پرانے کہانی کار پر نئی تحقیق

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 10 نومبر 2012 ,‭ 16:56 GMT 21:56 PST

کتاب: کرشن چندر کی ذہنی تشکیل

مصنف: محمد اویس قرنی

ناشر: آہنگِ ادب پشاور

صفحات: 465

قیمت: 400 روپے

منٹو، عصمت اور بیدی کو پڑھنے اور سراہنے والی نسل کرشن چندر کو بھی فراموش نہیں کر سکتی، بلکہ اِن تینوں ساتھیوں کے مقابل کرشن چندر اس لحاظ سے منفرد رہے کہ انھیں ایک نیم خواندہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تک یکساں دلچسپی سے پڑھ سکتا ہے۔ پنواڑی سے پروفیسر تک کے قارئین کی یہ رینج شاید اردو کے کسی اور فکشن نگار کو نصیب نہیں ہوئی۔

کرشن چندر نے چالیس برس تک مسلسل اور بِلا تکان لکھا لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ناقدین نے جتنا زورِ قلم اُس دور کے دیگر افسانہ نگاروں پر لگایا ہے، کرشن چندر کے حصّے میں اسکا عشرِ عشیر بھی نہیں آیا، اور جس طرح منٹو اور بیدی کی کلیات چھپ کر منظرِ عام پر آئی ہیں۔ کرشن چندر کی کہانیاں ہمیں اس طرح یکجا نہیں ملتیں۔

چند برس پہلے ایک پاکستانی ناشر نے اعلان کیا کہ وہ کرشن چندر کی تمام کہانیاں بارہ جلدوں میں شائع کر رہے ہیں۔ لیکن اس اعلان پر آج تک عمل نہ ہو سکا، البتہ اُن کے ایک سو منتخب افسانوں کا مجموعہ ضرور مارکیٹ میں آچکا ہے۔

کرشن چندر کی ادبی پرورش لاہور میں ہوئی اور اردو زبان میں ہوئی۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ سرحد پار چلےگئے تو وہاں بھی اُردو کا چلن تھا اور اُردو پڑھنے والوں کی ایک کثیر تعداد وہاں آباد تھی۔ آہستہ آہستہ جب وہاں اردو کا اثر و رسوخ ختم ہوا تو کرشن چندر کو بھی ہندی میں لکھنا پڑا اور انگریزی کا سہارا بھی لینا پڑا۔

کرشن چندر کی شخصیت اور فن پر تھوڑا بہت کام تو بھارت اور پاکستان دونوں میں ہوتا رہا لیکن اُن کے ادبی مقام کا درست تعین شاید اب جا کر ہوا ہے جب مردان کے جواں سال محقق محمد اویس قرنی نے اِس کام کا بیڑا اٹھایا۔ یہ دراصل اُن کے ایمِ فِِل کا مقالہ تھا جسے مناسب ترامیم اور اضافوں کے ساتھ انھوں نے اب کتابی شکل میں شائع کر دیا ہے۔

"کرشن چندر کے فن اور شخصیت میں دلچسپی رکھنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ انھیں پرولتاری نقاّدوں نے کبھی اپنی صف میں شامِل نہیں کیا بلکہ اُن پر رومان پسند ہونے کا ٹھپّہ لگاتے رہے جبکہ رومانوی ادیب اور نقاد انھیں بائیں بازو کا پروپیگینڈا رائٹر کہتے تھے۔ مہا لکشمی کے پُل پر کھڑے ہو کر دو ٹوک انداز میں اپنا نظریہ پیش کرنے کے باوجود بھی وہ مزدور ادیبوں کے نذدیک سُوٹ پہننے اور ٹائی لگانے والے ایک پیٹی بورژوا ادیب ہی رہے، جو ریڈیو بانڈ کے مہنگے رائٹنگ پیڈ پر ٰپارکرٰ کے پین سے جھونپڑ پٹی میں رہنے والوں کی درد بھری داستانیں لکھتے ہیں۔"

چار سو پینسٹھ صفحوں کی اس کتاب کو مولف نے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلے باب میں کرشن چندر کی فکری جہتوں کو زیرِ بحث لاتے ہوئے اُن کے تصورِ حیات پر سیر حاصل تبصرہ کیاگیا ہے۔

دوسرے باب میں کرشن چندر کے سیاسی رجحانات زیرِ بحث آئے ہیں۔ خاص طور پر اشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام کے بارے میں اُن کے نظریات، تیسرا باب کرشن چندر کے ذہنی میلانات سے تعلق رکھتا ہے جس میں انھیں نسلی، مذہبی، علاقائی اور نظریاتی تعصبات سے ماورا ایک خالص انسان کے طور پر پیش کیا گیا ہے، اس سلسلے میں سلمیٰ صدیقی سے اُن کے شادی کو ایک ٹھوس دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہاں یہ ذکر کر دینا بھی مناسب ہوگا کہ مولف نے ساری کتاب میں کوئی بات بھی دلائل کے بغیر نہیں کی بلکہ جو کچھ کہا ہے اس کے لئے کرشن چندر کی تحریروں سے انتہائی برمحل حوالے تلاش کر کے پیش کئے ہیں۔

کتاب کے چوتھے باب کا عنوان ہے: کرشن چندر اور تقسیمِ ہند۔ اس باب میں اُردو زبان سے کرشن چندر کے عشق، متحدہ ہندوستان کی آزادی کے لئے ہونے والی جدوجہد میں کرشن چندر کا کردار، ہندو مسلم فسادات پر کرشن کا ردِ عمل اور پاکستان کے بارے میں کرشن چندر کے خیالات سے بحث کی گئی ہے۔

کرشن چندر کے فن اور شخصیت میں دلچسپی رکھنے والے لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ انھیں پرولتاری نقاّدوں نے کبھی اپنی صف میں شامِل نہیں کیا بلکہ اُن پر رومان پسند ہونے کا ٹھپّا لگاتے رہے جبکہ رومانوی ادیب اور نقاد انھیں بائیں بازو کا پروپیگینڈا رائٹر کہتے تھے۔ مہا لکشمی کے پُل پر کھڑے ہو کر دو ٹوک انداز میں اپنا نظریہ پیش کرنے کے باوجود بھی وہ مزدور ادیبوں کے نزدیک سُوٹ پہننے اور ٹائی لگانے والے ایک پیٹی بورژوا ادیب ہی رہے، جو ریڈیو بانڈ کے مہنگے رائٹنگ پیڈ پر’پارکر‘ کے پین سے جھونپڑ پٹی میں رہنے والوں کی درد بھری داستانیں لکھتے ہیں۔

ایسے متضاد اور متصادم بیانات کے ہجوم میں کرشن چندر کی اصل شخصیت کے خد و خال گم ہو کے رہ گئے تھے اور ضرورت اس امر کی تھی کہ تعصبات کی گرد جھاڑ کر کرشن چندر کی اصل شبیہ برآمد کی جائے۔

یہ امر قابلِ اطمینان ہے کہ محمد اویس قرنی کی کتاب نے کرشن چندر کی شخصیت کے ارد گرد اُگے اس جھاڑ جھنکار کو صاف کر کے ہمیں اس ادیب کی اصل صورت صحیح تناظر میں دکھانے کی کوشش کی ہے۔

مولف کا اپنا اندازِ بیان بھی اگرچہ واقعاتی سے زیادہ استعاراتی ہے لیکن اُن کی یہ ادا صرف طرزِ بیان تک محدود ہے۔ جہاں تک طرزِ استدلال کا تعلق تو اُن کا مقالہ تحقیق کے تمام جدید تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور ہر باب کے اختتام پر انھوں نے تفصیلی حوالہ جات کا پورا اہتمام کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔