڈریشن کا کام ہے آسکر کی نامزدگی کے لیے آئی کئی فلموں میں سے کسی بھی ایک کو منتخب کرنا۔اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ جو فلم منتخب ہوئی ہے وہ سب سے بہتر ہے۔‘

بھارت کی جانب سے آج تک چالیس سے زائد فلمیں آسکر کے لیے نامزد کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر فلمز ہندی زبان میں تھیں۔اعداد و شمار کے مطابق علاقائی سینما، بھارتی فلم فیڈریشن کا زیادہ پسندیدہ نہیں رہا۔ آٹھ بار تامل فلموں کو بھیجا گیا تو دو بار بنگالی زبان میں بنی فلم آسکر جانے میں کامیاب ہوئی۔ وہیں مراٹھی، ملیالم اور تیلگ فلمیں اب تک صرف ایک ایک ہی بار چنی گئی ہیں۔

سنہ انیس سو ستاون میں محبوب خان کی ’مدر انڈیا‘، سنہ انیس سو اٹھاسی میں میرا نائر کی ’سلام بمبئی‘ اور دو ہزار ایک میں اشوتوش گوواركر کی لگان کو آسکر ایوارڈز کی آخری فہرست میں نامزدگی حاصل کرنے کا اعزاز تو ملا لیکن یہ فلمیں بھی اس ایوارڈ کو جیت نہیں پائی۔

بھارت کی جانب سے اکیڈمی ایوارڈ یا آسکر ایوارڈز میں بھیجی جانے والی فلموں سے تنازعات کا وابستہ ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بھارت میں سالانہ نو سو فلمیں بنائی جاتی ہیں جن کے معیار کے بارے میں کئی سوالات ہیں۔

کیا واقعی برفي اس سال کی بہترین فلم ہے؟ ’ بھارتی سینسر بورڈ کی سابقہ صدر شرمیلا ٹیگور کہتی ہیں کہ ’آسکر بہت بڑا اعزاز ہے تو ہمیں ان میں حصہ ضرور لینا چاہیے۔ آسکر میں غیر ملکی فلموں کی کیٹیگری بنائی ہی اس لئے گئی ہے تاکہ ہم اپنی فلمیں اس میں بھیج سکیں۔ لیکن اس کے مقابلے کے لئے ہمیں اپنی بہترین فلمیں بھیجنا چاہیے۔ ہم جو فلم بھیج رہے ہیں ہمیں اس پر پورا یقین ہونا چاہیے پھر چاہے وہ انعام جیتے یا نہیں، وہ اور بات ہے۔‘

انوراگ کشپ جن کی فلم ’گینگز آف واسع پور‘ بھی ’برفی‘ کے ساتھ آسکر کے لیے بھیجے جانے والی فلموں کی فہرست میں تھی، کا کہنا ہے کہ ’بھارت میں آسکر کو لے کر لوگ کچھ زیادہ ہی جذباتی ہیں۔ انوراگ یہ بھی خیال ہے کہ آسکر کے لیے فلم کے انتخابات کا عمل شفاف نہیں ہے۔‘

انوراگ کا کہنا ہے کہ وہ تو اس بات سے بھی حیران تھے کہ جیوری کے سامنے اپنی فلم کو پیش کرنے کے لئے فلم کے پروڈیوسر کو پچاس ہزار روپے کی رقم جمع كرواني پڑتی ہے۔

"مان لیجئے آپ کی فلم بھارت کی جانب سے آسکر میں بھیجی گئی ہے۔ آپ کے پاس کم سے کم دس لاکھ روپے ہونا چاہیے تاکہ آپ امریکہ جا کر آسکر کی جیوری میں شامل ہر شخص کو اپنی فلم دکھائیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جیوری کو فلم دکھا کر آپ ان کے فیصلے کو تبدیل کر دیں گے لیکن ہر رکن کو فلم دکھانا اپنے آپ میں ہی ایک بڑی بات ہے۔"

فلم ساز شیام بینیگل

فلم ساز شیام بینیگل کا کہنا ہے،’مان لیجیے آپ کی فلم بھارت کی جانب سے آسکر میں بھیجی گئی ہے۔ آپ کے پاس کم سے کم دس لاکھ روپے ہونا چاہیے تاکہ آپ امریکہ جا کر آسکر کی جیوری میں شامل ہر شخص کو اپنی فلم دکھائیں۔ ایسا نہیں ہے کہ جیوری کو فلم دکھا کر آپ ان کے فیصلے کو تبدیل کر دیں گے لیکن ہر رکن کو فلم دکھانا اپنے آپ میں ہی ایک بڑی بات ہے۔‘

آخر آسکر کے لیے بھیجے جانے والی فلم کا انتخاب ہوتا کیسے ہے؟ فلم فیڈریشن آف انڈیا ایک کمیٹی کا انتخاب کرتی ہے جو یہ طے کرتی ہے کہ اس سال ریلیز ہونے والے فلموں میں سے کون سی فلم آسکر میں بھیجنے کے قابل ہے۔ اس کمیٹی میں فلموں سے متعلق کئی لوگ جیسے فلم ہدایت کار، مصنف اور فلم ساز شامل ہوتے ہیں۔ یہ کمیٹی جو فلم چنتی ہے پھر وہ فلم سب ٹاٹلس (ترجمے) کے ساتھ آسکر کی جیوری کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔

ہو سکتا ہے کہ کمیٹی میں شامل لوگ جس فلم کا انتخاب کریں اس نے باکس آفس پر کئی ریکارڈ توڑے ہوں لیکن پھر بھی انڈسٹری میں بہت لوگ مانتے ہیں کہ کمیٹی میں شامل لوگ اس قابل ہیں ہی نہیں کہ وہ آسکر کے لیے ایک اچھی فلم کا انتخاب کر سکیں۔

فلم ساز انوراگ کشپ کا کہنا ہے کہ اس کمیٹی میں کون کون شامل ہے ان کے نام کبھی سامنے ہی نہیں آتے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔