نوبیل انعام برائے ادب چینی ادیب کو مل گیا

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 13:41 GMT 18:41 PST

مو یان دو ہزار بارہ کے نوبیل انعام برائے ادب کے فاتح

چینی ادیب مو یان کو دو ہزار بارہ کا نوبیل انعام برائے ادب دے دیا گیا ہے۔

یان بسیار نویس مصنف ہیں اور اب تک درجنوں افسانے اور ناول شائع کروا چکے ہیں۔ ان کی پہلی کہانی انیس سو اکیاسی میں شائع ہوئی تھی۔

سویڈش اکیڈمی نے ان کے کام کو یہ کہہ کر سراہا کہ اس میں ’واہماتی اصلیت نگاری کا لوک کہانیوں، تاریخ اور جدید دور سے اتصال‘ پایا جاتا ہے۔

ستاون سالہ ادیب چین میں رہائش پذیر پہلے ادیب ہیں جنھیں یہ نوبیل انعام برائے ادب دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے چینی نژاد ادیب گاؤ شنگ جیان کو سنہ دو ہزار میں یہ انعام دیا گیا تھا لیکن وہ فرانسیسی شہری ہیں۔

یان ایک سو نویں ادیب ہیں جنھیں یہ انعام دیا گیا ہے۔ گذشتہ برس سویڈن کے شاعر ٹامس ٹرانسٹرومر کو یہ انعام دیا گیا تھا۔

نوبیل فاؤنڈیشن کی طرف سے دیے جانے والے اس انعام کی مالیت اسی لاکھ کرونا (گیارہ کروڑ تینتیس لاکھ پاکستانی روپے) ہے۔

مو یان کا اصل نام گوان مویے ہیں، لیکن وہ اپنے قلمی نام مو یان سے لکھتے ہیں جس کا چینی زبان میں مطلب ہے ’بولو مت۔‘

انھوں نے اس وقت لکھنا شروع کیا تھا جب وہ چینی فوج میں سپاہی تھے۔ انھیں انیس سو ستاسی میں ’ریڈ سورگم: چین کا ناول‘ پر بین الاقوامی شہرت نصیب ہوئی۔

اس ناول پر مشہور چینی فلم ساز ژانگ یماؤ نے فلم بنائی تھی۔ اس ناول میں انیس سو بیس اور تیس کی دہائیوں میں مشرقی چین کے دیہی علاقوں میں ہونے والے تشدد کی عکاسی کی گئی تھی۔

  • مو یان ان کا قلمی نام ہے جس کا مطلب ہے ’بولو مت‘
  • وہ چین میں مقیم پہلے ادیب ہیں جنھیں ادب کا نوبیل انعام ملا ہے
  • مو یان بے حد زود نویس اور بسیار نویس ہیں اور درجنوں افسانے اور ناول تحریر کر چکے ہیں
  • انھوں نے اس وقت لکھنا شروع کیا جب وہ فوج میں سپاہی تھے
  • ان کے ناول ریڈ سورگم پر مشہور فلمساز ژانگ یماؤ نے فلم بنائی جو بے حد مقبول ہوئی
  • یان کو حال کی بجائے ماضی کو موضوع بنانا زیادہ مرغوب ہے

یان کو چین کے حال کی بجائے ماضی کے بارے میں لکھنا زیادہ مرغوب ہے۔ انیس سو گیارہ کا انقلاب، دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کا چینی علاقوں پر قبضہ اور ماؤزے تنگ کا ثقافتی انقلاب، وغیرہ ان کی کہانیوں کے پس منظر ہیں۔

ان کے دوسرے مشہور ناولوں میں جمہوریہ شراب، زندگی اور موت مجھے تھکا رہی ہیں، اور بڑے پستان اور بھاری کولہے وغیرہ شامل ہیں۔

جب آخرالذکر کتاب انیس سو پچانوے میں شائع ہوئی تو اس کی وجہ سے تنازع اٹھ کھڑا ہوا تھا کیوں کہ اس میں جو طبقاتی کشمکش دکھائی گئی تھی وہ چینی کمیونسٹ پارٹی کی سرکاری پالیسی سے متصادم تھی۔

چینی حکومت نے اس کہانی کی اشاعت رکوا دی تھی لیکن اس کے کئی چوری شدہ ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔

ایک عشرے بعد جب اس کہانی کا انگریزی میں ترجمہ ہوا تو مو یان کو مین ایشین ادبی انعام کے لیے نامزد کیا گیا۔

ان کا تازہ ترین ناول مینڈک چین کی ’ایک بچہ‘ پالیسی کے بارے میں ہے۔ اس پر انھیں گذشتہ برس ماؤ ڈن ادبی انعام سے نوازا گیا تھا جو چین کے اعلیٰ ترین ادبی انعامات میں سے ایک ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔