’نظمِ نو‘ اور’اجرا‘ کے نئے شمارے

آخری وقت اشاعت:  پير 26 نومبر 2012 ,‭ 01:45 GMT 06:45 PST

کراچی سے شائع ہونے علی ساحل کے کتابی سلسلے ’نظم نو‘ کی تیسری اور احسن سلیم کے ’اجرا‘ کی گیارہویں کتاب شائع ہوئی ہے۔

ان دونوں میں دلچسپ فرق صرف یہ ہے کہ ’اجرا‘ میں فی زمانہ لکھی جانے والی ہر طرح کی تحریریں ہیں جب کہ ’نظمِ نو‘ صرف نظمیں شائع کرتا ہے اور تنقیدی تحریریں بھی اسی حوالے سے ہوتی ہیں۔

صرف شاعری کے لیے

نام: کتابی سلسلہ، ’نظمِ نو - 3‘

ترتیب وتالیف: علی ساحل

صفحات: 240

قیمت: 200 روپے

ناشر: نظم ِ نو پبلی کیشنز، R-166, 15A3 بفر زون کراچی

رابطہ:nazmenau@gmail.com

نظم ِ نو کی اس کتاب، انتھولوجی یا انتخاب کا بڑا حصہ پروز پوئم یا نثری شاعری یا نظمِ نو کے لیے مخصوص ہے۔ اس کی ابتدا ہی اس معاملے پر بحث سے ہوتی ہے اور یہ بحث اداریے میں کی گئی ہے۔ اس کے بعد پہلا مضمون ’نثری نظم کا مقدمہ‘ ہے جو ابرار احمد نے دائر کیا ہے۔ اس کے بعد نظموں کا حصہ ہے جس میں احمد صغیر صدیقی، ستیہ پال آنند، علی محمد فرشی، اقتدار جاویذ، عامر سہیل، صبا اکرام، حمیدہ شاہین، شہاب صفدر، قاضی اعجاز محور، عطاالرحمٰن قاضی، رخسانہ صبا، معصومہ شیرازی، اور علی زیرک شامل ہیں۔

اس کے بعد گوشۂ خاص ہے جس میں عذرا عباس کے شاعری اور شخصیت کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں عذرا عباس پر افتخار جالب کا مضمون ہے، عذرا عباس سے سحر علی کی گفتگو ہے، عذرا عباس کے لیے احمد جاوید کی نظمیں ہیں، خود عذرا عباس کی نظمیں ہیں جو انھوں نے اپنے ان دوست شاعروں کے بارے میں لکھی ہیں جو اب اس دنیا سے گذر چکے ہیں پھر ان کی طویل نظم ’نیند کی مسافتیں‘ سے انتخاب ہے۔

اس کے بعد نظمِ نو کا حصہ ہے جس میں افضال احمد سید، عذرا عباس، انور سِن رائے، احمد صغیر صدیقی، ابرار احمد، سعید الدین، جمیل الرحمٰن، انجم سلیمی، خورشید اکرم، تنویر انجم، محسن شکیل، نعمان شوق، سائرہ غلام نبی، زاہد امروز، عابد کاظمی اور علی ساحل شامل ہیں۔

تراجم کے عنوان سے شائع کیے گئے حصے میں سرویشوردیال سکسینہ، اسد زیدی، بھگوت راوت، ڈاکٹر منظور قادر، اور ارشاد کاظمی کی شاعری کے تراجم اور ماخوذات ہیں جو اسد محمد خان، انور سِن رائے، نعمان شوق، جہانگیر عباسی اور نوید سروش نے کیے ہیں۔ اس کے بعد انتخاب کا حصہ ہے جس میں اس بار کیفی اعظمی، ثروت حسین، سارہ شگفتہ اور ذیشان ساحل کی شاعری سے انتخاب کیا گیا ہے۔ خصوصی مطالعوں میں ڈاکٹر ناصر عباس ناصر نے علی محمد کی تمثال سازی کا جائزہ لیا ہے اور قاسم یعقوب نے، نئے انکشاف کی روحانی مشقت کے عنوان سے انجم سلیمی کی نظموں کا جائزہ لیا ہے۔

ہر طرح کی معاصر تحریریں

نام: کتابی سلسلہ: اجرا، 11، جولائی تا ستمبر 2012

مدیر: احسن سلیم

صفحات: 576

قیمت: 400 روپے

ناشر: اجرا، 1-G-3/2 ناظم آباد۔ کراچی، پاکستان

اجرا 11 میں شاہین نیازی کی گفتگو سے ابتدا کی گئی ہے۔ اداریہ اور رفتگانِ ادب پر تعزیت کے بعد ’نشاظِ باریابی‘ کے عنوان سے ظفر اقبال، ریاض ندیم نیازی، ناصر زیدی، قاضی حبیب الرحمٰن، شقیق احمد فاروقی، نورین طلعت عروبہ، اور میثم علی آغا کی حمد، نعت، سلام و منتقبت ہیں۔ پھر ڈاکٹر مرزا حامد بیگ نے ’شہاب نامہ کی حقیقت‘ پر بات کی ہے۔

نظموں کے پہلے حصے میں ستیہ پال آنند، انوار فیروز، محمد امین، غلام حسین ساجد، کرامت بخاری، سید ایاز محمود، سید شاکر جعفری، طالب انصاری، شہاب صفدر، اختر رضا سلیمی، شاہین عباس، ارشد معراج، رئیس الدین رئیس، سلیم شہزاد، عطا الرحمٰن قاضی، تسنیم کوثر، نعیم رضا بھٹی، رفیع اللہ میاں، فیض عالم بابر، محمد شہباز اکمل، یاسمین حامد اور احمد سلیم شامل ہیں۔

مشرق و مغرب کے عنوان سے قائم کیے گئے تراجم کے حصے میں شام کے شاعر اڈونس، آلڈس ہکسلے، پری مود، روزا منڈی پلجر، جے ایف ولسن، رابرٹ ایم کوٹس، سمر سیٹ ماہم، اور آرتھر کونن ڈائل کے تراجم ہیں جو اقتدار جاوید، سلیم آغا قزلباش، خان احمد فاروق، سید ارشاد وارث، ابوفرح ہمایوں، سلیم صدیقی، نجیب عمر، اور صابر بدر جعفری نے کیے ہیں۔

’نافۂ نایاب‘ کے عنوان سے قائم کیے گئے حصے میں مرزا غالب، شہریار، وہاب اشرفی، مہدی حسن کی گائیکی، استاد بڑے غلام علی، مالیتی جیلانی، قراۃ العین حیدر، ہاجرہ مسرور اور شاگرد رشید عمر تھانوی کے بارے میں پرتو روہیلہ، ناصر عباس نیّر، دانیال طراز، غلام شبیر رانا، ڈاکٹر منظر اعجاز، علی تنہا، جاوید اختر بھٹی، علی احمد برقی اعظمی اور کمال احمد رضوی کی تحریریں ہیں۔

تحقیق، تنقید اور مطالعاتی تجزیے

تحقیق، تنقید اور مطالعاتی تجزیوں کے حصے میں تشنہ بریلوی نے ’مارکسزم اکیسویں صدی میں‘، اسلم جمشید پوری نے ’کیا منٹو ترقی پسند تھا؟‘، رئیس فاطمہ نے ڈاکٹر رشید جہاں، شائستہ فاخری نے اکیسویں صدی کا ادب، سید شاکر جعفری نے ’حمایت علی شاعر اور میں‘، اور یشب تمنا نے ’مگر سوال تقدیس کا نہیں‘ کے عنوانات سے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

غزلوں کے حصے میں ظفر اقبال، روحی کنجاہی، خالد طور، ناصر زیدی، صابر ظفر، سلیم کوثر، جان کشمیری، غلام حسین ساجد، صفدر صدیقی رضی، سید ایاز محمود، ایچ اقبال، محسن اصرار، عارف شفیق، کرامت بخاری، شوکت مہدی، سید قاسم جلال، شفیق احمد فاروقی، شہاب صفدر، سلیم فراز، لیاقت جعفری، اسلم محمود، سید شاکر جعفری، عادل لیاقت، شہپر رسول، انجم جاوید، میثم علی جان، یاسر اقبال، احمد عطا، فیض عالم بابر اور ندیم ہاشمی کا کلام ہے۔

داستان سرا میں جتندر بلو، سمیع آہوجہ، محمد سعید شیخ، مشرف عال ذوقی، اختر آزاد، اجمل اعجاز، مسعود صابر، نجم الدین احمد، شاہد رضوان، رضوانہ شمسی، فائق احمد اور تیمور اختر کے افسانے، کہانیاں اور ناولٹ ہیں۔

تحقیق، تنقید اور مطالعاتی تجزیوں کے حصے میں تشنہ بریلوی نے ’مارکسزم اکیسویں صدی میں‘، اسلم جمشید پوری نے ’کیا منٹو ترقی پسند تھا؟‘، رئیس فاطمہ نے ڈاکٹر رشید جہاں، شائستہ فاخری نے اکیسویں صدی کا ادب، سید شاکر جعفری نے ’حمایت علی شاعر اور میں‘، اور یشب تمنا نے ’مگر سوال تقدیس کا نہیں‘ کے عنوانات سے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

طنز و مزاح کے حوالے سے عنایت علی خان پر ظہیر خان کی تحریر کے بعد مطالعوں کا حصہ ہے جس میں محمود عزیز نے ممتاز احمد خان کی کتاب ’اردو ناول کے ہمہ گیر سروکار‘ کا، علی حیدر ملک نے سعود عثمانی کی شاعری کا، راشد اشرف نے جون ایلیا کی تحریروں کے مجموعے ’فرنود‘ کا، سید ایاز محمود نے وحید احمد کے ناول ’مندری والا‘ کا، خواجہ رضی حیدر نے عارف شفیق کی مجموعے یقین کا، صلاح الدین حیدر نے سعدیہ کے افسانوں کے مجموعے ’بند ہوتی آنکھیں‘ کا، خالد محمود نے غازی علم الدین کی کتاب ’لسانی مطالعے‘ کا، ’سماجی تشکیلِ نو کے اصول‘ کے عنوان سے برٹرنڈ رسل کی تحریروں اور ابو فرح کے ترجمے پر مشتمل کتاب کا امین جالندھری نے جائزہ لیا ہے۔ اس کے علاوہ مدیر کے نام خطوط کا حصہ بھی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔