ممبئی فلمی میلے میں پاکستانی ’جوش‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 17 اکتوبر 2012 ,‭ 18:41 GMT 23:41 PST

جاگیردارانہ قوتوں کے موضوع پر مبنی اس فلم میں مرکزی کردار ماڈل اور اداکارہ آمنہ شیخ نے ادا کیا ہے

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جھنڈیاں بیچنے والے ایک لڑکے نے ایک آدمی سے کہا ’دو روپے میں آزادی منائیں‘۔ جواب میں اس آدمی نے کہا، ’آزادی کی قیمت پہلے ہی چکا چکے ہیں، اب منانے کی بھی قیمت ادا کریں؟‘

یہ دو افراد کی حقیقی گفتگو نہیں بلکہ امریکہ میں مقیم پاکستانی ہدایت کارہ ارم پروین بلال کی فلم ’جوش‘ کے مکالمے ہیں۔

یہ فلم چودہویں ممبئی فلم میلے میں نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے اور پانچ سال میں یہ پہلی پاکستانی فیچر فلم ہے جسے میلے میں دکھایا جا رہا ہے۔

بھارتی فلمی صنعت کے مرکز ممبئی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے، ہدایت کار ارم پروین بلال نے بی بی سی اردو کی عنبر شمسی کو بتایا کہ چار سال کی جدوجہد کے بعد بننے والی یہ فلم پاکستانی نوجوانوں کی جدوجہد کے بارے میں ہی ہے۔

ان کے مطابق ’جوش اس نوجوان تحریک سے متاثر ہوئی جو دو ہزار سات کے بعد شروع ہوئی۔ یہ ان ناانصافیوں کے بارے میں ہے جن کا ازالہ کرنے کے لیے لوگوں نے انفرادی طور پر کام شروع کیا‘۔

یہ فلم کراچی کی ایک فلاحی تنظیم ’کھانا گھر‘ سے بھی متاثر ہے، جسے ایک خاتون نے غریبوں میں مفت کھانا تقسیم کرنے کے لیے قائم کیا۔

فلم کا مرکزی کردار فاطمہ ہے جس کا تعلق ایک امیر گھرانے سے دکھایا گیا ہے۔ تاہم فاطمہ کی زندگی اس وقت بدل جاتی ہے جب اس کی آیا لاپتہ ہو جاتی ہیں۔ فاطمہ اس بستی میں جاتی ہے جہاں اس کی آیا مفت کھانا تقسیم کرتی تھیں اور وہ کام جاری رکھنے کا اعادہ کرتی ہے۔ وہیں اسے معلوم ہوتا ہے کہ آیا کا لاپتہ ہونا ایک حادثہ نہیں بلکہ ایک سیاسی سازش ہے۔

"جوش پاکستانی قوتِ برداشت کو اجاگر کرتی ہے اور پاکستانی اداکاروں اور عملے کے ساتھ بنائی گئی ہے، اس لیے اس کی نمائش پاکستان میں ضرور ہونی چاہیے۔ ممبئی فلم میلے کے منتظمین نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اسے پاکستان میں کیوں نہیں ریلیز کیا گیا۔ مجھے ان کو یقین دلانا پڑا کہ پاکستان میں اب کراچی کے کارا فلم میلے کے بند ہونے کے بعد کوئی اور جگہ نہیں ہے جہاں یہ فلم دکھائی جائے۔"

ارم پروین بلال

پاکستان میں جاگیردارانہ قوتوں کے موضوع پر مبنی فلم ’جوش‘ میں فاطمہ کا کردار ماڈل اور اداکارہ آمنہ شیخ نے ادا کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فاطمہ کے ایک بےفکر امیر لڑکی سے ایک باغی خاتون تک کے سفر نے انہیں بہت متاثر کیا۔

آمنہ پاکستانی ٹیلی وژن کی مقبول فنکارہ ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا کام کرنا چاہتی ہیں جس کی اپیل سرحد پار ہو۔’میں ایسی فلموں میں کام کرنا چاہتی ہوں جو عالمی سطح پر پسند کی جائیں‘۔

جوش آمنہ کی دوسری فلم ہے۔ اس سے پہلے انہوں نے ’لمحہ‘ نامی فلم میں کام کیا جسے امریکی شہر نیویارک کے فلم میلے میں بہترین فیچر فلم اور آمنہ کو بہترین اداکارہ کا ایوارڈ ملا۔

فلم کی ہدایتکارہ ارم اپنی اس فلم کی پاکستان میں نمائش کی خواہشمند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’جوش پاکستانی قوتِ برداشت کو اجاگر کرتی ہے اور پاکستانی اداکاروں اور عملے کے ساتھ بنائی گئی ہے، اس لیے اس کی نمائش پاکستان میں ضرور ہونی چاہیے‘۔

ان کے مطابق ’ممبئی فلم میلے کے منتظمین نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اسے پاکستان میں کیوں نہیں ریلیز کیا گیا۔ مجھے ان کو یقین دلانا پڑا کہ پاکستان میں اب کراچی کے کارا فلم میلے کے بند ہونے کے بعد کوئی اور جگہ نہیں ہے جہاں یہ فلم دکھائی جائے‘۔

ارم نے کہا کہ جوش کی عام ریلیز کے لیے انہوں نے پاکستانی ڈسٹری بیوٹرز سے بھی بات کی ہے اور انکی بھرپور کوشش ہے کہ اس کی بھارت میں بھی عام نمائش ہو۔

فلم میں ایک خشک مزاج مصور کا کردار ادا کرنے والے ریڈیو صداکار اور اداکار خالد ملک نے کہا کہ یہ فلم پاکستانیوں کے لیے بنی ہے مگر کسی بھی فلم کی کامیابی یقینی نہیں ہوتی۔ ’پاکستان میں اتنی کم فلمیں بنتی ہیں کہ میں نے سوچا کہ اس میں شریک ہونے سے میں تاریخ کا حصہ بنوں گا‘۔

انہوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ یہ خالص پاکستانی فلم ہے، نہ کہ ان ٹی وی اشتہارات کی طرح ہے جن میں بھارتی اداکار اور عملہ استعمال کیا جاتا ہے۔

"اب پاکستانی فلمی صنعت جوش اور لمحہ کی طرح، لالی وڈ سے نہیں، بلکہ ان نوجوان ہدایت کاروں کے ذریعے بحال ہو گی جن کی نظر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور بین الاقوامی صارفین پر ہے۔"

آمنہ شیخ

اداکارہ آمنہ شیخ نے بھی کہا کہ ’نشاط سینما کے جل جانے سے فلمی صنعت میں خوف ہے کہ اس طرح کی فلمیں نفع نہیں کمائیں گی۔ لیکن کوشش تو جاری رکھنی چاہیے‘۔

یاد رہے کہ امریکہ میں بننے والی اسلام مخالف فلم کے ردِ عمل میں ملک گیر مظاہروں کے دوران کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں قریبا دس سینما گھروں کو نذرِ آتش کیا گیا تھا۔

اس سال پاکستان میں ایک بھی اردو فلم ریلیز نہیں ہو سکی ہے۔

آمنہ شیخ کہتی ہیں کہ اب پاکستانی فلمی صنعت جوش اور لمحہ کی طرح، لالی وڈ سے نہیں، بلکہ ان نوجوان ہدایت کاروں کے ذریعے بحال ہو گی جن کی نظر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور بین الاقوامی صارفین پر ہے۔

ارم پروین بلال کو ’جوش‘ بنانے کے لیے کئی دروازے کھٹکھانے پڑے۔ ان کی طرح کے اور نوجوان ہدایت کار بھی ہیں جو چاہتے ہیں ان کی ان کی فلموں کی پاکستان میں نمائش ہو لیکن ملک میں بے یقینی اور خوف کی فضا کے باعث پاکستانی عوام نئی طرز کی یہ فلمیں دیکھنے سے محروم ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔