پانچویں عالمی اردو کانفرنس کا افتتاح

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 7 دسمبر 2012 ,‭ 02:05 GMT 07:05 PST
اردو کانفرنس

کانفرنس میں ضیا محی الدین کو آرٹس کونسل کی طرف سے ’اعترافِ کمال‘ شیلڈ دی گئی۔ احمد شاہ شیلڈ پیش کر رہے ہیں اس موقع پر راحت کاظمی، شمیم حنفی، انتظار حسین، محمود احمد خان اور آصف فرخی

جمرات کو کراچی آرٹس کونسل پاکستان کے زیر اہتمام پانچویں عالمی اردو کانفرنس شروع ہوئی۔ اس چار روزہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ہندستان سے آنے والے مندوب ممتاز نقاد ڈاکٹر شمیم حنفی نے ’ہندوستان میں اردو ادب کا اجمالی جائزہ، اور ممتاز فکشن نگار انتظار حسین نے ’پاکستان میں اردو ادب کا اجمالی جائزہ‘ کے عنوانوں سے بات کی۔ جب کے آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے استقبالیہ اور کونسل کے سیکریٹری نے مندوبین اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

افتتاحی اجلاس کی مجلس صدارت ڈاکٹر شمیم حنفی ، فاطمہ ثریا بجیا، ڈاکٹر اسلم فرخی، انتظار حسین، حمایت علی شاعر، ڈاکٹر پیر زادہ قاسم، محمد علی صدیقی، ڈاکٹر مبارک علی، کشور ناہید، مسعود اشعر، امینہ سید، ڈاکٹر انور سجاد، درمش بلگر، سعید نقوی اور محمد حسین سید پر مشتمل تھی۔

پہلے روز کے دوسرے سیشن میں دوسرے اور تیسرے سیشن کو ملا کر ایک کر دیا گیا۔ یہ سیشن نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس، ناپا سے شائع ہونے والی کتابوں، ضیا محی الدین کی ’تھیٹرکس‘، شکیسپئر کے دو کھیل ترجمہ خالد احمد، دو یونانی کلاسیکی ڈرامے ترجمہ عقیل روبی کے اجرا کے حوالے سے تھا۔ جبکہ دوسرا سیشن ’ضیا محی الدین اعترافِ کمال‘ کے عنوان سے تھا۔ اس سیشن کی مجلسِ صدارت شمیم حنفی، انتظار حسین، راحت کاظمی، آصف فرخی اور احمد شاہ پر مشتمل تھی۔ اس سیشن میں شمیم حنفی، انتظار حسین، راحت کاظمی اور آصف فرخی نے خطاب کیا۔ نظامت ارشد محمود نے کی اور آخر میں خود ضیا محی الدین نے الف لیلٰی پر انتظار حسین کا پیش لفظ، مشتاق یوسفی، ابنِ انشا کی تحریریں اور میرا جی کی نظم سمندر کا بلاوا پڑھی۔

افتتاحی اجلاس میں شمیم حنفی نے کہا کہ یہاں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جن کے بغیر میں کچھ بھی نہیں۔کبھی کبھی تاریخ اٹھا کر دیکھتا ہوں تو خیال آتا ہے میرے لیے کوئی ایسی روایت وجود نہیں رکھتی ہے جس میں سب لوگ ہوں۔

اردو کانفرنس

پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے پانچویں روز دوسرے سیشن میں ممتاز اردو فکشن نگار انتظار حسین نے ضیا محی الدین کے فن اور شخصیت پر بات کی۔

انہوں نے کہا کہ اردو ہندوستان کی دو درجن زبانوں میں سے ایک ہے۔ ہمارامعاشرہ ادبی روایت کے حوالے سے جن مسائل سے دوچار اس کی وجہ سنجیدہ ادب پڑھنے والوں کے حلقے کا محدود ہونا ہے۔ پاکستان میں مزاحمتی ادب موجود ہے جبکہ ہندوستان میں مزاحمتی ادب کی روایت موجود نہیں۔ میں اس وقت سے ڈرتا ہوں جب لوگوں کے درمیان کو ئی اختلاف نہ رہ جا ئے اور وہ ایک طرح کا سوچنے لگیں۔

انھوں نے کہا کہ اردو کے مقابلے میں ہندی میں تانیثیت کی روایت نے زیادہ ترقی کی ہے۔ لیکن اردو ہندوستان کی کسی بھی زبان سے پیچھے نہیں۔

انتظار حسین نے کہا کہ اردو ادب کی روایت ایک ہی چلی آ رہی تھی کہ دو ملک بن گئے۔ ہندوستان میں تہذیب اور قومی شناخت اب بھی وہی ہے مسئلہ صرف پاکستان کے لیے ہوا ہے۔

عسکری صاحب نے پاکستانی ادب کا سوال اٹھایا لیکن انھیں جلدی بہت تھی، اس لیے جلد ہی مایوس ہو گئے اور کہا اٹھیے یہاں ادب نہیں چلے گا کرکٹ چلے گی۔ انتظار حسین کا کہنا تھا کہ تقسیم سے تاریخ ساز تصور ٹوٹ گیا۔ کچھ کہتے ہیں تہذیب موہنجو دڑو سے شروع ہوتی ہے تو کچھ کہتے ہیں محمد بن قاسم سے۔

انھوں نے کہا کہ تہذیب کے بارے میں ہمارا سوال کالا باغ ڈیم کا سوال بن گیا ہے اور اسی میں ہماری قومی شناخت مضمر ہے۔

سب سے پہلے آرٹس کونسل آف پاکستان کے صدر محمد احمد شاہ نے تمام مندوبین اور شرکا کاشکریہ ادا کیا اور کراچی کے شہریوں سے ان کا رشتہ شہر کا ہی نہیں، تہذیبی اور ثقافتی رشتہ ہے جو برسوں پر محیط ہے ۔

اردو کانفرنس

کانفرنس کی افتتاحی اجلاس میں کی مجلس صدارت (بائیں سے دائیں) احمد شاہ، محمد حسین سید، انور سجاد، حمایت علی شاعر، ڈاکٹر اسلم فرخی، انتظار حسین، محمد علی صدیقی، کشور ناہید، ڈاکٹر پیر زادہ قاسم، امینہ سید، ڈاکٹر مبارک علی، درمش بلگرامی، مسعود اشعر، اور سعید نقوی

انہوں نے کہا کہ ادبی کمیٹی کے چیئرمین پروفیسر سحر انصاری جن کی بدولت اس کانفرنس کا انعقاد شروع ہوا وہ ان دنوں شدید علیل ہیں۔ افتتاحی اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے انجام دیے۔

دوسرے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شمیم حنفی نے کہا ہے کہ ضیا محی الدین سے انھوں نے الفاظ کو برتنے کا فن سیکھا حالانکہ انہیں ان سے ایک ہی تفصیلی ملاقات کا موقع ملا۔ ان کا کہنا تھا ہر لفظ پہلے آواز کی صورت میں کھُلتا ہے پھر اس کے معنی منکشف ہوتے ہیں۔

انتظار حسین نے کہا ضیا محی الدین کے بارے میں گفتگو کرنا مشکل ترین کام ہے کیونکہ یہ جامع الصفات شخصیت کے حامل ہیں۔ جو ان کے فن سے آ شنا ہو اور ان کی گفتگو سنی ہو وہ طے نہیں کر سکتے کہ وہ اردو کے آدمی ہیں یا انگر یزی کے۔ ان کی آواز اور ان کے تحت الفاظ میں پرانے لہجوں کو جمع کیا جا ئے تو یہ بہت بڑا کام ہو گا۔

اس سیشن میں سب سے پہلے ڈاکٹر آصف فرخی نے ناپا سے کتابوں کی اشاعت اور ڈرامے کے بارے میں بات کی اور ان کے بعد راحت کاظمی نے انتہائی ڈرامائی اور پُر لطف انداز میں ضیا محی الدین کے ساتھ کام کرنے کے تجربات پر روشنی ڈالی۔

راحت کاظمی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا میری اردو کی بہتری میں ضیا صاحب کی رہنمائی بہت کام آئی اور ان کے ساتھ کام کرنا اگرچہ بہت مشکل ہے لیکن میں خود کو اسی بنا پر خوش قسمت لوگوں میں شمار کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں ایسے چودہ ہزار لفظ جمع کیے جن کی اصلاح ضیامحی الدین نے کی ہے۔

اس سیشن کے پہلے دور کے اختتام پر جب ضیا محی الدین کو اعترافِ کمال شیلڈ پیش کی گئی تو حاضرین نے کھڑے ہو کر انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔