بالی وڈ میں بانڈ جیساکردار کیوں نہیں؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 3 نومبر 2012 ,‭ 16:58 GMT 21:58 PST
جیمز بانڈ

جیمز بانڈ سیریز کے پچاس سال میں تیئیس فلمیں منظر عام پر آئی ہیں۔

سنہ انیس سو باسٹھ میں جیمز بانڈ سیریز کی پہلی فلم ڈاکٹر نو ریلیز ہوئی تھی اور اس سال دو ہزار بارہ میں بانڈ سیریز کی تیئسویں فلم ’سکائی فال‘ ریلیز ہوئی ہے۔

یعنی بانڈ فلموں کے پچاس سال پورے ہو چکے ہیں، لیکن اس خفیہ ’برطانوی ایجنٹ‘ کی مقبولیت میں ذرا بھی کمی نہیں آئی ہے۔

بھارت میں دنیا کی سب سے زیادہ فلمیں بنائی جاتی ہیں لیکن اب تک ایسا کوئی کردار کیوں نہیں پیش کیا جا سکا جو بین الاقوامی سطح پر بانڈ کی طرح مقبول ہو۔

ایسا نہیں ہے کہ بھارتی فلم سازوں نے کوشش نہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے کردار پہلی فلم سے آگے نہیں بڑھ پائے ہیں۔

فلم ساز فرح خان نے بڑے ارمانوں سے اکشے کمار کو بطور ہیرو لے کر فلم ’تيس مار خاں‘ بنائی تھی اور اعلان کیا تھا کہ وہ اسے ایک فرنچائز کے طور پر آگے بڑھائیں گي. لیکن فلم پٹ گئی اور فرح کے ارمان جوں کے توں رہ گئے۔

را-ون

شاہ رخ خان کا ارادہ تھا کہ اسکا سیکوئل پیش کیا جائے گا۔

شاہ رخ خان نے اپنی حوصلہ مند فلم ’را-ون‘ بنائ۔. فلم کے پروموشن پر شاہ رخ خان نے بھی کہا تھا کہ وہ اس کے سیکوئل جیسے ’را- ٹو‘ اور ’را- تھری‘ بنا سکتے ہیں، لیکن فلم کو ناظرین نے پسند نہیں کیا اور اس سلسلے کو آگے بڑھانے کے بارے میں شاہ رخ بھی خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔

سیف علی خان نے بھی ’جیمز بانڈ‘ کی طرز پر ایک کردار تیار کیا ’ایجنٹ ونود‘، فلم کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے سبھی واقف ہیں۔

را - ون کے ہدایت کار انوبھو سنہا کہتے ہیں کہ ’بھارت میں فلموں کی فرنچائزی کا تصور نیا ہے۔ پہلے اسے لوگوں نے ضروری نہیں سمجھا، اس لیے اب تک ہم جیمز بانڈ جیسی فرنچائز نہیں بنا پائے، لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے یہ کوشش کی گئی اور فلمساز کافی حد تک اس میں کامیاب بھی ہوئے۔‘

ہالی وڈ کی مشہور فلم ’سپائڈرمین‘ اور حال ہی میں ریلیز ہونے والی فلم ’لائف آف پائی‘ میں اداکاری کرنے والے بھارتی اداکار عرفان کا کہنا ہے کہ ہندی سینما کو ’جیمز بانڈ‘ جیسے کسی کردار کی ضرورت نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ہمارے پاس خود ہی اتنے تاریخی کردار ہیں جنہیں فرنچائز کے طور پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں مغرب کی نقالی کرکے جیمز بانڈ جیسا کردار کرنے کی ضرورت کیا ہے؟‘

عامر خان

دھوم-3 میں عامر خان کردار ادا کر رہے ہیں۔

اداکارہ تبّو مانتی ہیں کہ جیمز بانڈ جیسے کردار فلموں میں زیادہ دنوں تک اسی صورت میں چل سکتے ہیں جب کئی لوگ ایک ٹیم کے طور پر مل کر پوری لگن اور توجہ کے ساتھ کام کریں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ہم اب تک ایسا تاریخ ساز کردار نہیں بنا پائے ہیں۔

تبو کہتی ہیں: ’ویسے یہ آئیڈیا اچھا ہے اور ہمیں بھی اس سمت سوچنا چاہیے۔‘

’ہے بے بی‘ اور ’ہاؤس فل‘ سیریز جیسی فلموں کے ہدایت کار ساجد خان کہتے ہیں: ’ہمارے یہاں جیمز بانڈ جیسے کردار اس لیے نہیں ہو سکتے کیونکہ ہمارے یہاں سپرہیرو کا تصور ہی نہیں ہے۔ ہمارے یہاں کہانی میں زیادہ زور دیا جاتا ہے، بجائے کسی خصوصی کردار کے۔‘

لیکن ساجد یہ کہنا بھی نہیں بھولے کہ ’كرش‘ اور ’دھوم‘ جیسی فلمیں ہیں جن میں ایک خاص کردار پر زور دیا گیا ہے۔ جیسے دھوم سیریز کی فلموں میں کردار چور کا ہی ہے لیکن دھوم -1 میں وہ جان ابراہم نے ادا کیا تھا، دھوم -2 میں رتیک روشن اور اب دھوم -3 میں اسے عامر خان ادا کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔