حمید اسماعیلوف کا ناول، ایک شاعر اور بن لادن

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 18:38 GMT 23:38 PST
ایک شاعر اور بن لادن

ایک شاعر اور بن لادن یعنی ’اے پوئٹ اینڈ بن لادن‘ نامی ناول لکھنے والے ازبک ادیب نے کہا ہے کہ ’میں نے اس ناول میں اس حقیقت کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے جو بیان کرنے میں حقیقت زیادہ دشوار ہوتی ہے‘۔

ازبک شاعر اور مصنف کے روسی زبان میں لکھے گئے ناول کے کے انگریزی ترجمے کی تقریب اجرا بی بی سی کے صدر دفتر نیوبراڈکاسٹنگ ہاؤس میں ہوئی۔ ان کا ناول ’ایک شاعر اور بن لادن‘ روسی زبان میں ’دروگہ سمیرتی بلش سمرت‘ یعنی ’موت کا رستہ موت سے کٹھن‘ کے نام سے شائع ہوا۔ جس کا انگریزی ترجمہ اینڈریو برومفیلڈ نے کیا ہے۔

اسماعیلوف نے بتایا کہ روسی میں ان کا ناول 2003 میں مکمل ہوا تھا اور 2006 میں پہلی بار شائع ہوا تھا اور اب اس کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ناول کا پہلا حصہ ایک ایسے نوجوان کے بارے میں جو اسلامک موومنٹ آف ازبکستان میں میں شریک ہو کر لاپتہ ہو جاتا ہے۔ اس کے ذریعے طالبان کا اندازِ زندگی ہمارے سامنے آتا۔ ناول کا دوسرا حصہ اورنگزیب کے بارے میں ہے جو ایک بنیاد پرست تھا اور ایک طرح سے اسٹالن کی طرح تھا۔

پروگرام میں شریک ازبک سروس کی دلارام ابراہیم کے سوالکے جواب میں حمید نے بتایا کہ انھوں نے اس ناول میں ادب اور صحافت کو ملانے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ ان حقیقی معنی کو بیان کرنا چاہتے تھے جو حقیقت سے بڑے ہوتے ہیں اور اکثر اوقات انھیں بیان کرنا ناممکن ہوتا ہے۔

تقریب میں شرکا کی طرف سے کیے گئے ایک سو ال کے جواب میں حمید نے کہا کہ ان کے اس ناول کو آپ بنیاد پرستی کے بارے میحں بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس میں تو کویی شک نہیں کہ بنیاد پرستی کے بارے میں بہت سے کتابیں لکھی لیکن اس کے باوجود میں نے یہ کتاب اس لیے لکھی ہے کہ ان کتابوں کے بہت سے لکھنے والوں کو بنیاد پرستی کے بارے میں بنیادی باتوں کا بھی علم نہیں ہوتا۔

انھوں نے کہا کہ بن لادن کا اسلام بولشوازم طرز کا تھا۔ میرے ایک جاننے والے نے اس ناول کو پڑھ کر کہا کہ اس اطلاق تمام اسلامی انقلابی تحریکوں پر کیا جا سکتا ہے۔ لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ ’یہ ناول لوگوں کے بارے میں ہے اور ان پر گزرنے والے واقعات کے بارے میں ہے‘۔

حمید اسماعیلوف

ناول کی تقریب میں بی بی سی ازبک کی دلارام ابراہیم، مصنف حمید اسماعیلوف اور بی بی سی رشین کے مارک گریگوریاں

حمید اسماعیلوف ازبک زبان کے ادیب اور صحافی ہیں۔ انھیں میں ازبکستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا اور وہ برطانیہ آ گئے اور بی بی سی کی عالمی سروس میں ملازمت اختیار کر لی۔

بی بی سی نے 30اپریل 2010 کو اسماعیلوف کو دو سال کے لیے بی بی سی ورلڈ سروس کے لیے رائٹرس ان ریزیڈنس مقرر کیا۔

ازبک، روسی، فرانسیسی، جرمن، ترک اور انگریزی میں ان کی درجنوں کتابیں شائع ہو چکی ہیں لیکن خود ان کے اپنے ملک میں ان کی کتابوں پر پابندی ہے۔

وہ فکشن کے ساتھ شاعری بھی کرتے ہیں اور شاعری میں بھی ان کے چار مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔

ان کے ناولوں میں ’دی ریلوے‘ ان کا ازبکستان چھوڑنے سے پہلے لکھا جانے والا آخری ناول تھا، جسے روبرٹ شانڈلر نے انگریزی میں منتقل کیا، اور 2006 میں شائع ہوا۔

اس کے علاوہ ان کے دو اور ناول انگریزی میں ترجمہ ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔