مجیب، سارتر اور فنون: نئی کتابوں پر ایک نظر

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 5 اکتوبر 2012 ,‭ 11:30 GMT 16:30 PST

پاکستان میں قید کے شب و روز، شیخ مجیب الرحمان

شیخ مجیب الرحمان، نامکمل یادداشتیں

شیخ مجیب الرحمان، نامکمل یادداشتیں

نام کتاب: شیخ مجیب الرحمان، نامکمل یادداشتیں

صفحات: 323

قیمت: 995 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

یہ کتاب بنگلہ دیش کے بانی اور سابق متحدہ پاکستان کے سب سے منصفانے انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود اقتدار حاصل نہ کر سکنے والے رہنما شیخ مجیب الرحمان کی ان نامکمل یادداشتوں پر مشتمل ہے جو انھوں نے 1967 میں اس وقت گاہے گاہے چار نوٹ بُکس میں تحریر کیں جب انھیں گرفتار کر کے مغربی پاکستان میں قید رکھا گیا۔ ان یادداشتوں سے پاکستان میں اس وقت کے سیاسی حالات کے بارے میں شیخ مجیب الرحمان کا وہ موقف سامنے آتا ہے جسے مغربی پاکستانی ( پاکستانی اسٹیبلشمنٹ) نے کبھی اہمیت کے قابل نہیں سمجھا۔ اس کتاب میں بہت کچھ ایسا ہے جسے ان لوگوں کو ضرور دیکھنا چاہیے جو تاریخ کو جذبات کی عینک سے نہیں دیکھتے۔

ژاں پال سارتر کے افسانے اور ڈرامے

سارتر کے بے مثال افسانے

سارتر کے بے مثال افسانے

نام کتاب: سارتر کے بے مثال افسانے

ترتیب: فہیم شناس کاظمی

صفحات: 288

قیمت: 400 روپے

ناشر: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید اسکوائر، اردو بازار، کراچی

وجودیت نہ تو تبلیغی تصور ہے نہ ہی کوئی فلسفیانہ نظام، اس تصور کا بنیادی وطیرہ ہی محسوساتی ہے۔ اس تصور نے انسانوں کو آزادی اور ’ہونے‘ کے بارے میں نئی طرح سوچنے پر آمادہ کیا ہے۔ محسوساتی ہونے کی بنا پر ہی اس اندازِ فکر نے ادب، ادیبوں اور فنکاروں کو سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ سارتر اس فکر کے سب سے زیادہ معروف اور بڑی حد تک مقبول ترین مفکر اور ادیب ہیں۔ اس کتاب میں ان کے چار افسانے ہیں اور تین ڈرامے ہیں۔ یہ افسانے اور ڈرامے مختلف اوقات میں مختلف لوگوں نے اردو میں منتقل کیے اور اب انھیں فہیم کاظمی نے ایک جگہ کر دیا ہے۔ وہ اس سے پہلے سارتر اور ان کے تصورِ وجودیت کے بارے میں مضامین کا ایک مجموعہ بھی مرتب کر چکے ہیں۔

نیا اردو ناول کہاں سے شروع ہو گا

سیاہ آئینے

سیاہ آئینے

نام کتاب: سیاہ آئینے

مصنف: فاروق خالد

قیمت: 650 روپے

صفحات: 608

ناشر: شہر زاد، 155 بی، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

خالد فاروق نے پہلے افسانے لکھے اور پھر یہ ناول سیاہ آئینے۔ پہلی بار یہ ناول 1977 میں شائع ہوا تھا۔ شاید قوسین لاہور نے شائع کیا تھا۔ پیپر بیک ایڈیشن تھا اور صاف لگتا تھا کہ خاصی بے دلی سے شائع کیا گیا ہوگا۔ اس کے بعد سے یہ ناول مختلف اداروں سے دو بار شائع ہوا اور اس کے بارے میں رائے مسلسل تبدیل اور بہتر سے بہتر ہوتی گئی۔ مجھے اس ناول کے حوالے سے خاص طور پر ڈاکٹر محمد اجمل کی اس رائے سے مکمل اتفاق ہے کہ ’یہ ناول اردو ادب میں ایک نئی روایت کا آغاز ہے اور اس میں ایک عظیم ناول کی اکثر خصوصیات موجود ہیں‘۔ اس ناول کو پاکستان کا’آدم جی، ادبی انعام ‘ بھی دیا جا چکا ہے۔ لیکن ناول کی اچھائی کو اس حوالے سے نہیں پرکھنا چاہیے۔

خود اپنے تماشے کے متمنی کی شاعری

کوئی دیکھ نہ لے

کوئی دیکھ نہ لے

نام کتاب: کوئی دیکھ نہ لے

مصنف: جاوید صبا

صفحات: 301

قیمت: 300 روپے

ناشر: مکتبۂ نگارشmaktabaenigarish@yahoo.com

یہ جاوید صبا کا دوسرا شعری مجموعہ ہے جو کوئی بیس سال کے وقفے سے شائع ہوا ہے۔ اس میں چونتیس صفحات پر ان کے احباب کا اظہار محبت ہے اور یہ محبت ظاہر کرنے والے الیاس کریم، خالد معین اور قیصر منور ہیں۔ جب کہ خود جاوید صبا کا غم و غصہ بھی ہے، اب آپ یہ نہ سمجھیے گا کہ باقی صفحات پر جو غزلیں اور نظمیں ہیں ان میں غم و غصہ نہیں ہے، ہے، لیکن محبت زیادہ ہے۔ اس کتاب کا سرورق جیکسن پولاک کی ایک پنٹنگ ہے۔ اس مجموعے کی تزئین و آرائش عرفان شایان نے کی ہے۔ شاید پیسٹنگ یا جزبندی مناسب ہاتھوں میں نہیں رہی۔

اپنے ہی انداز کی یادوں سے لبریز فنون کا خصوصی شمارہ

فنون

فنون

نام کتاب: فنون (شمارہ خاص، 132)

مدیر: نیّر حیات قاسمی

مدیر اعزازی: ڈاکٹر ناہید قاسمی

صفحات: 612

قیمت: 400 روپے

رابطہ: 251 بلاک، F-2 واپڈا ٹاؤن۔لاہور quarterlyfunoon@gmali.com

فنون شروع ہی سے ایک روایتی جریدہ ہے۔ اس لیے کہ احمد ندیم قاسمی کے ہاتھوں میں رہا ہے اور اب جب وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں تب بھی فنون اپنی ہی یادوں سے لبریز آیا ہے۔ ان کے بعد جب پہلا پرچہ یعنی شمارہ 130 آیا تھا تو میں نے دل میں سوچا تھا کہ پرچہ پہلے سے تیار ہو گا اس لیے سب کچھ ویسا ہی ہے جیسا ہوتا تھا۔ وہی انداز، وہی رکھ رکھاؤ، وہی تہذیب، یہاں تک کہ لہجہ بھی وہی۔ لگتا ہی نہیں کہ قاسمی صاحب نہیں ہیں۔ یہ شمارہ خاص شمارہ ہے اور اس میں غالباً شمارہ 131، 132 کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس لیے صفحات بھی زیادہ ہیں اور تخلیقات بھی۔ فنون اردو کے ان چند رسالوں میں سے ہے جنہیں ادب لکھنے، پڑھانے والوں کو ضرور ہی پڑھنا چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔