بی بی سی کا لارڈ مک الپائن سے سمجھوتہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 16 نومبر 2012 ,‭ 05:38 GMT 10:38 PST

لارڈ مک الپائن کے وکیل نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ بہت سے نمایاں افراد نے ان سے توہین آمیز ٹویٹس پر پہلے سے ہی معذرت کر لی ہے

بی بی سی نے لارڈ مک الپائن کے ساتھ، ان کی جانب سے ہتکِ عزت کے دعوے کی بابت ایک سمجھوتہ کر لیا ہے۔

بی بی سی کے ایک پروگرام نیوز نائٹ میں لارڈ مک الپائن پر بچوں کے ساتھ جنسی تعلقات کا غلط الزام لگائے جانے کے بعد بی بی سی کے ڈایریکٹر جنرل جارج اینٹ وسل اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔

بی بی سی اس سمجھوتے کے تحت لارڈ مک الپائن کو ایک لاکھ پچاسی ہزار پاؤنڈ علاوہ اخراجات کے ادا کرے گی۔

بی بی سی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سمجھوتہ تفصیلی ہے اور لگائے گئے الزامات کی سنگینی کی غمازی کرتا ہے۔

ٹوری پارٹی سے تعلق رکھنے والے برطانوی پارلیمان کے ایوان بالا کے سابق رکن لارڈ مک الپائن کا کہنا تھا کہ ان کے لیے اپنے آپ کو عوام کی نفرت کا مرکز پانا ایک دہشت ناک عمل تھا۔

انہوں نے کہا ’میں بی بی سی کے ساتھ اتنی جلدی ہی ایک سمجھوتہ ہونے پر خوش ہوں اور مجھے یہ علم ہے کہ اس سمجھوتے کے نتیجے میں ادا کی جانے والی رقم عوام کی جانب سے ادا کی گئی ٹی وی لائسنس فیس سے آئے گی۔ اس امر کو میں نے معاہدہ کرتے ہوئے مد نظر رکھا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’اب ہم دوسری تنظیموں اور اداروں کے ساتھ بھی سمجھوتہ کرنے کے لیے بات کریں گے جنہوں نے میرے خلاف توہین آمیز باتیں شائع کیں اور اُن افراد کے خلاف جنہوں نے ٹوئٹر پر مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی۔‘

لارڈ مک الپائن کے وکلا کے مطابق اس سمجھوتے کی شرائط کچھ دنوں میں عدالت میں پیش کی جائیں گیں۔

بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل جارج اینٹ وسل نے نیوز نائٹ کے اِس پروگرام کے نتیجے میں اتوار گیارہ نومبر کو استعفیٰ دے دیا تھا۔

بی بی سی نے اس مہینے کے آغاز میں شمالی ویلز کے ایک عمر رسیدہ افراد کے مرکز میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتیوں پر ایک پروگرام نشر کیا تھا جس میں لارڈ مک الپائن کا نام تو نہیں لیا گیا تھا مگر انٹرنیٹ پر ان کا نام غلط طور پر اس معاملے سے جوڑا گیا۔

بی بی سی کے ہوم ایڈیٹر مارک ایسٹن نے کہا کہ بی بی سی لارڈ مک الپائن سے عدالت میں معذرت کرے گی اور لارڈ مک الپائن بھی اس بارے میں ایک بیان دیں گے جسے ہمارے نامہ نگار ایک غیر معمولی اقدام قرار دے رہے ہیں۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق لارڈ مک الپائن اپنے بیان میں کہیں گے کہ وہ اب بھی بی بی سی کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

اس سے پہلے بی بی سی نے اس پروگرام کے بارے میں معذرت کی ہے اور اس پروگرام کے حوالے سے بی بی سی اور برطانیہ میں میڈیا کا نگراں ادارہ آف کام، دونوں تحقیقات کر رہے ہیں۔

لارڈ مک الپائن نے کہا ’کسی شخص کے ساتھ اس سے برا سلوک نہیں ممکن ہو سکتا کہ اسے بچوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنے والا شخص قرار دیا جائے۔‘

’بچوں سے جنسی تعلقات رکھنے والے افراد یقیناً نفرت کا مورد ہوتے ہیں اور اچانک آپ اپنے آپ کو اس طرح کے ایک شخص کے طور پر عوام کی نفرت کا مرکز بنا ہوا پاتے ہیں، یہ بہت ڈرا دینے والا احساس ہے۔‘

کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والے پارلیمان کے رکن روب ولسن نے کہا ’یہ بی بی سی ے لیے ایک بہت مہنگا سبق ہے کہ بی بی سی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ صحافت کے اعلیٰ معیار اور غیر جانبداری کو برقرار رکھے۔‘

’یہ سمجھوتہ بہت مہنگا ہے اور خصوصاً لائسنس فیس ادا کرنے والوں پر بہت گراں ہوگا مگر بد قسمتی سے ایک لمبا عرصہ چلنے والا عدالتی مقدمہ اس سے کہیں زیادہ مہنگا ثابت ہوتا۔‘

"یہ بی بی سی کے لیے ایک بہت مہنگا سبق ہے اور بی بی سی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ صحافت کے اعلیٰ معیار اور غیر جانبداری کو برقرار رکھے۔"

کنزرویٹو پارٹی کے رکن پارلیمان روب ولسن

نیوز نائٹ کے اس پروگرام کے نتیجے میں بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل جارج اینٹ وسل نے اتوار کو اپنا استعفی پیش کیا اور قائم مقام ڈائریکٹر ٹم ڈیویس کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر لارڈ مک الپائن سے معذرت کر سکیں گے۔

لارڈ مک الپائن کے وکیل اینڈریو ریڈ نے نیوز نائٹ کے پروگرام کے حوالے سے ٹوئٹر پر ان کے مؤکل کا نام لینے والے افراد سے اپیل کہ وہ سامنے آئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانوی پارلیمان کے ایوانِ زیریں سپیکر جان برکو کی اہلیہ سیلی برکو نے ابھی تک ان سے اپنی ٹویٹس کی بابت معذرت کے لیے رابطہ نہیں کیا ہے۔

سیلی برکو نے اپنی ٹویٹ میں اپنا موقف یہی رکھا کہ ان کی ٹویٹ ہتک عزت نہیں بلکہ صرف ایک بیوقوفی تھی۔

لارڈ الپائن کے وکیل نے تصدیق کی کہ بہت سے نمایاں افراد نے ان سے پہلے سے ہی معذرت کر لی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔