شاعری، فکشن، تنقید اور نفسیات، چار کتابیں

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 16:46 GMT 21:46 PST

ان چار کتابوں میں، ایک ن م راشد کی تنقیدی تحریروں کا مجموعہ ہے جسے شیما مجید نے مرتب کیا ہے، نفسیات پر ساجدہ زیدی کی کتاب ہے، جس میں خود ان کے اپنے لکھے ہوئے مضامین بھی ہیں اور ترجمے بھی، احسان باجوہ کی ’پورن بانی‘ ہے جو پورن بھگت اور راجہ رسالو کی منظوم کتھا ہے اور م ص ایمن کا پہلا ناول شامل ہیں۔

انسانوں کی شخصیتوں کی نفسیاتی اقسام

نفسیات

نام کتاب: عظیم شخصیات کے عظیم نظریات

مصنف: ساجدہ زیدی

صفحات: 478

قیمت: 600 روپے

ناشر: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید اسکوائر، اردو بازار، کراچی

یہ کتاب اس اعتبار سے اہم ہے کہ اردو میں ایسی کتابیں کم ہیں جن سے آپ انسان کی نفسیات یا نفسیاتی پہلوں کے بارے میں جان سکیں۔ ایسا نہیں کہ اس رخ سے کام ہی نہیں کیا گیا لیکن جو کیا گیا ہے، اس میں کام کرنے والوں کی دسترس مضمون پر ہے تو زبان پر ایسی نہیں کہ اسے قابلِ فہم بنا سکیں۔ اس سلسلے میں میرے ذہن میں ایک نام ڈاکٹر اجمل کا آتا ہے۔ بہت پہلے ان کی ایک کتاب تحلیلِ نفسی کے حوالے سے شائع ہوئی تھی۔ اس کے بعد زیادہ توجہ شہزاد احمد نے دی۔ ایک کتاب حال ہی میں ڈاکٹر خالد سہیل کی آئی ہے، جس میں شیزوفرینیا یا شائزو فرینیا کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ساجدہ زیدی نے اس کتاب میں خود تو پانچ مضمون لکھے ہیں۔ لیکن اٹھارہ مضمون ترجمہ کیے ہیں۔ ان کا یہ انداز بھی اہم ہے کہ انھوں نے اپنے مضمون کے بعد متعلقہ مضامین کا ترجمہ بھی کردیا ہے تاکہ پڑھنے والا ان مضامین سے موضوع کے بارے میں اپنی رائے بھی قائم کر سکے۔

جیسے انہوں نے سگمنڈ فرائڈ کے نظریۂ شخصیت کے بارے میں مضمون لکھا ہے اور اس کے بعد فرائڈ کے تین مضامین کا ترجمہ کر دیا ہے۔ اسی طرح پہلے سی جی ینگ کا تصور خود بیان کیا ہے اور پھر ان کے چار اہم مضامین کا ترجمہ کر دیا۔ یہی ہنری اے مری یا مرے کے لیے بھی کیا ہے۔

اس کے علاوہ سماجی نفسیات کے بارے میں ان کے اپنے مضمون کے بعد ایلفرڈ ایڈلر، ہیرلڈ ایچ موزاک، سینلے شیچر، ایرک فروم، ازماٹن کپلانی، ارون سنگر، کیرن ہورنی، ہیری سٹیک سلیوان، اور روبرٹ رومانو کے مضامین کے تراجم ہیں۔

اگر کتاب میں خود ساجدہ زیدی اور کتاب کے بارے ضروری تفصیلات بھی ہوتیں تو زیادہ اچھا ہوتا۔

ن م راشد کے بارے میں کام کا کام

ن م راشد

نام کتاب: مقالاتِ ن م راشد

مرتب: شیما مجید

صفحات: 526

قیمت: 500 روپے

ناشر: بک ٹائم، اردو بازار، کراچی۔ پاکستان

ن م راشد اردو کے ان شاعروں میں سے ہیں، جنھیں شاعروں کے شاعر کہا جا سکتا ہے۔ ان کی شاعری خواص کی پسند ہے لیکن یہ خواص معاشرے والے نہیں ہیں۔ معاشرے والے خواص اُن شاعروں اور ادیبوں کے لیے بڑے اہم ہوتے ہیں جو رند بھی رہنا چاہتے ہیں اور جنت سے بھی دستبردار نہیں ہونا چاہتے۔ اس کتاب میں راشد کے مضامین، پیش لفظ، تقریریں اور خطوط جمع کیے گئے ہیں۔ کل ملا کر چھیاسٹھ تحریریں یا ملاحظات ہیں جو بکھرے ہوئے تھے۔

یہ اس اعتبار سے انتہائی اہم ہیں کہ ان کی مدد سے نہ صرف راشد کی تخلیقی شخصیت بڑی حد تک سامنے آ جاتی ہے بلکہ بہت سے ایسے تصورات پر بھی ان کی رائے سامنے آتی ہے جن پر کم لوگوں نے بات کی ہے۔ کتاب کا ایک دلچسپ حصہ کتابوں کے وہ تبصرے ہیں جو انھوں نے ریڈیو سے کیے۔ ان کو دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ ادب کے بارے میں کیسی نظر رکھتے تھے۔ ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ اکثر تحریروں پر مکمل حوالے موجود ہیں۔

پورن بھگت اور راجہ رسالو کی کہانی

پورن بانی

نام کتاب: پورن بانی (پورن بھگت اتے راجہ رسالو دی کتھا)

مصنف: احسان باجوہ

صفحات: 528

ناشر: سانجھ سویر، قلعہ صثبہ سنگھ(کالر وال) پسرور، سیالکوٹ۔ پاکستان

یہ احسان باجوہ کی اب تک شائع ہونے والی پانچ کتابوں میں سے چوتھی کتاب ہے۔ اس سے پہلے ان کے دو شعری مجموعے، ’کوار گندل‘، ’پیلوں پکیاں نیں‘ اور ایک ناول ’لہو رنگی سویر‘ شائع ہو چکے ہیں۔ وہ رائج زبانوں کے علاوہ فارسی اور جرمن بھی جانتے ہیں۔

پورن بانی پورن بھگت اور راجہ رسالو کی منظوم کتھا ہے اور نو ہزار دو سو سات اشعار پر مشتمل ہے۔ پورن بھگت پنجابی کی لوک داستانوں میں سے ایک ہے اور احسان باجوہ کے مطابق اب تک نو سو ایک شعرا نے اس پر اپنی طبع کو آزمایا ہے۔ اس اعتبار سے پنجابی کے ایک منفرد مزاج کی حامل ہے اور اس میں قدیم داستانوں اور لوک کہانیوں قصوں کی مقرر تخلیق یا ری کری ایشن کی روایت نئے تخلیق کاروں کے لیے ایک چیلنج ہوتی ہے۔ احسان باجوہ نے بھی غالبًا اسی چینلنج کو قبول کیا ہے۔ یہ کتاب اسی حوالے سے پنجابی پڑھنے اور پڑھ سکنے والوں کے لیے دلچسپی کی حامل ہو گی۔

ایمن کا پہلا ناول چوتھی کتاب

کنگلے کا بنگلہ

نام کتاب: کنگلے کا بنگلہ

مصنف: م ص ایمن

صفحات: 284

قیمت: 330 روپے

ناشر: ایمن پبلی کیشنز، ایمن لائبریری و بک سینٹر، پارسی گیٹ، کراچی 75460

یہ م ص ایمن کی چوتھی کتاب اور پہلا ناول ہے۔ اس سے پہلے ان کے تین کتابیں ’ہاؤس فل‘، ’گلوبل عید‘ اور ’ہس بے توفیق‘ کے ناموں سے شائع ہو چکی ہیں۔ یہ کتابیں مختلف موضوعات پر ہیں۔ مثلًا ہاؤس فل کے بارے میں انھوں نے کہا تھا کہ ’یہ واحد کتاب ہے جو یہ بتائے گی کہ 2000 پورا ہوے بغیر اکیسویں صدی کیسے شروع ہو گی؟‘۔ پھر گلوبل عید کے بارے میں انھوں نے کہا ’پوری دنیا میں ایک ہی دن عید کیسے ممکن ہے؟‘ اس کے بعد تیسری کتاب میں انھوں نے کہا کہ ’اُس بگاڑ کا سدھار ناممکن ہے جسے تسلیم ہی نہ کیا جائے‘۔ ’ہس بے توفیق‘ میں حسبِ توفیق اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن ان کی یہ چوتھی کتاب ’کنگلے کا بنگلہ‘ ناول ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔