ایک بار پھر ’جانے بھی دو یارو‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 13:27 GMT 18:27 PST
جانے بھی دو یارو کا پوسٹر

جانے بھی دو یارو کی ہدایت کاری کندن شاہ نے کی تھی

انیس سو اسی کی دہائی کی مقبول ترین کامیڈی فلم ’جانے بھی دو یارو‘ ایک بار پھر بڑے پردے پر ریلیز کی جا رہی ہے۔ اس فلم کو بالی وڈ کی اب تک کی بہترین کامیڈی فلم کہا جاتا ہے۔

ایک ایسے وقت میں جب بھارت میں چاروں طرف بدعنوانی کے خلاف تحریک جاری ہے، سرکاری حلقوں میں بدعنوانی کے موضوع پر بنی طنزیہ فلم ’جانے بھی دو یارو‘ پھر سے ریلیز ہو رہی ہے۔ سنیما کے چاہنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک اچھی خبر ہے۔

اس فلم کے پرنٹ کو ڈیجیٹل طور پر بہتر کیا گيا ہے۔

جانے بھی دو یارو میں نصیرالدین شاہ، روی باسوانی، بھکتی بروے، پنکج کپور اور ستیش شاہ نے اہم کردار ادا کیے اور اس کے ہدایت کار کندن شاہ تھے۔

فلم سے متعلق کچھ خاص لوگوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کے دوبارہ ریلیز ہونے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کئی سال پہلے فلم کی شوٹنگ کے دوران ہونے والے بعض دلچسپ قصے سنائے۔

فلم کے ہدایت کار کندن شاہ کا کہنا تھا ’میرے لیے سب سے زیادہ خوشی کا موقع اس وقت تھا جب نصیرالدین شاہ نے فلم میں کام کرنے کے لیے ہاں کی۔ سچ مانیں، ہم جیسے لوگوں کے لیے نصیرالدین شاہ تو امیتابھ بچن سے بھی بڑھ کر تھے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’مجھے جب معلوم ہوا کہ فلم کو دوبارہ ریلیز کیا جا رہا ہے تو مجھے حیرانی ہوئی۔ سوچا کہ اب اس فلم کو کون دیکھے گا۔ لیکن میں نے جس سے بھی اس بات کا ذکر کیا اس نے کہا کہ وہ فلم ضرور دیکھیں گے۔ اس پر مجھے تعجب بھی ہوا اور خوشی بھی کہ اتنے سالوں بعد بھی فلم کے بارے میں لوگوں میں جوش و خروش ہے‘۔

جانے بھی دو یارو کا پوسٹر

جانے بھی دو یارو کو ' کلٹ' کامیڈی کہا جاتاہے

’جب ہم اس فلم کی شوٹنگ کر رہے تھے تو کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ یہ اس قدر ہٹ ہوگی۔ یہ فلم بہت ہی کم بجٹ میں بنی تھی‘۔

انہوں نے مزید بتایا ’فلم کی شوٹنگ کے دوران اتنی تنگی تھی کہ کئی بار شوٹنگ میں ساٹھ ستر لوگ ہو جاتے تھے لیکن کھانا پینتیس لوگوں کے لیے ہی آتا تھا۔ ہم دال میں پانی ملا کر اسے بڑھا دیتے تھے۔ روٹیاں ختم ہو جاتی تھیں، تو پاؤ منگوا لیتے تھے۔ فلم میں نصیرالدین شاہ نے جو کیمرہ استعمال کیا ہے وہ ان کا اپنا کیمرہ تھا‘۔

فلم میں ترنیجا کا کردار ادا کرنے والے اداکار پنکج کپور کہتے ہیں ’مجھے لگتا ہے کہ اس دور میں فلم کو پہلے سے زیادہ کامیابی ملے گی کیونکہ اس وقت تو ہم میں سے زیادہ تر فنکاروں کو لوگ جانتے ہی نہیں تھے اور اس زمانے میں اس طرح کی فلموں کو پسند بھی نہیں کیا جاتا تھا‘۔

ان کا مزید کہنا تھا ’میرا بیٹا شاہد کپور اکثر کہتا ہے کہ اس دور میں ’جانے بھی دو یارو‘ جیسی فلمیں کیوں نہیں بنتی۔ یہ سن کر مجھے یقین ہوتا ہے کہ نوجوان طبقے کو بھی یہ فلم ضرور پسند آئے گی‘۔

وہیں فلم میں اداکاری کرنے والے ستیش شاہ کا کہنا ہے ’مجھے یاد ہے کہ اس فلم کے لیے مجھے پانچ ہزار روپے ملے تھے۔ فلم کے لیے سب سے زیادہ 15 ہزار روپے نصیرالدین شاہ کو ملے تھے کیونکہ وہ اس وقت ایک بڑے اداکار تھے‘۔

ستیش شاہ کا کہنا ہے کہ وہ اس فلم کے دوبارہ ریلیز ہونے کا بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔

جانے بھی دو یارو ایک کم بجٹ میں بنائی گئی فلم تھی جو کسی بھی طرح سے کمرشل فلم نہیں تھی۔ یہ اس دور کی فلم تھی جب بعض ہدایت کار ایک مخصوص سوچ کے ساتھ سماجی مسائل پر فلمیں بنا رہے تھے اور اس سنیما کو ’انڈین نیو ویو‘ کا نام دیا گیا تھا۔

جانے بھی دو یارو سرکاری حلقوں میں بدعنوانی کے مسئلے پر مبنی فلم ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔