عالمی اردو کانفرنس: تیسرے دن منٹو چھائے رہے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 9 دسمبر 2012 ,‭ 11:51 GMT 16:51 PST

کراچی میں آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام پانچویں چار روزہ عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے دن پر سعادت حسن منٹو چھائے رہے۔ امن، ذرائع ابلاغ پر بات ہوئی اور شمیم حنفی، نصیر ترابی، آصف فرخی اور نعمان الحق کی کتابوں کا اجرا ہوا۔

جنوبی ایشیائی امن میں اہل قلم کا کردار

کراچی میں آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام پانچویں چار روزہ عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے دن پہلے اجلاس میں ’جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے اہل قلم کا کردار‘ پر گروپ گفتگو ہوئی۔ گفتگو میں شرکاء میں ڈاکٹر شمیم حنفی، انتظار حسین، ارشد محمود، غازی صلاح الدین، وسعت اللہ خان، ڈاکٹر جعفر احمد اور آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ شامل تھے۔

اس نشست میں بھارت کے ممتاز دانشور اور ادیب پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی نے کہا کہ ہمارا حال مختلف خانوں میں بٹا ہوا ہے اس طرح ہماری تاریخ بھی خانوں میں بٹی ہوئی ہے، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ میں کچھ سبق ہوتے ہیں جنہیں یاد رکھنا ہوگا اور کچھ باتیں ہیں جنھیں بھول جانا ہوگا۔ میرے لیے تو سیاست کا میدان اجنبی بستی ہے سیاست کے مسائل میری سمجھ میں نہیں آتے البتہ تہذیبی اعتبار سے جو صورت حال ہے اس پر کبھی سوچتا ہوں تو کسی مصنف کا معروف قول یاد آتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ مغلوں نے ہندوستان کو تین تحفے دئے۔ اردو زبان، تاج محل اور دیوان غالب جو ہمارا تہذیبی ورثہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہندوستان میں اردو صرف مسلمانوں کی زبان نہیں ہے مثلاً ممتاز لکھنے والوں میں پریم چند نمایاں ہیں۔ بد قسمتی سے جب ہم مسلمان اردو زبان پر سوچتے ہیں تو ہمارے ذہن میں صرف شمالی بھارت آتا ہے۔ ہم جنوبی ہندوستان کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ صلاح الدین محمود عاشق رسول بھی تھے اور میرا بائی کے پرستار بھی تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ میرا اسلام میرا بائی کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ برصغیر میں اسلامی روایت نہیں ہندو اسلامی روایت ہے۔ گنگا جمنی تہذیب کے کئی دھارے آکر ملتے ہیں۔ ایک دھارا عرب سے دوسرا جمنا۔ میں ان دونوں ممالک کے درمیان بہہ رہا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ انھیں ڈاکٹر ذاکر حسین کا ایک فقرہ یاد آ رہا کہ ’ہندوستان کی تہذیب میں سب سے بڑا حصہ مسلمانوں کا ہے۔ ’وہ دو چیزیں ہیں ایک تاج محل اور ایک اردو زبان ہے‘۔ اس میں محمد حسن عسکری نے یہ اضافہ کیا کہ یہ اردو زبان مسلمانوں کی طرف سے ایسا کنٹری بیوشن ہے جو ہندوستان کی تہذیب اور برصغیر کی تہذیب میں تاج محل سے بڑھ کر ہے۔ آخر میں کہا کہ میں تو غریب آدمی ہوں، اردو لکھنے والا ہوں، اردو ہی میں سمجھتا ہوں۔

ممتازموسیقار ارشد محمود نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موسیقی کی طاقت کی بے شمار مثالیں ہیں کہ اس طرح کی ہمیشہ ضرورت رہی ہے۔ موسیقی ایک ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے معاشرے میں کلچر کے فروغ کے ذریعے امن اور شانتی کو فروغ مل سکتا ہے اور ادب اور انسانی جذبات اچھائی کے حوالے سے دنیا بھر میں کام کا ذریعہ بنتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں ڈرامہ اور اکیڈمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس (ناپا) کے ہونے سے کبھی کبھار بیرونی ممالک سے رابطے ہو جاتے ہیں جس کی بنا پر وہ جنوبی ایشیا کے تھیٹر کو اردو میں ڈھال کر پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے اردو کو جنو بی ایشیا میں ایک ممتاز مقام بھی حاصل ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ آرٹ کے ذریعے جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ کے لیے کام کیا جا سکتا ہے۔

ممتاز صحافی غازی صلاح الدین نے کہا کہ ادب ابلاغ کا ذریعہ ہے ۔ رابطے جب تک نہ ہوں عوام، اداروں، ملکوں میں ترقی اور امن کے راستے نہیں کھلیں گے۔ ہندی اور اردو کا رشتہ بھی بہت اہم ہے اور یہ بات ہوئی کہ اردو کی کتنی عزت ہے۔ ہندوستان میں۔ لٹریری فیسٹول میں وکرم سیٹھ نے غالب کے خط کا انگیزی ترجمہ سنایا تھا۔ بالی وڈ اس علاقے کی تخلیقی صلاحیتوں کو اظہاردیتا ہے اور جو تبدیلی ہندوستان میں آئی ہے اس کا بڑا گہرا تعلق ہے۔

نیو یارک ٹائم نے فلم ’زندگی نہ ملے گی دوبارہ‘ پر تبصرہ کیا ہے کہ یہ وہ فلم ہے جو 25 سال میں بن کر ریلیز ہوئی مطلب 25 سال پہلے منموہن سنگھ نے جو اصلاحات قائم کی تھیں اس کے نتیجے میں جو معاشرہ قائم ہوا اور نئی جدت پیدا ہوئی تو یہ فلم اس کی عکاسی کرتی ہے۔ علاقائی ٹیلنٹ کو جمع کرنے کے لیے بالی وڈ ایک اچھا ذریعہ ہے۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا کہ 2003 میں دونوں ممالک کے درمیان جنگ کے بادل سروں پر منڈلا رہے تھے۔ ان حالات میں ہم نے 250ادیبوں، شعرا، فن کار و ثقافتی شخصیات کے ساتھ سیمینار کر کے احساس دلایا کہ جنگ مسائل کا حل نہیں۔ اس کی اطلاعات بھارت پہنچیں تو دلی سے ہمیں اظہار یکجہتی کا خط آیا جس میں دانشوروں اور ادیبوں نے لکھا کہ ہم بھی جنگ نہیں امن چاہتے ہیں۔

معروف صحافی وسعت اللہ خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سرینگر بہت ترقی پر ہے۔ پاکستان میں کچھ عناصر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو کشیدہ پیش کر کے غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں۔ سرینگر پہنچا تو بی بی سی لندن کا حوالہ عزت کاباعث بنا اور جب پاکستانی ہونے کا حوالہ دیا تو میری عزت میں کمی آگئی۔ ان کے دوستانہ رویوں میں اچانک تبدیلی دیکھ کر یہ احساس ہوا کہ ہندوستان کو ہندوؤں کا ملک قرار دیا جاتا ہے جبکہ وہاں بیس کروڑ مسلمان بھی ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تقابلی جائزے میں حقائق سے چشم پوشی کی جاتی ہے جس سے اعتماد کی فضا قائم ہونے کے بجائے دوریاں جنم لیتی ہیں۔ اس اجلاس کی صدارت ڈاکٹر جعفر احمد نے انجام دیے۔


’ذرائع ابلاغ چند غور طلب پہلو‘

تیسرے روز کا دوسرا اجلاس ’ذرائع ابلاغ چند غور طلب پہلو‘ کے عنوان سے ایک اجتماعی گفتگو کی شکل میں ہوا جس میں غازی صلاح الدین، محمد احمد شاہ، سرمد صہبائی، ڈاکٹر مبارک علی، مسعود اشعر، آصف جیلانی اور ڈاکٹر فاطمہ حسن نے حصہ لیا۔

لندن سے شریک ہونے والے مندوب سینیئر صحافی اور براڈ کاسٹر آصف جیلانی نے کہا کہ برطانیہ میں اردو کی شروعات بر صغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد شروع ہوئیں۔ اس طرح سے دوسری عالمی جنگ کے بعد اردو لندن میں پہنچی۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریزی اور اردو اخبارات کے میعار بالکل الگ الگ ہیں ۔ہندوستان کے جو اخبارات ہیں ان کا میعار قدرے بہتر ہے۔ اچھا کاروبار تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن انہوں نے علم و ادب کو فروغ دیا ہے ہمیں بھی کچھ تو سوچنا پڑے گا کہ ہم عوام کو کس طرف لے جا رہے ہیں۔

ممتاز تاریخ دان ڈاکٹر مبارک علی نے کہا کہ ہمارے سندھی اخبارات ہمارے معاشرے میں جو شعور پیدا کر رہے ہیں وہ دیگر اخبارات نہیں کر رہے۔ ہمیں شہروں سے نکل کر سندھ کے دیگر علاقوں کی جانب بھی توجہ دینا ہو گی۔ کیونکہ سندھی اخبارات اپنے گاؤں اور دیہاتوں کی چھوٹی چھوٹی خبر یں بھی نمایاں طور پر شائع کر تے ہیں۔

ممتاز صحافی اور کالم نگار غازی صلاح الدین نے کہا کہ ادب اور ذرائع ابلاغ میں فرق ہونا چاہیے۔ ماس میڈیاکو عوامی سطح پر ہونا چاہیے اور یہ کوئی بری بات نہیں ہے۔ پاکستانی معاشرہ آج انتہا پسند ی کا شکار ہے۔ میڈیا کے لیے اب یہ ممکن نہیں رہا ہے کہ وہ سچ بولے اب ریٹنگ کو بڑ ھانے کے لیے میڈیا نے اپنے میعار کوگر ا دیا ہے۔ ایک زمانے میں پڑھے لکھے لوگ محدود تھے اور میڈیا بھی اتنا ایڈوانس نہیں ہوا تھا۔ دنیا کے معاشرے میں تبدیلیوں کا سبب سوشل میڈیا ہے۔

سنیئر صحافی اخلاق احمد نے کہا کہ میں اٹھائیس برس سے صحافت میں ہوں مگر تین سال سے مارکیٹنگ کا شعبے سے منسلک ہوں اس دوران عوام کی جو رائے میرے سا منے آئی وہ نا قابل اشاعت ہی نہیں یہاں ناقابلِ بیان بھی ہے۔

گرما گرم بحث میں حصہ لیتے ہو ئے سنیئر صحافی احفاظ الرحمٰن نے کہا کہ میں نے حاضرین کی طرح اس خوبصورت بحث کو سنا اور پھر سوچا کہ ہم نے کچھ اور کیوں نہیں کیا یہ صحافت ہی کیوں اختیار کی۔ اس سے ہم کیا پیغام دینا چا ہتے ہیں۔ مالکان کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے۔ کچھ پیشے معاشرے کے لیے بہت ضروری ہیں جو معاشرے کو پروان چڑھاتے ہیں، جن میں استاد، ڈاکٹر، صحافی شامل ہیں۔ فنکار گلی میں ہر کردار کے ڈائیلاگ مختلف ہوتے ہیں۔ صحافت میں سچائی انتہائی ضروری ہو تی ہے۔ ٹیچر اگر ایمانداری سے نہیں پڑھاتا ہے تو وہ معاشرے کو ہلاک کر تا ہے۔

ممتاز صحافی وسعت اللہ خان نے کہا کہ ذرائع ابلاغ کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ ڈرامے اور میڈیا کا تعلق کیا بنتا ہے؟ ذرائع ابلاغ کی زبان صیحح ہے یا غلط؟ کیا وہ معاشرے کو سنوار رہا ہے یا بگاڑ کا باعث بنتا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ میڈیا ہماری زندگیوں میں شامل ہو چکا ہے ادب اور ذرائع ابلاغ کے درمیان لا ئن کھینچنا بڑا مشکل ہے۔ یہاں بھی اخبارات مولانا ظفر علی خان اور راشد الخیری جیسے ادیبوں نے نکالے۔ اس وقت کے ادیبو ں اور قلم کاروں نے ادب کو فروغ دیا اور اسی طرح ریڈیو شروع ہوا تو وہاں بھی ابتدا ادیبوں نے کی۔ یہی صورت ٹی وی کی بھی ہوئی لیکن تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ذرائع ابلاغ جب ادیبوں کے ہاتھوں سے نکل گئے تو صورتِ حال بہتر نہیں رہی۔

ممتازادیب، براڈکاسٹر اور ڈرامہ نگار سرمد صہبائی نے کہا کہ میڈیا والے آج ترکی جا رہے ہیں کیونکہ ’عشق ممنوع‘ مقبول ہوا ہے۔ ہر قوم کے پاس کچھ قومی شناختیں ہوتی ہیں لیکن ہمارے پاس نیشنل مصالحہ ہے۔ اب سب کچھ میڈیا کو دے دیا گیا ہے، اس لیے اس نے بطور کمرشل اسے اپنانا شروع کر دیا ہے۔ ہمارے ملک میں ملٹی نیشنل کمپنیاں آگے بڑھتی جا رہی ہیں۔ اب یہ ہمارے ادیب ، شاعر، کالم نگاروں پر منحصر ہے کہ وہ اسے کیسے ڈیل کرتے ہیں۔

اس موقعے پر گفتگو میں حصہ لیتے ہو ئے آرٹس کونسل کے صدربھی محمد احمد شاہ نے کہا کہ اب تو اخبارات کو تفصیل سے پڑ ھنے کی نوبت ہی نہیں آتی ہے کیونکہ بریکنگ نیوزسب سے پہلے سامنے آجاتی ہے۔ ہمیں میڈیا کے حوالے سے فوری معلومات ٹی وی سے میسر آ رہی ہیں۔

آخر میں مسعود اشعر نے کہا کہ میڈیا مشن کے تحت کام نہیں کر رہا بلکہ جو چیز بکتی ہے اسی پر کام ہو رہا ہے۔

’عظیم منٹو کی صدی‘

تیسرے دن کا تیسرا اجلاس’عظیم منٹو کی صدی، منٹو کی شخصیت کی ادبی جہات‘ کے عنوان سے ہوا اس میں ڈاکٹر ضیا الحسن، انتظار حسین، ڈاکٹر شمیم حنفی، مسعود اشعر، زاہدہ حنا، خالد فیاض اور پروفیسر رئیس فاطمہ نے حصہ لیا۔

ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ پانچویں عالمی اردوکانفرنس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور اس کانفرنس کی وجہ سے مجھےکئی بار صدارت مل گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعادت حسن منٹو جس عہد میں پیدا ہوئے وہ ایک بھر پور دور تھا اور ان کے بہت ہم عصر بھی بہت اچھا لکھنے والے تھے لیکن اب منٹو پر اس طرح بات ہو رہی ہے جیسے منٹو اکیلے پیدا ہوئے تھے۔ اس لیے جب منٹو کی بات ہو تو ان کے ہم عصروں کی بھی بات ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ منٹو صاحب پر بات نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر بو پر تنازع ہوا تھا تو لحاف اور پھسلن پر بھی ہوا تھا۔ لیکن اب تو ایسے لگتا ہے کہ منٹو 1947 کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا سینتالیس سے پہلے کرشن چندر مقبول افسانہ نگار تھے لیکن اس کے بعد بیدی اور منٹو نے تیزی سے شہرت حاصل کی۔

ممتاز ادیب ، دانشور پروفیسر شمیم حنفی نے کہا ہندوستان میں سعادت حسن منٹو پر اردو والوں سے زیادہ ہندی اور انگریزی والوں نے کام کیا ہے۔ یہ لوگ جنھوں نے منٹو پر کام کیا ہے ادب کے لوگ بھی نہیں ہیں بلکہ دوسرے مضامین کی تدریس کرتے مثلًا فلسفے، سائنس اور بزنس کی تدریس کرتے ہیں۔ لیکن مجھے یہ شکایت ہے کہ منٹو کے ہاں مجھے بڑے وژن کا سراغ نہیں ملتا۔ حالانکہ وہ بہت ہولناک اور دل میں اتر جانے والی کہانیاں لکھتے تھے اور باوجود اس کے کہ وہ ایک بڑا افسانہ نگار ہے۔

سعادت حسن منٹو کا ٹھیک جائزہ تب لیا جائے جب ہم انھیں آزادی اور فسادات اور تقسیم وغیرہ سے الگ کر کے دیکھیں گے اور ان کے دوسرے پہلوؤں پر نظر کریں گے۔ ایک اور سوال یہ ہے کہ اتنے بڑے افسانہ نگار ہونے کے بعد بھی ان کا ان کے بعد کے آنے والے افسانہ نگاروں پر اثر کیوں نہیں ہے۔ سعادت حسن منٹو کی انسان دوستی اور درد مندی مثالی تھی۔

منٹو نامہ کے نام سے پانچ جلدوں میں منٹو کی کلیات شائع کی گئی ہے۔ اس سے ہمیں پوری معلومات حاصل ہو سکتی ہیں۔اب تک ان کی دوسو اڑسٹھ کہانیوں کا سراغ ملا ہے۔ وہ مسلسل کہانیاں لکھتا ہی چلا جا رہا تھا اور لکھنے کی مشین بنا ہوا تھا۔ پریم چند بھی 58 برس زندہ رہے اور زندگی بھی بڑی آزمائشوں سے گزری۔ سعادت حسن منٹو کے معاصرین میں غلام عباس، راجندر سنگھ بیدی بہت اچھے افسانہ نگار ہیں لیکن اچھی کہانیوں کا جو تناسب منٹو کے ہاں ہے وہ کسی کے ہاں نہیں ہے۔

ممتاز ادیب و دانشور مسعود اشعر نے اپنے مقالے ’منٹو اور سماجی تبدیلیاں‘ میں کہا کہ آج ہم جس سماج میں حصہ لے رہے ہیں کیا وہ منٹو کی باتوں کو تسلیم کر لے گا وہ جس طرح سے ہمارے معاشرے کی چیر پھاڑ کرتا ہے کیا ہم اسے قبول کر لیں گے۔ سعادت حسن منٹو نے جس ملے جلے معاشرے میں لکھنا شروع کیا وہاں ہندو، سکھ ، مسلمان اور دیگر عقائد کے لوگ ایک ساتھ رہتے تھے۔ سعادت حسن منٹو کو برا بھلا بھی کہا گیا لیکن معاشرے کی سچائیوں کو وہ لکھنے سے بعض نہیں آیا۔ قیام پاکستان کے وقت ہم دوسروں کی بات سننے کا حوصلہ رکھتے تھے لیکن یہ بات اب ہمارے درمیان نظر ہی نہیں آتی ہے۔

ممتاز افسانہ نگار زاہدہ حنا نے کہا کہ سعادت حسن منٹو ہمارا ضمیر تھے اور ضمیر سے بڑا آئینہ اور کون ہو سکتا ہے۔ وہ پاکستان سے واپس جانا چاہتے تھے۔ سعادت حسن منٹو نے آج تک کے حالات 1951 میں لکھ دیے تھے۔ پاکستان کا جو حال ہونا تھا انہوں نے ضیا الحق کے دور میں رونما ہونے والے حالات کو بطور خاص پیش کر دیا تھا۔ زاہدہ حنا نے کہا کہ سعادت حسن منٹو کو اب ایک اچھے قلم کار کے طور پر جانا پہچانا جا رہا ہے لیکن ایک وقت تھا کہ انھیں فحش نگار اور نوجوانوں کا لکھاری قرار دیا گیا حالانکہ سعادت حسن منٹو ایک نہایت درد مند انسان تھے۔ بر صغیر ہندو پاک کی تقسیم کے وقت جو حالات انہوں نے دیکھے انہیں قلمبند کر دیا تھا۔ وہ پاکستان نہیں آنا چاہتے تھے لیکن ان کی شریک حیات صفیہ اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ پاکستان چلی آئیں پھر سعادت حسن منٹو یہاں آ کر ذلت کی زندگی بسر کرنے لگے اور ایک ایک بوتل کے لیے افسانہ لکھنے لگے۔ اس سے ان کے فن پر بھی شدید اثر پڑا۔

ممتاز ادیب و شاعر ڈاکٹر ضیاالحسن نے کہا کہ ایک عظیم فن کار ہمیں ہماری اصل شکل دکھاتا ہے۔ سعادت حسن منٹو کہتے ہیں کہ میں نے اپنے افسانے میں اپنی شرم ناک باتیں نہیں لکھیں جیسے مثنوی کی شاعری میں جنسی رویے ملتے ہیں۔ سعادت حسن منٹو کے اس رویے کو اگر عامیانہ کہا جائے گا تو ادب کا بہت بڑا حصہ خارج کرنا پڑے گا۔ ڈاکٹر ضیاء الحسن نے مزید کہا کہ جدید اردو ادب میں فحش نگاری جتنی سعادت حسن منٹو کے حصے میں آئی اتنی اور کسی کے حصے میں نہیں آئی۔ وہ فحش نگار نہیں تھے لیکن ان کی تحریروں پر فتوے جاری کیے جاتے رہے۔ ان کے رویّے میں جرات اور بے باکی نظر آتی ہے۔ پہلے جنسی مسائل کو ادیبوں نے اپنے الفاظ میں لکھا اور آج ہم اپنے الفاظ میں لکھ رہے ہیں۔ ہمارے جدید ادب میں جنسی مسائل پر کچھ نہیں ملتا ہے۔ آج کے ادیبوں کو جنس زدہ لکھ کر خارج کر دیا جاتا ہے۔ طوائف بری نہیں ہے بلکہ ہم نے اسے برا بنایا ہے۔ سعادت حسن منٹو کہتے ہیں کہ جنس اور عورت کے بارے میں سعادت حسن منٹو کے خیالات بالکل ہماری سوچ کے برعکس ہیں۔

ممتاز ادیب ایم خالد فیاض نے اپنے مکالے بعنوان ناقدین منٹو، ایک تنقیدی جائز ہ میں کہا کہ سعادت حسن منٹو پر کوئی باقاعدہ کتاب نہیں لکھی ہے۔ سعادت حسن منٹو نے اپنے تجربات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا اور سعادت حسن منٹو اپنے فن کے حوالے سے غیر سنجیدہ تھے۔ مختار شیریں کی کتاب ’نہ نوری نہ ناری‘ میں سعادت حسن منٹو کے بارے میں خاص تجزیہ کیا ہے۔ سعادت حسن منٹو کو ایک نقاد کی ضرورت تھی ایک ایسے نقاد کی جو صرف ان پر کام کرے۔

پروفیسر رئیس فاطمہ نے کہا کہ سعادت حسن منٹو کے دو مجموعے خاکوں کے بھی موجود ہیں لیکن ان پر کام نہیں کیا جا رہا۔ سعادت حسن منٹو اگر خاکہ نگاری پر توجہ دیتے تو وہ افسانہ نگاری سے زیادہ مقبول ہوتے۔ سعادت حسن منٹو اپنی خاکہ نگاری سے شخصیت کی زندگی کی بھر پور عکاسی کرنے کا کمال رکھتے ہیں۔ اعتدال اور توازن سعادت حسن منٹو کی زندگی میں نہیں تھا۔ ’گنجے فرشتے‘، ’میرا حشر‘ اور ’لاؤڈ اسپیکر‘ خاکوں کے مجموعے ہیں۔ پری چہرہ نسیم بانو اپنے دور کی حسین اداکارہ تھیں۔ ان کے بارے میں سعادت حسن منٹو نے بڑ ی حقیقت سے کام لیا۔ سعادت حسن منٹو نے رات مخملی بستر کے بجائے کانٹوں بھرے بستر پرگزاری تھی۔ سعادت حسن منٹو کے تمام خاکوں میں ان کی اپنی شخصیت زیادہ نظر آتی ہے۔ ادب میں دو اور دو چار کی گنجائش نہیں ہوتی ہے۔

ممتاز شاعرہ شاہدہ حسن نے کہا کہ ہم سعادت حسن منٹو کی صدی منا رہے ہیں۔ سعادت حسن منٹو پر افسانہ نگاری کی وجہ سے چھ بار مقدمات قائم ہوئے۔ تین مرتبہ آزادی سے پہلے اور تین مرتبہ آزادی کے بعد۔ ان کی بہترین کتابوں میں کالی شلوار، ٹھنڈا گوشت، لحاف اور دیگر شامل ہیں۔

’منٹو ریڈنگ‘

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری چار روزہ پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز پانچواں اجلاس عظیم افسانہ نگارسعادت حسین منٹو کے شاہکار افسانوں کی ڈرامائی ریڈنگ پر مشتمل تھا جو زنبیل ڈرامیٹک ریڈنگ گروپ نے کی۔

اس میں منٹو کی کتاب سیاہ حاشیے سے افسانہ مزدوری، تقسیم، بے خبری کا فائدہ، مناسب کارروائی، حلال کا جھٹکا، گھاٹے کا سودا، خبردار، کرامات، اصلاح، جیلی، دعوتِ امن، پٹھانستان، ٹیکسی، حیوانیت، خواب، استقلال، کسرِ نفی، نگرانی میں، جوتا، پیش بندی، سوری اور تعاون پڑھے گئے جبکہ ایک طویل افسانہ بھی پیش کیا گیا۔ حاضرین نے تمام ریڈنگس پر بھر پور داد دی۔ سیاہ حاشیے کا ایک حصہ پیش کیا گیا۔ حاضرین نے تمام پیشکشوں کو بے حد سراہا۔



نصیر ترابی کی ’شعریات‘ کا اجرا


تیسرے دن کا پانچواں اجلاس میں ممتاز شاعر نصیر ترابی کی کتاب ’شعریات‘ کی رسمِ اجرا کی تقریب تھا۔ جس کی صدارت ڈاکٹر شمیم حنفی نے کی۔ اس اجلاس سے مسعود اشعر اور خود نصیر ترابی نے بھی خطاب کیا۔

پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے تیسرے روز کا پانچویں اجلاس میں معروف شاعر نصیر ترابی کی کتاب شعریات کی تقریب اجرا ہوا۔ اس اجلاس کی صدارت پروفیسر شمیم حنفی نے کی۔ اس موقع پر پروفیسر شمیم حنفی کا کہنا تھا کہ نصیر ترابی کی کتاب شعریات سیکھنے والوں کے لیے نئے در کھولتی ہے نوجوان نسل اگر اس کتاب کو پڑھیں تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ ضرور فیض یاب ہوں گے نصیر ترابی نے اپنی کتاب مجھے تحفتاً پیش کی ہے جسے میں ہندوستان لے کر جاوں گا تاکہ وہاں کے لوگ بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔

نظامت کے فرائص جاوید حسن نے انجام دیے۔


منٹو ہر دور نئی کتابیں

تیسرے دن کے چھویں اجلاس میں شمیم حنفی کی کراچی سے شائع ہونے والی کتاب ’منٹو حقیقت سے علامت تک‘ اور آصف فرخی کا کیا ہوا سعادت حسن منٹو کے افسانوں کے کی تقریبِ اجرا ہوئی۔

اس اجلاس کی صدارت ممتاز افسانہ نگار اسد محمد خان نے کی۔ انہوں نے کہا کہ سو سال بہت ہوتے ہیں اور یہ سو سال ہمارے اعتبار سے اس لیے اچھے تھے کہ ان میں ایک تو اس اردو زبان میں اور دوسرے افسانے میں سعادت حسن منٹو پیدا ہوئے اور ایسے کہ صدی ان کی ہوگئی۔ کہانیاں لکھنے پر ان پر مقدمات بنائے گئے، جرمانے بھی ہوئے پر وہ اپنا کام کرتے رہے۔ آج ان کی تحسین کے لیے ان کو یاد رکھنا ایک خوش آئند بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ منٹو صاحب کی بلاشبہ کہانیاں پڑھی جائیں گی نامعلوم زمانے تک شکریہ منٹو صاحب۔

اس موقع پر مسعود اشعر نے کہا کہ منٹو کو گزرے دسیوں برس بیت گئے مگر وہ اپنی دھاک اپنی زندگی میں بٹھا گئے تھے آج ہم اس لیے جمع ہوئے ہیں کہ سعادت حسن منٹو ایک بڑے کہانی کار کا نام ہے۔ انھوں نے بتایا کے سعادت حسن منٹو روزنامہ احسان میں کالم لکھتے تھے اور ان کی کئی کہانیاں روزنامہ احسان میں شائع ہوئیں۔ ان کی مشہور کہانی ’اوپر نیچے اور درمیان‘ بھی احسان کے سنڈے ایڈیشن میں شائع ہوئی۔ مسعود اشعر نے بتایا کہ اس زمانے میں روزنامہ احسان ہی کام کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا آصف فرخی نے کہانیوں کا انتہائی عمدہ انتخاب کیا ہے اور اس میں ان کی تمام اہم کہانیاں شامل ہیں اس لیے اسے ایک نمائندہ انتخاب کہا جا سکتا ہے۔

اجلاس سے آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی سربراہ امینہ سید نے خطاب کیا اور کہا کہ ہم منٹو کی تمام تحریروں کو ایک جگہ جمع کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہم نے الف لیلہ طلسم ہوشربا، محمد خالد اختر کا کام اور داستان امیر حمزہ اور کئی اور کتابیں شایع کی ہیں اور افسانوں کے مزید انتخاب بھی شایع کرنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ اردو کی کئی کتابوں کے انگریزی ترجمے بھی شایع کیے گئے ہیں جن افتخار عارف اور فہیمدہ ریاض کی شاعری کے تراجم بھی شامل ہیں۔ ہماری کوشش ہے کہ اردو کی کتابیں انگریزی میں لائیں اور انہیں مغربی ممالک تک پہنچائیں تاکہ انھیں بھی ان انعامات میں شامل ہونے کا موقع مل سکے جس میں دنیا کی دوسری زبانوں کی کتابیں شامل ہوتی ہیں۔

’محاسنِ کلامِ غالب‘ نئی تدوین

تیسرے روز کے چھٹے سیشن میں عبدالرحمٰن بجنوری کی ’محاسنِ کلامِ غالب‘ کے نئے تدوین شدہ نسخے کے اجرا کی تقریب ہوئے۔ اس اجلاس کی صدارت امینہ سید نے کی۔ یہ تدوین ڈاکٹر نعمان الحق نے کی ہے۔

اس تقریب کا انداز بالکل مختلف تھا۔ اس میں نوجوان دانشور رضا رومی نے ڈاکٹر نعمان الحق سے گفتگو کی۔ اس موقعے پر ڈاکٹر نعمان الحق کا کہنا تھا کہ غالب جیسی بڑی ہستی کے ساتھ پاکستان میں اچھا رویہ نہیں رکھا گیا کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ وہ ہندوستان کے شاعر تھے جبکہ یہ بات سراسر غلط ہے۔ غالب نے اپنی شاعری سے اردو کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اس رویہ کا نقصان یہ ہوا ہے کہ آج کی نوجوان نسل اردو ادب سے خاصی دور کھڑی ہے مگر پھر بھی نوجوانوں کو غالب کا کوئی ایک شعر ضرور یاد رہتا ہے جو غالب کو ہمیشہ زندہ رکھےگا۔

رضا رومی نے کہا کہ غالب ایسی ہستی ہیں پاکستان میں جن کے ساتھ نارروا سلوک رکھا گیا جبکہ انہیں ہندوستان کا شاعر کہا جاتا ہے ان کے ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر نعمان الحق نے کہا کہ عبدالرحمٰن بجنوری کی یہ کتاب غالب فہمی بڑی اہمیت رکھتی ہے لیکن بدقسمتی سے اس کا اصل نسخہ دستیاب نہیں ہے اور جو بھی نسخے دستیاب ہیں وہ غلطیوں سے پاک نہیں کیونکہ اس میں بجنوری صاحب نے مغربی ادب، فلسفے اور مصوری تک کی نہ صرف شخصیات کے حوالے دیے ہیں بلکہ اصلاحات بھی استعمال کی ہیں جو کئی زبانوں کی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کوشش کی ہے کہ یہ نسخہ جسے اب نسخہِ نعمان کہنا چاہیے غلطیوں سے بالکل پاک ہو۔

آخر میں آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی امینہ سید۔ انھیں خوشی ہے کہ یہ کتاب آکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شایع کی ہے اور ان کا ادارہ اور بھی کئی کتابیں شائع کرنا چاہتا ہے خاص طور پر ایسی قدیم کتابیں جن کے درست نسخے شایع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔




اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔