پچاس دن کے لیے، باتیں اور ملاقاتیں

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 14:39 GMT 19:39 PST

باتوں کی پیالی میں چائے

نام کتاب: باتوں کی پیالی میں چائے

مصنف: خرم سہیل

صفحات: 408

قیمت: 600 روپے

ناشر: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید اسکوائر، اردو بازار، کراچی

یہ خرم سہیل کی پہلی کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے۔ اس کتاب میں پچاس کے لگ بھگ ملاقاتیں ہیں۔ جن میں کوئی تیس تو ادیبوں اور شاعروں سے ہیں، چودہ تھیئٹر، ریڈیو، ٹی وی اور فلم سے تعلق رکھنے والوں سے، اور ایک ایک سماجی رہنما، تاریخ داں، سماجی تاریخی تجزیہ کار، کھلاڑی اور سفارتکار سے۔ اور سب باتوں کو چھوڑ کر اگر صرف اس بات کو سامنے رکھا جائے کہ ملاقاتیں کرنے والے کو کن کن شعبوں پر دسترس ہے تو بھی کم از کم مجھ سا آدمی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

اس پر اس دوسرے ایڈیشن میں ایسے ایسے لوگوں کی تعریف و توصیف شامل ہے، جو با آسانی کسی کو قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتے۔ ان میں سے ان لوگوں کو نکال بھی دیں جن کے انٹرویو اس کتاب میں ہیں تو بھی میرے متاثر ہونے کے لیے بہت کچھ ہے۔

ایک عرصے سے میرا بھی روزگار کیونکہ صحافت سے وابستہ ہے تو مجھے بھی کچھ کچھ اندازہ ہے کہ صحافی جب کسی کا انٹرویو کرتے ہیں تو کس طرح کی تیاری کرتے ہیں۔ اسی کتاب میں مظہر الاسلام نے اوریانہ فلاسی یا فلاچی کے انٹرویو کے لیے جانے والے صحافی کا ذکر کیا ہے۔ خود ان کے الفاظ میں اس صحافی کا کہنا ہے کہ ’جب مجھے اوریانہ فلاسی کا انٹرویو لینے کے لیے کہا گیا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ جیسے بلی کو ڈرانے کے لیے چوہے کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں‘۔ اس جملے کا ایک پہلو تو وہ ہے جس کی نشاندہی مظہر الاسلام نے کی ہے۔ دوسرا پہلو خود اسی جملے میں ہیں۔ اس میں چوہے کی مثال خوب ہے۔ دو تین دہائی یا اس سے بھی کچھ پہلے، انگریزی کے کسی اخبار میں ایک شراب کا اشتہار شائع ہوا کرتا تھا، جس میں ایک چوہا شراب کی بوتل میں دم ڈبو کر چوستا ہے اور اکڑ کر پوچھتا ہے ’کہاں ہے بلی؟‘۔ یاد رہے کہ اوریانہ فلاچی کی اپنی شہرت بڑی شخصیتوں سے ’بےباک‘ ملاقاتوں اور ملاقاتوں پر ہی بنی تھی۔

اب آپ کے سامنے دو چوہے ہیں۔ لیکن خرم سہیل ان دونوں میں سے نہیں۔

یہ انٹرویو صحافتی ہیں۔ صحافتی انٹرویو میری ناقص رائے میں دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو خبروں کے لیے کیے جاتے ہیں اور دوسرے وہ جو اخبار کے میگزین کے لیے کیے جاتے ہیں۔ ویسے تو ماہناموں، ہفت روزوں اور روزناموں کے لیے بھی ایسے انٹرویو کیے جاتے ہیں جو مخصوص موضوعاتی جریدوں کے لیے کیے جانے والے انٹرویوز سے کسی طور کم نہیں ہوتے۔ لیکن میں صرف عمومی صحافتی انٹرویوز کی بات کر رہا ہوں۔ ورنہ جیسے انٹرویو ’پیرس ریویو‘ یا اس نوع کے جریدوں میں شائع ہوتے ہیں، روزنامہ ان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ متن کے لیے درکار جگہ کی وجہ سے بھی اور متن کو نوعیت کی وجہ سے بھی۔

"مشہور اور ممتاز شخصیات کے انٹرویوز میں یہ مشکل ہوتی ہے کہ ان سے کیا بات کی جائے۔ اس لیے عام طور پر کوشش کی جاتی ہے کہ ان کی جو باتیں ریکارڈ پر نہیں ہیں انھیں ریکارڈ پر لایا جائے تا کہ انٹرویو ایک حوالہ بن جائے"

جو انٹرویو خبروں کے لیے کیے جاتے ہیں، وہ بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن میں انٹرویو لینے والا کسی ماہر سے کسی خاص معاملے پر بات کرتا ہے۔ دوسرے وہ جس میں انٹرویو دینے والا اپنی مرضی سے بات کرتا ہے اور انٹرویو لینے والا اس میں اپنی صلاحیت کے مطابق متن کا انتخاب کرتا ہے۔

روزناموں کے میگزینز کے لیے کیے جانے والے انٹرویو ان سے قدرے مختلف ہوتے ہیں۔ ان میں جن شخصیات کے انٹرویو کیے جاتے ہیں، وہ بالعموم پہلے سے جانی پہچانی ہوتی ہیں اور ان کے بارے میں بہت سے لوگ بہت کچھ جانتے ہیں اور وہ اسی بنا پر اہم ہوتی ہیں۔ جیسے خرم نے جن پچاس شخصیات کے انٹرویو کیے ہیں ان میں سے دو ہی ایسی ہیں جن کے بارے پاکستان کے اور اردو پڑھنے والے لوگ یقینًا بہت کم جانتے ہوں گے۔ ان میں ایک سفارتکار رابرٹ ڈبلیو گپسن ہیں اور دوسری شخصیت ہیں خاتون مورخ ایلس ایلبینیا۔

مشہور اور ممتاز شخصیات کے انٹرویوز میں یہ مشکل ہوتی ہے کہ ان سے کیا بات کی جائے۔ اس لیے عام طور پر کوشش کی جاتی ہے کہ ان کی جو باتیں ریکارڈ پر نہیں ہیں انھیں ریکارڈ پر لایا جائے تا کہ انٹرویو ایک حوالہ بن جائے۔ یعنی ان کے ذاتی کوائف اور خاندانی حالات۔ اس کوشش میں کچھ جرائد نے اس طرح کے انٹرویو بھی شروع کیے اور کچھ ٹی وی چینلوں پر تو اب بھی ایسے ہی انٹرویو کیے بھی جاتے ہیں جیسے، آپ کا پسندیدہ رنگ، لباس، کار، موسم، جرابیں، رومال، کھانا وغیرہ وغیرہ۔

"یہ کتاب ایسی ہے کہ اسے روزانہ سونے سے پہلے پڑھا جا سکتا ہے۔ بہت نہیں تو ایک انٹرویو روز۔ لیجیے، پچاس دن کے لیے لطف اور معلومات کا انتظام ہوگیا۔ اس لیے جنھیں سونے پہلے پڑھنے کی عادت ہے، یہ کتاب ان کے لیے ایک تحفہ ہے اور جنھیں یہ عادت نہیں وہ اس کتاب کے لیے بنا لیں"

ذاتی طور پر مجھے ادیبوں، شاعروں اور فنکاروں کے بچپن اور ابتدائی خاندانی حالات میں بہت دلچسپی ہوتی ہے۔ شاید دوسرے لوگوں کو بھی ہوتی ہے، نہیں تو لوگ حالاتِ زندگی اور خود نوشتیں کیوں پڑھتے۔ اس لیے اگر انٹرویوز میں یہ حصے بھی آتے ہیں تو اہمیت کے حامل ہوتے ہیں کیونکہ ان سے لوگوں کو تحریک مل سکتی ہے۔

لیکن ایسے انٹرویوز سے جن میں چوہے بلی کا رشتہ ہو یا چوہے کی دم بھیگی ہوئی ہو زیادہ اچھے انٹرویو وہ ہوتے ہیں، جن میں انٹرویو لینے والا ان لوگوں کی زبان بن جاتا ہے جو زیادہ سے زیادہ جاننا چاہتے ہیں۔ اپنے سوال کا جواب سنتے ہیں۔ اس میں سے جو سمجھ میں نہیں آتا اس کے بارے میں پوچھتے ہیں اور ایسے ہی پوچھتے جاتے ہیں اور سنتے جاتے ہیں۔

سہیل وڑائچ نے انٹرویو کی اسی جہت کو ایک نئی شکل دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ خرم سہیل اپنے انٹرویوز جہاں اپنے قاری کے علم میں اضافہ کرتے ہیں وہاں انٹرویوی کے جذبات اور احساسات بھی پوری سچائی سے بیان کرتے ہیں۔

خرم کے انٹرویو کتابی شکل میں شائع ہو گئے ہیں، فراست رضوی کا کہنا کہ انتخاب بہت کڑا کیا گیا ہے، ورنہ کئی جلدیں درکار ہوتیں۔ چلیں، یہ پچاس تو محفوظ ہوگئے۔ ورنہ تو جس ملک میں سرکاری ریکارڈ نہیں ملتا وہاں اخباروں کی فائلیں کہاں ملتیں۔

خرم سہیل اب کراچی میں جاپان کے قونصل خانے سے وابستہ ہیں۔ اس سے پہلے وہ تھیئٹر اور ریڈیو سے بھی وابستہ رہے اور ملازم و آزاد صحافی کے طور پر بھی کام کرتے رہے۔ ان کے انٹرویوز میں آپ کو ملاقات میں موجود ہونے کا مزہ بھی ملے گا۔

یہ کتاب ایسی ہے کہ اسے روزانہ سونے سے پہلے پڑھا جا سکتا ہے۔ بہت نہیں تو ایک انٹرویو روز۔ لیجیے، پچاس دن کے لیے لطف اور معلومات کا انتظام ہوگیا۔ اس لیے جنھیں سونے پہلے پڑھنے کی عادت ہے، یہ کتاب ان کے لیے ایک تحفہ ہے اور جنھیں یہ عادت نہیں وہ اس کتاب کے لیے بنا لیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔