’مڈ نائٹس چلڈرن بھارت میں ریلیز ہوگی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 10 اکتوبر 2012 ,‭ 04:47 GMT 09:47 PST

دیپا مہتا اور سلمان رشدی دونوں ہی بھارت میں متنازع شخصیات ہیں

بكر ایوارڈ یافتہ متنازع مصنف سلمان رشدی کے ناول ’مڈ نائٹس چلڈرن‘ پر بننے والی فلم کو آخرِ کار بھارت میں تقسیم کار مل گیا ہے۔

’پي وي آر پكچرز‘ کا کہنا ہے کہ انہوں نے بھارت میں فلم کی نمائش کے حقوق خرید لیے ہیں اور وہ اسے دسمبر میں ریلیز کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

اس سے پہلے فلم کی ڈائریکٹر دیپا مہتہ نے کہا تھا کہ انہیں بھارت میں فلم کے تقسیم کار کی تلاش میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پي وي آر پكچرز کے سربراہ کمل گيان چنداني نے ایک نیوز ویب سائٹ کو بتایا،’ریلیز کی تاریخ ابھی طے کی جائے گی لیکن یہ طے ہے کہ اس مارکیٹنگ کی سطح کسی بالی وڈ فلم سے کم نہیں ہوگی‘۔

فلم ساز دیپا مہتا اور سلمان رشدی دونوں ہی بھارت میں متنازع شخصیات ہیں۔

سلمان رشدی کے متنازع ناول ’سٹینک ورسز‘ پر سنہ انیس سو اٹھاسی میں بھارت میں پابندی لگائی گئی تھی جو اب بھی نافذ ہے۔

ان کے خلاف بھارت میں مسلم تنظیمیں مظاہرے بھی کرتی رہی ہیں اور رواں سال جنوری میں جان سے مارنے کی دھمکی ملنے کے بعد، انہوں نے جے پور ادبی میلے میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ ان کی مخالفت اتنی تھی کہ وہ ویڈیو لنک کے ذریعے بھی وہاں موجود لوگوں سے خطاب نہیں کر پائے تھے۔

دیپا مہتا نے اس سے پہلے خواتین کی ہم جنس پرستی پر مبنی فلم ’واٹر‘ بنائي تھی جس کی شوٹنگ ہندوؤں کے مقدم شہر بنارس میں ہونی تھی لیکن ہندو تنظیموں نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔

بعد میں انہوں نے فلم کی شوٹنگ سری لنکا میں کی۔ سلمان رشدی کی کتاب پر مبنی فلم بھی انہوں نے سری لنکا میں ہی شوٹ کی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔