کڑکتی بجلیوں میں 72 گھنٹےگزارنے کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 4 اکتوبر 2012 ,‭ 20:33 GMT 01:33 PST

ڈیوڈ بلین کے مطابق یہ شعبدہ ان کی دیرینہ خواہشات میں سے ایک ہے

امریکی شعبدہ باز اور فنکار ڈیوڈ بلین نے اپنے نئے شعبدے کے لیے تین دن اور راتیں بجلی کے مصنوعی طوفان میں گزارنے کا اعلان کیا ہے۔

وہ اس عمل کا آغاز جمعہ کو کرنے والے ہیں اور اس کے لیے ان کے گرد بجلی خارج کرنے والے سات کھمبے نصب کیے جائیں گے جو 72 گھنٹے تک بجلی کے ہلکے جھٹکے دیتے رہیں گے۔

اس ایونٹ کو ’الیکٹریفائڈ: ہر لمحہ دس لاکھ وولٹ موجود‘ کا نام دیا گیا ہے۔

بدھ کو نیوریاک میں اس شعبدے کی تشہیری تقریب میں انتالیس سالہ بلین کا کہنا تھا کہ ’میں کئی سال سے یہ کرنا چاہ رہا تھا‘۔

اس عمل کے دوران بلین، زنجیروں کا لباس، ہیلمٹ حفاظتی خود اور ہیڈفونز پہنے رہیں گے۔ انہیں ایک ٹیوب کی مدد سے پانی پلایا جائے گا اور وہ کھانے سے پرہیز کریں گے۔

آہنی لباس اور ہیلمٹ بلین اور بجلی کے کرنٹ کے درمیان حفاظتی دیوار کا کام کرے گا۔

ڈیوڈ بلین کے ڈاکٹر سٹورٹ ویز کا کہنا ہے کہ اس شعبدے میں بڑا خطرہ بجلی کے کرنٹ سے چارج شدہ یا آئیونائزڈ ہوا میں پیدا ہونے والی اوزون اور نائٹرس آکسائیڈ گیسوں سے ہے۔

اس شعبدے کے لیے ہوا کے اخراج کا نظام بھی نصب کیا جا رہا ہے تاکہ بلین کو سانس لینے کے لیے صاف ہوا مل سکے جبکہ ان کی ہیلمٹ پر لگا ہوا شیشہ بالائے بنفشی شعاؤں یا الٹراوائلٹ ریز سے ان کی آنکھوں کو محفوظ رکھے گا۔

ڈیوڈ بلین ماضی میں بھی کئی انوکھے شعبدے دکھا چکے ہیں جن میں لندن میں ہوا میں معلق ڈبے میں چوالیس دن قیام اور نیویارک میں ہی ایک ستون پر پینتیس گھنٹے کھڑے رہنا بھی شامل ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔