ٹم ڈیوی بی بی سی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل تعینات

آخری وقت اشاعت:  اتوار 11 نومبر 2012 ,‭ 12:35 GMT 17:35 PST

ٹم ڈیوی کو بی بی سی کا قائم مقام ڈائریکٹر جنرل تعینات کردیا گیا ہے۔ انہیں یہ ذمہ داری جارج اینٹ وسل کی جانب سے استعفیٰ دینے کے بعد سونپی گئی ہے۔

اینٹ وسل نے دو نومبر کو نشر کیے جانے والے نیوز نائٹ پروگرام میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے ایک سکینڈل میں غلطی سے ایک سابق سینیئر ٹوری رہنما لارڈ میک الپائن کو ملوث کیے جانے کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔

بی بی سی ٹرسٹ کے چیئرمین نے اسے ناقابلِ قبول غلطی اور ناقابلِ قبول لاپرواہ صحافت قرار دیا جس کی وجہ سے متنازعہ صورتحال پیدا ہو گئی۔

ٹم ڈیوی نے بی بی سی کی گورننگ باڈی بی بی سی ٹرسٹ کا انتظام سنبھال لیا ہے۔

وہ اکتوبر دو ہزار بارہ میں بی بی سی ورلڈ وائڈ کے چیف ایگزیکٹو تعینات کیے گئے تھے۔ انہیں دسمبر میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونا تھا۔

ٹم ڈیوی اس وقت بی بی سی کے ریڈیو اور موسیقی کے شعبے کے ڈائریکٹر ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی ذمہ داریوں میں بی بی سی کے ایک سے چار تک چینل اور بی بی سی کے ڈیجیٹل ریڈیو سٹیشنز ون ایکسٹرا، سکس میوزک، بی بی سی فور ایکسٹرا، اور ایشین نیٹ ورک شامل ہیں۔

آڈیو اور موسیقی کی پیشکش کے شعبے کے سربراہ کی حیثیت سے ٹم ڈیوی کی ذمہ داریوں میں برطانیہ میں بی بی سی کی تین آرکسٹراز، گلوکاروں، بی بی سی پرامز، کلاسیکل موسیقی اور پرفارمنس ٹیلی وژن، فیکچوئل ریڈیو اور ریڈیو ڈرامہ پر نظر رکھنا بھی شامل ہے۔

بی بی سی میں آنے سے قبل وہ پیپسی کی یورپ میں مارکیٹنگ اور فرینچائز کے شعبوں میں نائب صدر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

کیمبرج یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سنہ انیس سو اکانوے میں نجی کمپنی پراکٹر اینڈ گیمبل کے مارکیٹنگ کے شعبے میں برانڈ مینیجر کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی۔

ٹم ڈیوی بی بی سی کے ایگزیکٹو بورڈ کے رکن، بی بی سی میں ضرورت مند بچوں کے پروگرام کے ٹرسٹی اور ریڈیو جوائنٹ آڈیئنس ریسرچ ’راجر‘ کے عہدیدار بھی ہیں۔ راجر برطانیہ میں ریڈیو کے سامعین کی تعداد کا اندازہ لگاتا ہے۔

ٹم ڈیوی شادی شدہ ہیں اور ان کے تین بیٹے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔