’تم اتنا جو مسکرا رہے ہو‘ کا راز

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 ستمبر 2012 ,‭ 09:23 GMT 14:23 PST
شبانہ اعظمی

شبانہ اعظمی فلم کے علاوہ تھیئٹر سے بھی وابستہ ہیں۔

جن کی مسکراہٹ پر ’تم اتنا جو مسکرا رہے ہو‘ جیسے گیت فلمائے گئے ہوں اگر وہی آپ سے کہیں کہ ایک زمانے میں وہ مسکرانے سے صرف اس لیے كتراتي تھیں کیونکہ ان کے دانتوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا تو اس بات پر یقین کرنا ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں خود شبانہ اعظمی نے اس بات کا اعتراف کچھ اس انداز میں کیا ’میرے دانت تھوڑے ابھرے ہوئے ہیں، تو جب میں نے اپنے کیریئر کی شروعات کی اس وقت جو فلمی رسالے آتے تھے ان میں میرے دانتوں کا مذاق اڑایا جاتا تھا۔ اس لیے میں اپنے دانتوں کی وجہ سے اپنی ہنسی سے جھجھكنے لگی تھی۔‘

لیکن آج اگر ایسا نہیں ہے، آج شبانہ کھل کر ہنستی ہیں، توآخر کس نے جگایا ان میں یہ اعتماد؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شبانہ اعظمی نے کہا: ’مہیش بھٹ نے مجھ سے کہا کہ تم اپنی مسکراہٹ کو چھپانے کی کوشش کیوں کرتی ہو۔ کیا تمہیں یہ لگتا ہے کہ مسکراہٹ کا دانتوں سے کوئی تعلق ہے؟ اس کا تعلق تو سیدھا آنکھوں سے ہے۔ اگر آپ واقعی دل سے ہنسیں گی تو وہ لوگوں تک ضرور پہنچے گی۔‘

’بھٹ صاحب کی یہ بات سن کر مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی جوگی نے مجھے کوئی نسخہ بتا دیا ہو۔ اس بات کو سن کر میرا کھویا ہوا اعتماد واپس آ گیا۔‘

اعتماد کیا لوٹا، شبانہ نے تو کھل کر ہنسنا شروع کر دیا۔ اب ان کی اس ہنسی پر بھی ایک خاص تبصرہ مہیش بھٹ نے کیا ہے۔

مسکراہٹ کا دانتوں سے کیا تعلق؟

"’مہیش بھٹ نے مجھ سے کہا کہ تم اپنی مسکراہٹ کو چھپانے کی کوشش کیوں کرتی ہو۔ کیا تمہیں یہ لگتا ہے کہ مسکراہٹ کا دانتوں سے کوئی تعلق ہے؟ اس کا تعلق تو سیدھا آنکھوں سے ہے۔ اگر آپ واقعی دل سے ہنسیں گی تو وہ لوگوں تک ضرور پہنچے گی۔"

شبانہ کہتی ہیں: ’بھٹ صاحب کی بات سن کر میں بہت ہنستی تھی، کھل کر ہنستی تھی، تب بھٹ صاحب نے بڑے ہی مزاحیہ انداز میں مجھ سے یہ کہا کہ بھئی ہر بار اپنی بتيسي دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ آج جب مجھ سے لوگ کہتے ہیں کہ میری مسکراہٹ بہت اچھی ہے تو میں بولتی ہوں کہ ایک زمانہ ایسا تھا جب میں اپنے دانت چھپا کر رکھتی تھی کیونکہ لوگ ان کا مذاق اڑاتے تھے۔‘

دانت تو الگ رہے، بطور اداکارہ ایک اور کمی کی وجہ سے شبانہ کو شرمندگی جھیلنی پڑی تھی، جس کا انہیں اپنی پہلی ہی فلم ’انکر‘ میں اس کا سامنا کرنا پڑا تھا حالانکہ انھیں اس فلم کے لیے ایوارڈ بھی ملے تھے۔

اس بارے میں شبانہ نے کہا: ’مجھے ناچنا نہیں آتا تھا۔ نہ اس وقت آتا تھا جب میں نے اپنے کیریئر کی شروعات کی تھی اور نہ ہی آج آتا ہے۔ اس بات کی وجہ سے کئی بار مجھے ذلت برداشت کرنی پڑی۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انھیں جو کردار پسند آتے ہیں وہ وہی کرتی ہیں لیکن آج کل وہ کم ہی فلموں میں کیوں نظر آتی ہیں؟

وہ کہتی ہیں: ’دیکھئے ایسا ہے جو رول میرے پاس آتے ہیں ان میں سے جو کردار مجھے پسند آتے ہیں وہ میں کر لیتی ہوں جو نہیں آتے انہیں میں نہیں کرتی۔ اس سال میں نے تین فلمز کی ہیں، ساتھ ہی میں تھیٹر سے وابستہ ہوں اور اس میں بھی میں مصروف رہتی ہوں۔‘

شبانہ اعظمی جلد ہی میرا نائر کی فلم ’دی ریلکٹینٹ فنڈامنٹلسٹ‘ اور دیپا مہتا کی فلم ’مڈنا‏ئٹس چلڈرن‘ میں نظر آئیں گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔