’خدا سے ڈرو نہیں اس سے پیار کرو‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 29 ستمبر 2012 ,‭ 07:58 GMT 12:58 PST
او مائی گاڈ میں پریش راول اور اکشے کمار

او مائی گاڈ میں پریش راول اور اکشے کمار میں کافی ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

ایسا بہت کم ہوتا ہے جب کسی فلم کے جائزے کی شروعات فلم کےاختتام سے ہو لیکن فلم ’او مائی گاڈ‘ کے جائزے کی شروعات فلم مبصر ارنب بینرجی نے فلم کے اختتام سے کی ہے۔

اداکار متھن چکرورتی جو فلم میں ایک مذہبی گرو کا کردار ادا کر رہے ہیں فلم کے آخر میں وہ کہتے ہیں ’خدا سے ڈرو مت، خدا سے بس پیار کرو‘۔ اس فلم کے ذریعے یہی پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

’او مائی گاڈ‘ گجراتی ڈرامے ’كانجي بمقابلہ كانجي‘ پر مبنی ہے۔ گجراتی میں یہ ڈرامہ اتنا مقبول ہوا کہ پہلے اسے ہندی میں پیش کیا گیا اور اب اس پر یہ فلم بنائی گئی۔ اگر فلم کی بات کریں تواس فلم میں مذہب پر ہمارے اندھے یقین کی بات کی گئی ہے۔

کہانی کے درمیان میں كانجي بھائي (پریش راول) بھگوان یعنی خدا کی مورتیوں کے تاجر ہیں۔ وہ کہیں سے بھی کم سے کم دام میں بھگوان کی مورتیاں خرید لیتے ہیں اور اس کے بعد اپنی دکان پر ان مورتیوں کو بڑی سے بڑی قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

كانجي بھا‏ئي بھگوان کی مورتیوں کی خرید وفروخت ضرور کرتے ہیں لیکن وہ خود خدا کے منکر ہیں۔

فلم کی کہانی میں اس وقت نیا موڑ آتا ہے جب ایک قدرتی آفت میں كانجي بھائي کی دکان برباد ہو جاتی ہے۔ انہیں انشورنس یا بیمہ کے پیسے اس لیے نہیں ملتے کیونکہ انشورنس میں واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ اگر کسی دیوی کے غضب کی وجہ سے کوئی نقصان ہوتا ہے تو اس کی تلافی نہیں ہو گی۔

او مائی گاڈ میں پربھو دیوا اور سوناکشی سنہا

او مائی گاڈ میں پربھو دیوا اور سوناکشی سنہا کا ئیٹم سانگ بھی ہے۔

اس کے بعد یہیں سے كانجي بھا‏ئي اور خدا کے درمیان جنگ شروع ہوتی ہے۔ اس لڑائی میں ہر طرح کے جائز اور ناجائز حربے استعمال کیے جاتے ہیں جو کہ فلم کو ایک دلچسپ پلاٹ فراہم کرتے ہیں۔

ارنب بینرجی کے مطابق ’ایک بات کے لیے فلم کے ہدایت کار امیش شکلا کی تعریف ضرور کرنا چاہوں گا ’اوہ مائی گاڈ‘ کی بنیاد مذہب پر ہوتے ہوئے بھی فلم میں کسی ایک مذہب پر انگلی نہیں اٹھائی گئی ہے۔‘

انہوں نے کہا فلم میں یوں تو اکشے کمار بھگوان کرشن کے کردار میں ہیں لیکن اگر میں کہوں کہ فلم کے ہیرو پریش راول ہیں تو میرا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا۔ فلم میں اکشے کمار اور پریش راول کے درمیان کی ہم آہنگی بہت عمدہ ہے۔

’ایک اور اہم بات یہ بھی ہے کہ اگر فلم میں پربھو دیوا اور سوناكشي سنہا کا آئٹم نمبر ’گووندا آلا رے‘ نہ بھی ہوتا تو فلم کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ گانا نہ تو سلیقے سے كوریوگراف کیا گیا ہے اور نہ ہی اس گانے میں کوئی خاص بات ہے۔‘

فلم دیکھتے وقت کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے فلم نہیں آپ ڈرامہ ہی دیکھ رہے ہوں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔