افغانستان کی پہلی خاتوں ریپر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 15:25 GMT 20:25 PST

سوسن فیروز اس ریپ گانے سے پہلے اداکاری کرتی تھیں اور سات سال پہلے اپنے خاندان کے ہمراہ افغانستان واپس لوٹی تھیں۔

افغانستان ابھی بھی ایک ایسا ملک ہے جہاں خواتین کے حقوق کے بارے بہت کچھ ہونا باقی ہے مگر اس دوران ایک تیئس سالہ لڑکی نے اپنی آواز خواتین کے حقوق کی اس بحث میں انوکھے انداز میں شامل کی ہے۔

سوسن فیروز افغانستان کی پہلی ریپر گلوکارہ ہیں جو کہ موسیقی کی ایک ایسی قسم ہے جس میں گلوکار گانے کے الفاظ گانے کے انداز میں بولتا ہے اور عموماً اس میں معاشرتی برائیوں پر چوٹ کی جاتی ہے یا ذاتی تجربات کے متعلق گایا جاتا ہے۔

سوسن ریپر بننے سے پہلے ایک اداکارہ کی حیثیت سے سوپ ڈراموں میں کام کرتی تھیں۔

سوسن کا پہلا گانا پردیس میں رہنے والے افغانیوں کے تجربات کے بارے میں ہے جس میں ان کے پردیس میں جھیلے گئے دکھوں اور تکالیف کی بات کی گئی ہے۔

ان کے گانے ’ہمارے ہمسائے‘ کی موسیقی ان کے استاد فرید رستگار نے ترتیب دی جو کہ افغانستان کے ایک مشہور موسیقار ہیں۔

فرید نے موسیقی ترتیب دینے کے بعد ایک شاعر کو سوسن کی کہانی سامنے رکھ کر اس موسیقی پر شعر لکھنے کے لیے کہا۔

ان اشعار میں جہاں جنگ اور بے چینی کی بات کی گئی ہے وہیں امید اور جرات مندی کا ذکر بھی ہے جیسا کہ ان اشعار میں ’جب ہمارے ملک میں جنگ شروع ہوئی تب گولیاں چلی، توپوں کے گولے اور راکٹ داغے گئے، سب درخت جل گئے، جنگ نے ہمیں ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا، لیکن ہم اپنے ملک میں اپنے مستقبل کے لیے پر امید ہیں اور اپنے ہمسایہ ممالک سے کہیں گے کہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیا جائے‘۔

سوسن دری زبان میں ریپ گاتی ہیں جو کہ افغانستان کی دو بنیادی زبانوں میں سے ایک ہے۔

"اگر میرے گانے کو سنا جائے تو اس میں کہا جا رہا ہے کہ میں نے کیسے وہ جلا وطنی کا دور گزارا۔ سنو کہ میرے ہم وطنوں کے ساتھ کیا ہوا اس جلا وطنی کہ دوران جن میں سے کچھ ایران میں نشے کی لت میں مبتلا ہو گئے جبکہ پاکستان میں جانے والوں میں سے کچھ دہشت گرد بن گئے۔"

سوسن فیروز، افغان اداکارہ اور ریپ گلوکارہ

ابھی تک سوسن کا ایک ہی گانا جاری ہوا ہے جس میں ان کے حالات زندگی کی بات ہے جب انیس سو نوے کی خانہ جنگی کے دوران ایران اور پاکستان میں مہاجر کی حیثیت سے گزاری۔

سوسن کا کہنا ہے کہ ’اگر میرے گانے کو سنا جائے تو اس میں کہا جا رہا ہے کہ میں نے کیسے وہ جلا وطنی کا دور گزارا۔

’سنو کہ میرے ہم وطنوں کے ساتھ اس جلا وطنی کے دوران کیا ہوا جن میں سے کچھ ایران میں نشے کی لت میں مبتلا ہو گئے جبکہ پاکستان میں جانے والوں میں سے کچھ دہشت گرد بن گئے‘۔

سوسن نے کہا کہ مہاجر کے طور پر ان کے خاندان کی زندگی ایران اور پاکستان میں بہت مشکلات کا شکار رہی تھی۔

اس گانے کے موسیقار فرید رستگار کا کہنا ہے کہ موسیقی ملک میں تبدیلی لانے کے خواہشمند نوجوانوں کی مدد کر سکتی ہے۔

اس گانے میں سوسن نے اپنے ساتھ ہونے والے برے سلوک کا شکوہ بھی کیا ہے جیسا کہ گانے کے الفاظ ہیں کہ ’جب میرے والدین مجھے نان لینے تندور پر بھجواتے تھے تو لوگ مجھے دھکے دیتے تھے۔ ایران اور پاکستان میں افغانوں سے برا سلوک ہوتا تھا‘۔

سوسن کا کہنا ہے کہ میں نے اپنے گانے میں ہمسایہ ممالک سے کہا ہے کہ ہمیں اپنے ملک کو تعمیر کرنے دیا جائے اور ہمارے معاملات میں مداخلت نا کی جائے، چاہے وہ ایران ہو یا پاکستان۔

"ایک ہی چیز نوجوانوں کو متاثر کر سکتی ہے اور وہ ہے موسیقی اور پچھلے دس سالوں میں کئی نوجوان گلوکاری کے شعبے میں آئے ہیں اور کئی نئے ریڈیو اور ٹی وی چینل شروع ہوئے ہیں۔ موسیقی نوجوانوں کی طرف سے یہ کہنے کا بھی ایک طریقہ ہے کہ وہ طالبان نہیں اور وہ اپنے ملک کو بدلنا چاہتے ہیں۔"

سوسن فیروز کے استاد اور گانے کے موسیقار فرید رستگار

سوسن نے کہا کہ ریپ گانے سے پہلے انہوں نے اپنے والد سے اجازت طلب کی جس کے بعد انہوں نے گانا گایا۔

سوسن کے استاد فرید کا کہنا ہے کہ ’ایک ہی چیز نوجوانوں کو متاثر کر سکتی ہے اور وہ ہے موسیقی اور پچھلے دس سالوں میں کئی نوجوان گلوکاری کے شعبے میں آئے ہیں اور کئی نئے ریڈیو اور ٹی وی چینل شروع ہوئے ہیں۔ موسیقی نوجوانوں کی طرف سے یہ کہنے کا بھی ایک طریقہ ہے کہ وہ طالبان نہیں اور وہ اپنے ملک کو بدلنا چاہتے ہیں‘۔

سوسن کی زندگی بھی سات سال قبل افغانستان واپسی کے بعد بہت مشکل گزری جہاں انہوں نے مختلف طرح کی ملازمتیں کرنے کے بعد اب سوپ ڈراموں میں اداکاری شروع کی ہے جس سے وہ اپنے خاندان کا پیٹ پالتی ہیں۔

سوسن کی زندگی افغانستان میں خطروں سے خالی نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ ہیں جو انہیں فون پر دھمکیاں دیتے ہیں کہ وہ ان کے چہرے پر تیزاب پھینک دیں گے۔

لیکن سوسن کا کہنا ہے کہ وہ ان دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں اور وہ گاتی رہیں گی۔

وہ خواتین کا ایک ریپ بینڈ تیار کرنے کی خواہشمند ہیں اگر وہ اس کے لیے کافی پیسے مہیا کر سکیں جو کہ آسان نہیں ہے۔

سوسن کے والد نے اپنی ملازمت ترک کر کے اپنی بیٹی کی حفاظت کرنے کے لیے زندگی مختص کی ہوئی ہے جو ان کے ساتھ ہر جگہ جاتے ہیں تاکہ یہ یقین ہو کہ وہ محفوظ ہیں۔

انہیں اپنی بیٹی پر فخر ہے اور وہ اس کے لیے ان کے استاد فرید کے شکر گزار بھی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ خطروں سے پریشان تو ہوتے ہیں مگر وہ اپنی بیٹی کو بتاتے ہیں کہ وہ خطرات کے بارے میں مت سوچیں اور اپنا کام جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ ان کے پاس کوئی اور چارہ بھی تو نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔