پولینڈ کے سُر اسلام آباد کی فضاؤں میں

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 20:31 GMT 01:31 PST

اس کرۂ ارض پر ایک دوسرے سے ہزاوں میل دور آباد انسانوں نے اپنی سوچ اور پسند کے مطابق موسیقی کے ایسے آلات ایجاد کیے جو اپنے سُر اور سرور میں تو قدرے مختلف ہیں لیکن اپنی شکل و صورت میں تقریباً ایک جیسے ہی نظر آتے ہیں۔

اُس رات برصغیر کی سحر انگیز سارنگی اور مشرقی یورپ کے اسی طرز کے موسیقی کے آلے سوکا نے اپنی تاروں سے ایسے راگ چھیڑے کہ ہال میں موجود شائقین کو اپنے جادو میں جکڑ لیا۔

اسلام آباد میں پولینڈ کے سفارت خانے نے نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے تعاون سے اس محفل کا اہتمام کیا تھا۔ اعلی سرکاری اہلکار، سفارت کار اور عام شہریوں نے اس منفرد ملاپ کو نہ صرف دیکھا اور محسوس کیا بلکہ دل کھول کر داد بھی دی۔ آغاز پر ہی پولینڈ کے سفیر ڈاکٹر آندرج انناک نے اپنی افتتاحی تقریر میں اشارہ دے دیا کہ یہ تقریب کچھ منفرد ہوگی۔

پھر ہوا یہی۔ اس خصوصی و منفرد محفل کے لیے پولینڈ سے وہاں کی معروف موسیقار اور ماہرِ سوکا ماریہ پومیاناوسکا آئی ہوئیں تھیں۔ موسیقی کے قدیم آلات بجانے کے علاوہ انہوں نے اپنی آواز کا جادو بھی جگایا۔ ان کی آواز کی طاقت اور خصوصیت نے ان کی انفرادیت کو مزید تقویت بخشی۔

ماریہ اپنے فن کا جادو جگاتے ہوئے۔

ماریہ پولینڈ کے تاریخی شہر کریکو کی میوزک اکیڈمی میں بطور پروفیسر فن کی خدمت کر رہی ہیں۔ وہ نہ صرف ایک منجھی ہوئی موسیقارہ اور گلوکارہ بلکہ گائیکہ کے روپ میں بھی انتہائی پسند کی گئیں۔ وہ ایشیائی آلاتِ موسیقی میں خصوصی دلچسپی رکھتی ہیں۔ شوپن اکیڈمی آف میوزک میں تعلیم کے دوران انہیں بھارت میں سارنگی سیکھنے کے لیے وظیفہ بھی دیا گیا۔

پولینڈ کے روایتی آلات موسیقی سوکا کے علاوہ سولہویں صدی کا فِڈل بھی سننے کو ملا۔ اس صدی کے آغاز پر یہ آلہ ناپید ہوچکا تھا لیکن مرکزی پولینڈ میں کھدائی کے دوران اس کا ایک نمونہ ہاتھ آیا جس کے بعد اسے دوبارہ بنایا اور عام کیا گیا۔ فڈل بھی سارنگی اور سوکا کے خاندان کا آلہ ہے۔

پاکستانی موسیقاروں سے مل کر پرفارمنس سے قبل ماریہ اور ان کی ساتھی نے نہ صرف پولینڈ بلکہ ناروے کی روایتی موسیقی کے چند نمونے بھی پیش کیے۔

لیکن محفل موسیقی اپنے جوبن کو اس وقت پہنچی جب سارنگی پر ڈاکٹر تیمور خان جیسے ماہر، طبلے پر محمد اجمل خان براجمان ہوئے اور سروں کو آواز دی محمد اعظم خان نے۔ مغرب اور مشرق کا یہ امتزاج کہاں روز روز دیکھنے کو ملتا ہے۔ کبھی سارنگی حاوی تو کبھی سوکا، کبھی طبلہ تمام توجہ کا مرکز، تو کبھی ماریہ کی آواز کے جادو کا سحر توجہ کا طلب گار رہا۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔