کاروبار کی فکر بچوں کی فلموں میں رکاوٹ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 16:36 GMT 21:36 PST

امول گپتے نے فلم تارے زمین پر بنائی جس میں درشیل سفاری نے مرکزی کردار ادا کیا۔

بھارتی فلمی صنعت کو سو سال پورے ہونے والے ہیں۔ ان سو برسوں میں فلم نے کئی رنگ بدلے لیکن ایک چیز بالکل نہیں بدلی اور وہ یہ کہ بچوں کے لیے پہلے بھی کم فلمیں بنتی تھی اور آج بھی کم ہی فلمیں بنتی ہیں۔

شاید بچوں کے لیے بنائی جانے والی فلموں میں فلمساز محض اس لیے پیسہ نہیں لگانا چاہتے کیونکہ ان فلموں کے باکس آفس پر اچھا کاروبار کرنے کی ضمانت نہیں ہوتی۔

’تارے زمین پر‘ کے مصنف اور ’سٹینلي کا ڈبہ‘ کے ہدایتکار امول گپتے نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا ’ ہمارے یہاں بچوں کے لیے بہت ہی کم فلمیں بنتی ہیں۔اسی بات سے پتہ چل جاتا ہے کہ ہم بچوں کی کتنی عزت کرتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے یہاں بچوں کو بچہ سمجھ کر کاٹ دیا جاتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے بچے تو بس چاکلیٹ اور ایک میچ میں ہی خوش ہیں۔ جس دن ہم بچوں سے مضبوط دوستی کر لیں گے، اس دن ایک نیا سورج طلوع ہوگا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’آج کی تاریخ میں آپ اگر بچوں کے لیے کوئی فلم بنانا چاہتے ہیں تو آپ سے براہ راست پوچھا جاتا ہے کہ اس فلم کا ’ریونیو ماڈل‘ کیا ہے۔ فلمساز سیدھا سیدھا کہتے ہیں کہ ہم اس فلم میں جو پیسہ لگائیں گے وہ تو ہمیں واپس ملے گا ہی نہیں۔‘

بچوں کے عالمی دن کے موقع پر امول تو یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ کیا ہم صرف پیسوں کے لیے بچوں کے علم میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں یا پھر ہم سچ میں چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے نئی چیزیں سیکھیں۔

"ہمارے یہاں بچوں کے لئے بہت ہی کم فلمز بنتی ہیں۔ اسی بات سے پتہ چل جاتا ہے کہ ہم بچوں کی کتنی عزت کرتے ہیں۔ ہمارے یہاں بچوں کو بچہ سمجھ کر کاٹ دیا جاتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے بچے تو بس چاکلیٹ اور ایک میچ میں ہی خوش ہیں۔ جس دن ہم بچوں سے مضبوط دوستی کر لیں گے، اس دن ایک نیا سورج طلوع ہوگا۔"

امول لکھاری بھی ہیں، اداکاری بھی کرتے ہیں اور ہدایت کار بھی ہیں۔ بی بی سی نے امول سے پوچھا کہ جب وہ اپنی فلم میں بچوں کے ساتھ کام کرتے ہیں تو کیسا ماحول ہوتا ہے؟

اس سوال کے جواب میں امول کہتے ہیں،’سب سے پہلے تو میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میں بچوں کے ساتھ کام نہیں کرتا اور نہ ہی بچے میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ہم تو بس مستی کرتے ہیں‘۔

وہ کہتے ہیں ’فلم اکیسویں صدی کا فن ہے۔ بچے اگر اس فن میں دلچسپی لے رہے ہیں تو ان کی دلچسپی کو بڑھانے کے لئے ہمیں انہیں اچھی فلمیں دکھانا ضروری ہے‘۔

امول کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو چارلي چپلن کی فلم ’دی كِڈ‘ دیکھنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ امول کے مطابق ’یہ ایک انتہائی خوبصورت فلم ہے۔‘

امول ایران کے ماجد مجيدي کی فلم ’چلڈرن آف ہیون‘ دیکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ فلم دل کو چُھونے والی ہونے کے ساتھ ساتھ حقیقت کے بہت قریب بھی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔