عرب ملک، ماضی اور ماضی قریب

آخری وقت اشاعت:  پير 22 اکتوبر 2012 ,‭ 16:28 GMT 21:28 PST
تاریخ انقلابِ عرب

عرب ملکوں میں انقلابوں پر اردو میں پہلی کتاب

نام کتاب: تاریخ انقلابِ عرب

مصنف: اخلاق احمد قادری

صفحات: 359

قیمت: 450 روپے

ناشر: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید اسکوائر، اردو بازار، کراچی

مجھے یقین ہے کہ بہت سے لوگ اس کتاب کے لیے منتخب کیے گئے عنوان کو بے یقینی سے پڑھیں گے اور پڑھنے کے بعد بھی یقین نہیں کریں گے۔ وہ ضرور حیرت اور استجاب میں خود سے سوال کریں گے، ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایسے موضوع پر اردو میں پہلی کتاب۔

کچھ تو یہ اس لیے ہو سکتا ہے کہ ہم خود اپنے بارے میں بدگمانی رکھتے ہیں اور کچھ اس لیے کہ ہم ایسی کتابوں کو لکھنے اور تیار کرنے کے طریقۂ کار کے بارے میں کم معلومات رکھتے ہیں۔

لیکن یہ حقیقت ہے اور ایسا ہونا بالکل آسان ہے۔ مغربی ممالک میں بھی ایسے کام ایسے ہی ہوتے ہیں اور اب تو ایسے کام کرنا انتہائی آسان بھی ہو چکا ہے کیونکہ انٹرنیٹ موجود ہے اور آپ روزانہ دنیا بھر کے اخبار دیکھ سکتے ہیں اور خبریں حاصل کر سکتے ہیں اور اگر آپ انھیں ترتیب وار جمع کرتے جائیں تو جس مرحلے پر چاہیں اس کے بارے میں کتاب بنا سکتے ہیں۔

وہ زمانہ لد چکا جب ایسی معلومات تک رسائی میں برسوں لگ جاتے تھے، معلومات مل جاتیں تو ہارڈ کاپی تک رسائی آسان نہیں ہوتی تھی۔ ہر کام کی تحقیقات کے لیے دوردراز سفر کرنے پڑتے تھے۔ لیکن اب تو بہت سی لائبریریاں آن لائین ہیں، جو نہیں ہیں وہ اپنے تمام ذخائر کو آن کائین کر رہی ہیں۔ اخبار اور رسائل کی فائلوں کو بھی آن لائین کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور وہ دن دور نہیں جب دنیا بھر کی لائبریریاں ہر جگہ اور ہر آدمی کی رسائی میں ہوں گی۔

وہ دن اور وہ دور کیسا ہو گا؟ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو علم، معلومات اور اظہار کی آزادی سے ڈرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ لوگوں کو فیصلے کرنے کے لیے ہر بات کے تمام پہلوں کو خود دیکھ اور سمجھ کر فیصلہ کرنے کا حق دینا خطرناک یا نامناسب ہو گا۔ لیکن جوں جوں ٹیکنالوجی ترقی کرے گی، تمام باتوں کے تمام پہلوؤں تک لوگوں کی رسائی ممکن سے ممکن ہوتی جائے گی اور اس میں اعتقادات اور عقائد تک ہر بات آ جائے گی۔

جہاں تک ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش اور ان جیسے ملکوں کا تعلق ہے تو صورت حال انتہائی مخدوش ہے، کیونکہ ان ملکوں میں لائبریریوں کا نظام ایک طویل عرصے تک انتہائی مخدوش رہا ہے اور اکثر اخباروں، رسالوں کی فائلیں محفوظ نہیں ہیں۔ جو ہیں تو ان کی حالت اس لیے خراب ہے کہ نیوز پرنٹ ایک عرصے کے بعد اس لائق نہیں رہتا کہ اس پر شائع ہونے والے مواد کو زیادہ استعمال کیا جا سکے۔

اس لیے دستیاب ذخائر کو محفوظ کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انھیں ڈیجیٹالائیز کیا جائے اور جہاں ان سے متعلق اخبار اور رسائل لوگوں کی ذاتی لائبریریوں میں ہیں انھیں بھی محفوظ کیا جائے۔ خیر یہ تو ایک الگ موضوع ہے۔

مصنف اخلاق احمد قادری

" کتاب کے مصنف اخلاق احمد قادری ہیں جنھوں نے اگست 1998 سے نوائے وقت ملتان میں لکھنا شروع کیا۔ وہ بیسویں صدی کے اہم واقعات کے بارے میں لکھتے تھے۔ اس موضوع پر ان کی پہلی کتاب میں 2005 شائع ہوئی۔ جلد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا۔ اس کے بعد ان کی دوسری کتاب تاریخ عالم کے اہم سنگِ میل ہے۔ تیسری کتاب کا نام انھوں نے تاریخ عالم کے اہم موڑ رکھا۔ چوتھی کتاب ’جدید تاریخ عالم‘ کے نام سے آئی اور پانچویں ’تاریخ عالم عصرِ حاضر‘ تھی"

جب انرٹیٹ نہیں تھا تو ایسی کتابیں بنانے والے یا لکھنے والے کئی کئی اخبار اور رسالے خریدتے تھے اور ان کی کلپنگ ترتیب وار جمع کرتے تھے۔ پھر یہ ہوا کے مغربی ملکوں میں ایسی ایجنسیاں آ گئیں جو ہر موضوع پر آپ کی پسند کی خبریں اور مضمون فراہم کرتی تھیں اور اس کا معاوضہ لیتی تھیں۔ ان اداروں کی خدمات کے نتیجے میں فوری ضرورت کا مواد فراہم کرنے اور تجزیے کرنے والوں کا کام قدرے آسان ہو گیا۔

اس کتاب کے مصنف اخلاق احمد قادری ہیں جنھوں نے اگست 1998 سے نوائے وقت ملتان میں لکھنا شروع کیا۔ وہ بیسویں صدی کے اہم واقعات کے بارے میں لکھتے تھے۔ اس موضوع پر ان کی پہلی کتاب میں 2005 شائع ہوئی۔ جلد ہی اس کا دوسرا ایڈیشن بھی شائع ہوا۔ اس کے بعد ان کی دوسری کتاب تاریخ عالم کے اہم سنگِ میل ہے۔ تیسری کتاب کا نام انھوں نے تاریخ عالم کے اہم موڑ رکھا۔ چوتھی کتاب ’جدید تاریخ عالم‘ کے نام سے آئی اور پانچویں ’تاریخ عالم عصرِ حاضر‘ تھی۔

ان کا ہدف موضوع کو عام فہم انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ جو کتاب اس وقت شامل تبصرہ ہے اس میں ان تمام واقعات کی تفصیل ہے جو گزشتہ تین سالوں میں آپ ٹیلیویژنوں پر دیکھتے، ریڈیو سے سنتے اور اخباروں میں بھی پڑھتے رہے ہوں گہ لیکن وہ ساری معلومات آپ کے ذہن میں محفوظ نہیں رہی ہوں گی۔ اسی لیے یہ کتاب ہے جو آپ کو تیونس، مصر، لیبیا، بحرین، شام، یمن، لبنان، عراق، سعودی عرب، عمان، کویت، قطر، فلسطین و اسرائیل، الجزائر ، مراکش، موریطانیہ، سوڈان، مغربی صحارا اور متحدہ عرب امارات کے بارے میں ساری تفصیلات فراہم کر سکتی ہے اور انھوں نے یہ کام ان تمام سہولتوں کے بغیر کیا ہے جن کی کچھ تفصیل میں اوپر بیان کی ہے۔ اس لیے اس کی تحسین الگ سے کی جانی چاہیے۔

اس کے علاوہ اس کتاب میں ہر ملک کے لیے مخصوص صفحات پر ایسے بوکس بنائے گیے ہیں جن میں وہ معلومات فراہم کی گئی ہیں جو خبروں کا حصہ نہیں ہوتیں اور اس بات نے کتاب کو اور دلچسپ اور اہم بنا دیا ہے۔ کتاب میں ٹائپنگ اور پروفنگ کی غلطیاں ہیں جو لطف خراب کرتی ہیں ورنہ تو کتاب اچھی شائع ہوئی ہے۔ قیمت تھوڑی سی زیادہ ہے لیکن اتنی بھی نہیں کہ کتاب کو مہنگا کہا جائے۔

یہ کتاب عرب ممالک میں حالیہ تبدیلیوں کے بارے میں ہی نہیں ان کا پس منظر کے بارے میں بھی بتاتی ہے اور اسی لیے پڑھنے اور رکھنے لائق ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔