شہوانیت سے الوہیت، ۔ ۔ ۔ پہلے پڑھ لیں

آخری وقت اشاعت:  اتوار 4 نومبر 2012 ,‭ 12:57 GMT 17:57 PST
شہوانیت سے الوہیت تک

نام کتاب: شہوانیت سے الوہیت تک

مصنف: اوشو (گرو رجنیش)

مترجم: سلیم اختر

صفحات: 173

قیمت: 220 روپے

ناشر: آصف جاوید برائے: نگارشات پبلشرز، 24 مزنگ روڈ، لاہور

رجنیش، جو بنیادی طور پر فلسفے کے آدمی تھے اور دنیا بھر میں گرو رجنیش کے طور پر معروف اور متنازع ہوئے ایک ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے۔ وہ ہمیشہ پیچیدگی کے خلاف رہے اور سیدھی بات کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن اس کے باوجود انھیں پیچیدگی اور تضادات کا مجموعہ قرار دیا جا تا ہے۔

ان کی زندگی کے بارے میں ہم پہلے بھی بات کر چکے ہیں جب ان کے بارے میں ’ ایک روحانی گمراہ صوفی کی آپ بیتی‘ پر تبصرہ کیا گیا تھا۔ یہ کتاب بھی نگارشات پبلشرز نے ہی شائع کی تھی۔ اب تو رجنیش کی اردو میں بھی کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور نگارشات کے علاوہ بھی کئی ادارے ان کتابوں کو شائع کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

رجنیش نے خود تو کوئی کتاب نہیں لکھی لیکن ان کے لیکچرز اور گفتگوؤں پر مبنی چار سو تصنیفات ہیں۔ اگر چہ انھیں جنس کے حوالے بہت تشہیر دی گئی لیکن اس حوالے سے ان کی ایک ہی کتاب ہے جو عالمی شہرت کی حامل ہے۔ یہ اسی کتاب کا ترجمہ ہے جو ’شہوانیت سے الوہیت‘ کے نام سے شائع کیا گیا ہے۔

اس کتاب میں پانچ باب ہیں۔ پہلا باب ’جنس: محبت کی شروعات‘ کے عنوان سے ہے۔ دوسرا باب ’جبر سے آزادی کی طرف‘، تیسرا باب ’مراقبے کی فضیلت‘، چوتھا بات ’جنس جوہرِ عظمٰی‘ اور پانچواں باب ’مجاز سے حقیقت‘ یا کاما تا راما۔

اب اس سے اندازہ کر سکتے ہیں یہ کتاب کس نوع کی جنسی ہے۔ لیکن اس کا مطالعہ بہر طور دلچسپی سے خالی نہیں۔ یوں تو ہر کتاب کے مطالعے کے لیے ضروری ہے کہ اسے مکمل غیر جانبداری سے پڑھا جائے، پھر اس پر سوچا جائے اور پھر اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کن رائے قائم کی جائے لیکن اس کتاب کے لیے خاص طور پر غیر جانبداری کی ضرورت ہے کیونکہ جیسے ہی جنس کا لفظ آتا ہے انواع و اقسام کے تعصبات اور خوف ہمیں گھیر لیتے ہیں۔ ان خدشات کے پیچھے ایسے محرکات ہیں جنھیں کم علموں نے سماجیات اور اخلاقیات سے ہی نہیں مذہب سے بھی متحارب سمجھ رکھا ہے۔

غیر جانبداری کی ضرورت

"اس کتاب کے لیے خاص طور پر غیر جانبداری کی ضرورت ہے کیونکہ جیسے ہی جنس کا لفظ آتا ہے انواع و اقسام کے تعصبات اور خوف ہمیں گھیر لیتے ہیں۔ ان خدشات کے پیچھے ایسے محرکات ہیں جنھیں کم علموں نے سماجیات اور اخلاقیات سے ہی نہیں مذہب سے بھی متحارب سمجھ رکھا ہے"

اب ان کتابوں کے عنوانات پر ہی ایک نظر ڈالیں تو سرسری توجہ سے ہی اس بات کا اندازہ ہو جاتا ہے کہ اس کا دائرۂ فکر کہاں تک ہو گا۔

جنس اور محبت کا باہمی مطالعہ اور جنس کو محبت کی شروعات کے تناظر میں دیکھنے کا تصور ہی سوچ کے رخ کا اندازہ لگانے میں خاصا مددگار ہو سکتا ہے۔ دوسرا باب ’جبر سے آزادی کی طرف‘ خاص طور نہ صرف اس جغرافیے سے متعلق ہے جس نے رجنیش کی سوچ اور ذہنی فکر کی صورتگری کی بلکہ فرائڈین اندازِ فکر سے شروع ہونے والی کشادگی کے باوجود مغربی فکری تعصب میں موجود ہے اور مردانہ فکری بالا دستی سے بھی متعلق ہے۔ تیسرا باب ’مراقبے کی فضیلت‘ کے عنوان سے ہے اور اس میں مراقبہ روایتی تاریخی معنی کو ایک نئی جہت دینے کو کوشش کی گئی ہے۔

کتاب کا چوتھا باب ’جنس جوہرِ عظمٰی‘ خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ اس میں جنس کو وجود اور شخصیت کے بنیادی جوہر کے طور پر پرکھا گیا ہے۔

سب باتوں کو چھوڑ بھی دیا جائے تو بھی یہ کتاب اس لیے بھی پڑھے جانے کا تقاضا کرتی کہ ہمیں فکر کے نئے منطقوں میں لے جاتی ہے۔ ان منطقوں میں جانا، جا کر وہیں رک جانا یا لوٹنا اس کا فیصلہ تو ہر پڑھنے والے نے خود کرنا ہے لیکن ظاہر ہے یہ فیصلہ کتاب پڑھنے سے پہلے نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔