’جیسس کرائسٹ سپرسٹار‘ کی پروڈکشن رک گئی

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 ستمبر 2012 ,‭ 13:35 GMT 18:35 PST
جیسس کرائسٹ سوپر سٹار

جیسس کرائسٹ سوپر سٹار اوپیرا کو دنیا بھر میں کئی جگہ پیش کیا جا چکا ہے

جنوبی روس کے شہر روستوو کے ایک تھیٹر نے عیسائیوں کے ایک فرقے کی جانب سے احتجاج کے نتیجے میں اپنے ڈرامے جیسس کرائسٹ سپر سٹار کی پروڈکشن روک دی ہے۔

آئندہ ماہ ایک روسی کمپنی اینڈریو لائڈ ویبر کےاس راک اوپیرا کو روستوو فلہارمونک تھیٹر میں اسٹیج کرنے والی تھی۔

احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اس اوپیرا میں یسوع مسیح کی ’غلط‘ شبیہ پیش کی گئی ہے۔

اس پیشکش کے منسوخ ہونے کی خبر پر اوپیرا میں کردار نبھانے والے اداکار حیرت زدہ ہیں اور مبصر عوامی زندگی میں چرچ کی مداخلت پر نالاں ہیں۔

روستوو ٹائمز اخبار کے مطابق مقامی روسی قدامت پسند عیسائی آرتھوڈاکس فرقے نے روستوو کی عدالت میں یہ شکایت درج کی تھی اس کے علاوہ انھوں نے فلہارمونک کی انتظامیہ کو خط بھی لکھا تھا۔

واضح رہے کہ روستوو دس لاکھ آبادی پر مشتمل شہر ہے۔

ایک نئے قانون کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں خدا پر یقین رکھنے والوں کے تحفظ کی بات کی گئی ہے انھوں نے کہا کہ یہ اوپیرا ’ہتک آمیز‘ ہے اور ایسے کسی پروڈکشن کے لیے روسی آرتھوڈاکس چرچ سے پیشگی اجازت حاصل کرنی چاہیۓ۔

جیسس کرائسٹ

بہر حال یہ واضح نہیں ہے کہ چرچ نے کس قانون کا حوالہ دیا ہے۔

البتہ روس کے ایوان زیریں یعنی ریاستی ڈوما میں فی الحال ایک ایسے قانون پر غور کیا جا رہا ہے جس میں شہریوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کو جرم قرار دینے کی بات کہی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس سال مذہبی حسساسیت روسی سیاست کا اہم مسئلہ بن گئی ہے جب سے تین موسیقاروں کو ماسکو کیتھیڈرل میں سیاسی احتجاجی گیت گانے کے لیے جیل کی سزا دی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔