’لتا منگیشکر مقبولیت کی بھوکی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 27 ستمبر 2012 ,‭ 12:50 GMT 17:50 PST

شاہد رفیع کا کہنا ہے کہ دھیرے دھیرے لوگ لتا کو بھول رہے ہیں اس لیے وہ ایسا کر رہی ہیں۔

اس ہفتے بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر تراسی سال کی ہو جائیں گی اس موقع پر انہوں نے ایک اخباری جریدے کو انٹرویو میں ایک بار پھر ماضی کے مشہور گلوکار محمد رفیع کے ساتھ اپنے اختلاف کا ذکر چھیڑا ہے۔

اس ذکر پر محمد رفیع کے بیٹے شاہد رفیع نے جوابی حملہ کرتے ہوئے لتا کو ’مقبولیت کا بھوکا‘ کہہ ڈالا ہے۔

وہ تو یہاں تک کہہ گئے کہ ’اب چونکہ لتا جی کے پاس کوئی کام نہیں اور دھیرے دھیرے لوگ انہیں بھول رہے ہیں اس لیے وہ ایسا کر رہی ہیں۔‘

دراصل میگزین سے ہوئی اس بات چیت میں لتا منگیشکر نے بتایا تھا کہ کس طرح ان کے اور محمد رفیع کے درمیان اس زمانے میں گلوکاروں کو ملنے والی رائلٹی کے بارے میں تلخ کلامی ہو گئی تھی اور لتا نے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ محمد رفیع کے ساتھ نہیں گائیں گی۔

لتا منگیشکر نے اس جھگڑے کے بعد تین سال تک محمد رفیع کے ساتھ کوئی گیت نہیں گایا۔

لتا منگیشکر نے یہ بھی کہا کہ موسیقار جے كشن کے کہنے پر محمد رفیع نے انہیں ایک خط لکھ کر اس بات کی معافی مانگی جس کے بعد ہی انہوں نے محمد رفیع کے ساتھ گانا گانا شروع کیا لیکن ان کے دل سے کڑواہٹ کبھی ختم نہیں ہوئی۔

ممبئی میں بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے محمد رفیع کے بیٹے شاہد رفیع نے اس بات کو سرے سے ہی غلط قرار دے دیا کہ ان کے والد محمد رفیع نے کبھی بھی لتا منگیشکر کے نام کوئی معافی نامہ لکھا تھا۔

"لتا جی کا یہ کہنا کہ رفیع صاحب کے معافی مانگنے کے بعد بھی ان کے دل میں رفیع صاحب کے لئے کڑواہٹ تھی بتاتا ہے کہ وہ کس طرح کی فنکارہ ہیں۔ ایک سچا فنکار کبھی اپنے دل میں ایسی کوئی بات نہیں رکھتا۔ فنکار کا کام ہے اپنا کام کرنا نا کہ کسی سے نفرت کرنا۔ لتا جی نئی نسل کے لیے ایک غلط مثال قائم کر رہی ہیں۔"

شاہد رفیع

شاہد کہتے ہیں، ’ کیا لتا جی کے پاس ثبوت کے طور پر وہ خط ہے جس میں میرے والد نے ان سے معافی مانگی تھی۔ اگر وہ ایسا کوئی بھی خط دکھا دیں تو میں خود لتا جی سے تحریری معافی مانگوں گا۔ میں جانتا ہوں کہ میرے والد نے کبھی بھی ایسا کوئی خط انہیں لکھا ہی نہیں تھا۔‘

شاہد تو یہاں تک کہہ گئے، ’لتا جی کا یہ کہنا کہ رفیع صاحب کے معافی مانگنے کے بعد بھی ان کے دل میں رفیع صاحب کے لیے کڑواہٹ تھی بتاتا ہے کہ وہ کس طرح کی فنکارہ ہیں۔ ایک سچا فنکار کبھی اپنے دل میں ایسی کوئی بات نہیں رکھتا۔ فنکار کا کام ہے اپنا کام کرنا نہ کہ کسی سے نفرت کرنا۔ لتا جی نئی نسل کے لیے ایک غلط مثال قائم کر رہی ہیں۔‘

شاہد یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کا پورا خاندان لتا منگیشکر کی اس بات سے حیران ہے۔ ان کا کہنا تھا ’ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ لتا منگیشکر نے ایسا کس طرح کہا۔ انہیں ایسی باتیں کرنا زیب نہیں دیتا۔ پچاس سال کے بعد اس بات کو دوبارہ اٹھانے کا کیا مطلب ہے۔ ہمیں اس سے دکھ ہوا ہے۔‘

شاہد کے بقول ’یہ لتا منگیشکر کا محمد رفیع سے حسد ہی ہے جو ان سے یہ سب کروا رہا ہے۔‘

محمد رفیع نے کبھی بھی لتا منگیشکر کے نام کوئی معافی نامہ نہیں لکھا: شاہد رفیع

وہ کہتے ہیں،’مجھے لگتا ہے کہ لتا جی کو اس بات کی جلن ہے کہ رفیع صاحب کے چاہنے والے ان کے چاہنے والوں سے زیادہ کس طرح ہیں جب کہ رفیع صاحب کو گزرے زمانہ ہو گیا ہے۔‘

اپنے والد کی تعریف کرتے ہوئے شاہد نے کہا،’میرے والد ایک ورسٹائل گلوکار تھے جو ہر طرح کا گانا گا سکتے تھے لیکن کیا لتا منگیشکر ہر طرح کا گانا گا سکتی ہیں؟ لتا جی اور میرے والد کا تو کوئی مقابلہ ہو ہی نہیں سکتا۔‘

شاہد رفیع کا کہنا ہے کہ ’یا تو لتا منگیشکر اس بات کو ثابت کر دیں کہ محمد رفیع نے ان سے خط لکھ کر معافی مانگی تھی یا پھر خود اس بات کے لیے سب سے معافی مانگ لیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔