انڈین باکس آفس پر باپ بیٹے کا مقابلہ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 04:31 GMT 09:31 PST

بومن ایرانی کا شمار بالی وڈ کے منجھے ہوئے اداکاروں میں ہوتا ہے

بالی وڈ میں منا بھائی ایم بی بی ایس اور تھری ایڈیئٹس جیسی فلموں میں اپنی اداکاری سے شہرت حاصل کرنے والے اداکار بمن ایرانی کے لیے انیس اکتوبر کا دن بہت اہم ہے۔

اس دن نہ صرف ان کے بیٹے كايوذ فلم ساز اور ہدایتکار کرن جوہر کی فلم ’سٹوڈنٹ آف دی ایئر‘ سے اداکاری کے سفر کا آغاز کر رہے ہیں بلکہ ان کی اپنی فلم ’دہلی سفاری‘ بھی اسی دن ریلیز ہو رہی ہے۔

یوں بالی وڈ باکس آفس پر یہ باپ اور بیٹے کا مقابلہ ہے۔

چالیس سال کی عمر پار کرنے کے بعد اداکاری شروع کرنے والے بمن ایرانی اپنی فلم کے لیے تو فکرمند نہیں ہیں لیکن اپنے بیٹے کے فلمی کیریئر کے بارے میں کچھ فکرمند ضرور ہیں۔

بمن کے مطابق وہ عام طور پر فلم کی ریلیز سے پہلے کافی خوش رہتے ہیں لیکن ’سٹوڈنٹ آف دی ایئر‘ کے لیے وہ کافی نروس ہیں۔

بمن کہتے ہیں ’یہ فلم میری نہیں، میرے بیٹے کی ہے اور شاید اس لیے میں نروس ہوں۔ بہت سارے نئے اداکار اس فلم سے اپنی شروعات کر رہے ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’مہیش بھٹ اور ڈیوڈ دھون کے بچے بھی اس فلم میں ہے اور ہم سب کے لیے یہ فلم کافی اہم ہے۔ فلم کی کامیابی میں ہی اس کے فنکاروں کی کامیابی ہوگی‘۔

اپنے بیٹے كايوذ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بمن نے کہا، ’میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس نے کیسا کام کیا ہے۔ ویسے اس نے محنت تو بہت کی ہے۔گھر میں وہ چلتے پھرتے اپنی لائنیں یاد کرتا رہتا تھا۔ میں اسے کہتا تھا کہ اپنی لائنز کے پیچھے کا کام سمجھو اور کیمرے کا سامنا کرو‘۔

’دہلی سفاری‘ ایک تھري ڈي اینیمیٹڈ فلم ہے جس میں بمن ایک ریچھ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔