پانچویں عالمی اردو کانفرنس کا اختتام

آخری وقت اشاعت:  پير 10 دسمبر 2012 ,‭ 14:36 GMT 19:36 PST

آرٹس کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام پانچویں چار روزہ عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز آخری اجلاس سمیت چار اجلاس ہوئے۔ آخری اجلاس کی شاندار بات ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین کو حاضرین کا زبردست خراجِ تحسین تھا۔

آخری روز پہلا اجلاس ’اردو کا عہد آفریں مزاح‘ دوسرا اجلاس ’ اردو ادب عالمی تناظر میں ‘، تیسرا اجلاس ’ شعری مجموعے کانچ کا چراغ کی رونمائی ‘ اور پھر اختتامی اجلاس ہوا جس میں مندوبین نے اپنی تاثرات بیان کیے اور حاضرین کی رضامندی سے مختلف قرار دادیں منظور کی گئیں۔ آخری روز انتظار حسین، ممتاز نقاد شمیم حنفی اور ممتاز شاعر نصیر ترابی کو آرٹس کونسل کی اعزازی رکنیت دی گئی۔

شاندار اختتامی تقریب

پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے اختتامی اجلاس کے صدارتی خطاب میں معروف افسانہ نگار انتظار حسین نے کہا کہ کراچی کے بدترین حالات میں اردو کانفرنس کا چراغ روشن کرنا کسی بڑے کارنامے سے کم نہیں ہے۔ یہ بڑے حوصلے اور ہمت کا کام ہے اس کانفرنس کی کامیابی سے انعقاد احمد شاہ اور ان کی ٹیم کا محنت اور لگن کا کمال ہے اور اس پر وہ مبارکباد کے لائق ہیں۔

اس موقع پر مسعود اشعر نے کہا کہ پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے کامیاب انعقاد نے ثابت کر دیا ہے کہ کراچی ادب و ثقافت کو پروان چڑھانے والا شہر ہے اس کے بارے میں امن و امان کے حوالے سے خبروں کے ذریعے پیدا ہونے والا تاثر یہاں آنے کے بعد یکسر تبدیل ہوگیا۔

یہ کانفرنس کامیاب اور اردو ادب کا شائستہ ذوق رکھنے والے لوگوں سے بھری رہی۔ اس کانفرنس میں جو جو موضوع زیر بحث آئے انہیں نہ صرف یاد رکھا جا ئے گا بلکہ آگے بھی بڑھایا جائے گا۔

ہندوستان سے آنے والے مندوب پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ میں اس دن کا خواب دیکھ رہا ہوں جب ایسا موقع آئے گا کہ جب چاہوں پاکستان آجاؤں۔ سینیئر سیٹیزنز یعنی بزرگ شہریوں کے لیے ویزے میں نرمی کا بار بار اعلان ہوتا ہے اللہ کرے اس پر عملدرآمد بھی ہو جائے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مصنوعی دیواریں کھڑی کر دی گئیں ہیں، کبھی احساس نہیں ہوا کہ دونوں ملکوں کے لوگوں نے ایک دوسرے کے لیے دروازے بند کیے ہوئے ہیں۔ ادب اور آرٹ انتہائی سنجیدہ موضوع ہے۔

ڈاکٹر نعمان الحق نے کہا کہ اتنا بڑا کاروبار سر پر اٹھانا ناتوانی کی نہیں توانائی کی بات ہے۔ مجھے اس کانفرنس کو دیکھ کر یقین آیا کہ واقعی وہ ایک توانا آدمی ہے جس کا نام محمد احمد شاہ ہے۔ انہوں کہا کہ کچھ اجلاسوں کے درمیان جو گفتگو کا انداز اپنایا گیا وہ میرے خیال میں انتہائی فائدہ مند اور باعثِ تقویت ہیں۔ ہم نے غالب کو یاد کیا، منٹو کو یاد کیا۔ میرا جی کو یاد کیا اور ایسے ایسے معاملوں پر بات کی جن بات کرنے کے لیے کسی کی تلاش رہتی تھی۔

اختتامی اجلاس میں آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے شمیم حنفی، نصیر ترابی اور ڈاکٹر نعمان الحق کو اعزازی ممبر شپ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ امر آرٹس کونسل کے لیے بھی اعزاز کی بات ہے۔ انہوں نے میڈیا کا بھی شکریہ ادا کرتے ہو ئے کہا کہ میڈیا نے اردو کانفرنس کا پیغام پوری دنیا میں پہنچایا۔

قبل ازیں آرٹس کونسل کے نائب صدر محمود احمد خان نے ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ چار روز تک کانفرنس کے موقع پر کراچی میں میلے کا سماع رہا۔ سیکریٹری آرٹس کونسل کراچی پروفیسر اعجاز احمد فاروقی نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مندوبین نے کانفرنس کو کامیاب بنا نے میں مر کزی کردار کیا۔ اختتامی اجلاس کی نظامت ڈاکٹر ہما میر نے کی۔

’اردو ادب عالمی تناظر میں‘

ممتاز شاعرہ اور ادیبہ فہمیدہ ریاض نے کہا ہے کہ اردو صرف پاکستان کی زبان ہی نہیں ہندوستان کی زبان بھی ہے۔ عالمی ادب میں ترکی، عربی اور ہندوستانی زبانیں میں بھی شامل ہیں۔ ان کے تناظر میں اردو ادب کسی زبان کے ادب سے پیچھے نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز ’اردو ادب عالمی تناظر میں‘ کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین ، پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی (بھارت) ،درمش بلگر (ترکی)، عامر حسین (برطانیہ)، سرور غزالی (جرمنی)، فرہاد زیدی، ڈاکٹر نعمان الحق، ڈاکٹر آصف فرخی اور محمد احمد شاہ بھی موجود تھے۔

اس موقع پر ترکی سے آئے ہوئے مندوب درمش بلگر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو ادب کا کچھ حصہ ترکی زبان میں بھی ترجمہ ہو رہا ہے اور انقرہ یونیورسٹی سمیت تین جامعات میں اردو کی تدریس ہوتی ہے۔ ’ہم نے بھی وہیں سے اردو سیکھی ہے۔ اس کے علاوہ اقبال، پطرس بخاری، حسرت موہانی اور فیض احمد فیض کے تراجم ہو چکے ہیں اور یوں ہم ترکی میں ایک ماحول تیار کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

جرمنی سے آئے ہوئے مندوب سرور غزالی نے کہا کہ وہاں کے معاشرے کے ادیبوں نے اردو کو کسی حد تک جاننے کی کوشش کی ہے۔ جرمنی میں اقبال کے قیام کی وجہ سے وہاں ایک اردو کا شعبہ قائم ہوا لیکن ابھی وہاں زبان کو تقویت نہیں ملی۔

ممتاز افسانہ نگار انتظار حسین نے کہا کہ ’میں سب سے پہلے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ عالمی تناظر کس چڑیا کا نام ہے۔ ایک تو مسلمانوں کی تہذیب ہے اور ایک برصغیر کی تہذیب ہے، جس کا اپنا تناظر ہے۔ جو ان میں اپنا کام سا منے لائے گا وہ بعد میں عالمی تناظر میں آئے گا اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ جیسے ’طلسم ہوشربا‘ کے ترجمے ہو رہے ہیں اور مغرب میں اردو پھیل رہی ہے۔‘

"میں سب سے پہلے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ عالمی تناظر کس چڑیا کا نام ہے۔ ایک تو مسلمانوں کی تہذیب ہے اور ایک برصغیر کی تہذیب ہے، جس کا اپنا تناظر ہے۔ جو ان میں اپنا کام سا منے لائے گا وہ بعد میں عالمی تناظر میں آئے گا اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ جیسے ’طلسم ہوشربا‘ کے ترجمے ہو رہے ہیں اور مغرب میں اردو پھیل رہی ہے۔"

افسانہ نگار انتظار حسین

فرحت پروین نے کہا کہ مجھے اس بات کی بہت خو شی ہو رہی ہے کہ ہماری زبان کو دنیا میں پھیلایا جا رہا ہے۔ پہلے اس کی رفتار کم تھی اب بہت تیز ہو گئی ہے۔ مجھ پر الزام تھا کہ میں نے ساری زندگی پاکستان میں گذاری اور سارے افسانے امریکہ میں رہنے والے لوگوں پر لکھے۔ جب کہ حقیقت یہ نہیں ہے۔ میں نے وہاں مقیم ہمارے لوگوں پر لکھا ہے اور یہ میرا تجربہ ہے۔

ڈاکٹر نعمان الحق نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم جس دور میں جی رہے ہیں اس میں عالمی تناظر سے ہٹ کر جیا جائے اب ایسا ممکن نہیں ہے۔ اردو کے بارے میں یہ بھی غلط فہمی پیدا کی گئی ہے کہ اردو یہاں کی نہیں بلکہ باہر کی زبان ہے۔ہمارے ہاں افسانے ناول کی اصناف مغرب سے آئی ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کی جڑیں اسلامی تمدن میں موجود ہیں۔ اگر قراۃ العین حیدر اپنے ناولوں کے انگریزی ترجموں کی اجازت دے دیتیں تو شاید انہیں بہت بڑا مقام ملتا۔ ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا غزل کیوں کر ایسی سخت جان صنف ہے کہ اب تک ختم ہو کر نہیں دے رہی۔ تو اس کا جواب تہذیب سے تعلق میں ہے۔

برطانیہ سے آئے ہوئے مندوب عامر حسین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کا سفر انتظار صاحب کی تحریروں سے شروع ہوا۔ باہر کے لوگ تراجم میں اردو افسانہ اور ناول پڑھتے ہیں اور اس لیے پڑھتے ہیں کہ وہ ہمارے حالات و واقعات اور ہمارے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔ اردو کی کہانی انگریزی تراجم میں مختلف یونیورسٹیوں میں پڑھائی جاتی ہے۔

پروفیسر شمیم حنفی نے کہا کہ مجھے اس حوالے سے انتظار حسین کی باتوں سے کچھ تحریک ملی ہے۔ عالمی تناظر کا مطلب صرف مغرب ہی نہیں ہے ہمارا مقامی تناظرعالمی تناظر کی ضد نہیں ہے۔ ادب اور اخلاق کا تعلق یا سیاست اور اخلاق کے تعلق پردنیا کی سب زبانوں میں لکھا گیا ہے اور بہت ساری چیزیں ایسی لکھی جاتی ہیں کہ جن کا تعلق لکھنے والے کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان کے تراجم نہیں ہوئے ایک اہم بات یہ ہے کہ اردو میں علاقائی زبانوں کا ترجمہ بہت کم کیا گیاہے۔ فہمیدہ ریاض اور انتظار حسین کی تحریریں آئیڈیل کے طور پر پڑھی جاتی ہیں۔

"اردو ادب کا کچھ حصہ ترکی زبان میں بھی ترجمہ ہو رہا ہے اور انقرہ یونیورسٹی سمیت تین جامعات میں اردو کی تدریس ہوتی ہے۔ ہم نے بھی وہیں سے اردو سیکھی ہے۔ اس کے علاوہ اقبال، پطرس بخاری، حسرت موہانی اور فیض احمد فیض کے تراجم ہو چکے ہیں اور یوں ہم ترکی میں ایک ماحول تیار کر نے کی کوشش کر رہے ہیں۔"

درمش بلگر

معروف صحافی فرہاد زیدی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اردو کو عالمی تناظر میں دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور وہ اپنے ہی ملک میں اجنبی نظر آرہی ہے۔ ہم نے بہت اچھی باتیں کیں لیکن ایک چیز کہ اردو کے فروغ کے لیے جذبہ معدوم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ اس قومی زبان کی ترقی کے لیے مزید کام کریں گے۔ اس اجلاس کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر آصف فرخی نے انجام دیے۔

اسی اجلاس کے آغاز پر حاضرین نے متفقہ طور پرقراردادوں کی منظوری دی جن میں مطالبہ کیا گیا کہ 1973 کے آئین میں اردو کو جو قومی زبان کا درجہ دیا گیا ہے اس کا سرکاری طور پر مکمل نفاذ عمل میں لایا جا ئے۔

یہ قراداد آرٹس کونسل کراچی کے صدر محمد احمد شاہ پیش کی۔ جس میں مطالبہ کیا کہ اُردو اور دیگر تمام قومی زبانوں کے مابین روابط کے فروغ کے لیے حکومتی سطح پرعملی اقدامات کیے جائیں۔ کتب بینی کے فروغ کے لیے طباعت، اشاعت اور کاغذ کم قیمت پرفراہمی کا اہتمام کیا جائے۔ کتابوں کی تر سیل میں بہتری کے لیے ڈاک خرچ میں حکومتی سطح پر خصوصی رعایت دی جائے۔ خصوصاً ہندوستان کے ڈاک خر چ میں نمایاں تخفیف کی جائے۔

قراداد میں کہا گیا کہ صوبوں کے مابین ادیبوں، شاعروں اور فن کاروں کے وفود بھیجے جائیں تا کہ ان کے درمیان ثقافتی روابط مستحکم ہوں۔ ذرائع ابلاغ پر سنجیدہ، ادبی اور ثقافتی پروگرام پیش کیے جائیں۔ علم و ادب اور فنون کے جملہ اداروں کے مابین باہمی ربط و تعاون کے فروغ کو یقینی بنایا جائے۔

قراداد میں نوجوانوں کے حوالے سے کہا گیا کہ نوجوانوں کی قومی زبان اور ثقافتی سرگرمیوں سے دلچسپی بڑ ھانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔ جس طرح تاجروں کو ویزے کے حصول کے لیے خاص سہولت فراہم کی جاتی ہے اسی طرح ادیبوں، شاعروں اور فن کاروں کے لیے بھی ویزے میں آسانی پیدا کی جائے۔

پاکستان اور ہندوستان کے ادیبوں اور شاعروں اور فن کاروں کو جلد اور نان رپورٹنگ ویزے کی فراہمی کویقینی بنایا جائے۔ اکادمی ادبیات اور ادارہ فروغ قومی زبان اور بک فاونڈیشن کو خود مختار کیا جا ئے اور کراچی میں لغت بورڈ کو ایک علیحدہ خود مختار ادارے کا درجہ دیا جائے۔

’عہد آفریں مزاح‘ اور ’کانچ کا چراغ‘

پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے موقع پر ناصرہ زبیری کی کتاب ’کانچ کا چراغ‘ کے اجرا میں اصغر ندیم، شمیم حنفی، ناصرہ زبیری، شاہدہ حسن، سرمش صہبائی اور ہما میر

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پانچویں عالمی اردو کانفرنس کے آخری روز کے پہلے اجلاس میں ’اردو کا عہد آفریں مزاح‘ کے حوالے سے سترھواں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں معروف مزاح نگاروں پر سحر حاصل گفتگو کی گئی اور شعرا کے اشعار سنائے گئے۔

مذکورہ پروگرام کی صدارت کے فرائض فہمیدہ ریاض نے انجام دیے جبکہ نصرت علی نے خوبصورت اور منفرد انداز میں نظامت کی۔ آرٹس کونسل کراچی کی سپیشل ایونٹ کمیٹی کے چیئرمین اسجد حسین بخاری نے ضمیر جعفری کے تحت الفاظ میں ان کے اشعار پیش کیے۔ ممتاز ادیب انجم رضوی نے ابن انشا کے کچھ اقتباسات پیش کیے۔ ان کی مزاح نگاری کے خوبصورت اقتباسات سن کی حاضرین بہت محظوظ ہوئے۔

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی آڈیو ویژول کمیٹی کے چیئرمین اقبال لطیف نے پطرس بخاری کے مضمون بعنوان ’کتے‘ پیش کیا۔ نصرت علی نے نظامت کے ساتھ ساتھ حاضرین محفل کے بے حد اسرار پر جگر مراد آبادی، مجروح سلطان پوری، مجنوں گورکھپوری، قمر جلالوی، خمار بارہ بنکوی، حمایت علی شاعر اور جوش ملیح آبادی کے انداز میں ترنم کے ساتھ کلام پیش کیا جسے حاضرین محفل نے بے حد پسند کیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے دلاور فگار کا کلام جوش و جذبے کے ساتھ پیش کیا اور مشتاق احمد یوسفی کے افسانے بعنوان ’بشارت‘ سے اقتباس پیش کر کے محفل لوٹ لی۔

ناصرہ زبیری کے شعری مجموعے کانچ کا چراغ کی رونمائی

پروفیسر ڈاکٹرشمیم حنفی نے ناصرہ زبیری کی شاعری میں کہا کہ ایک فرد کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک اکائی کی صورت میں سامنے آئی۔ انہوں نے کہا کہ شاعری کی کتاب تیزی سے نہیں پڑھ سکتے۔ اس لیے انھوں نے اس کتاب کو زیادہ نہیں پڑھا۔ اس کا کتاب کا جتنا بھی حصہ پڑھا ہے اس سے مجھے نسوانئیت کی نہیں بلکہ ایک ایسے فرد کی آواز سنائی دی ہے جو اپنے معاشرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس کتاب میں غزل کے روایتی اوصاف ملتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ناصرہ زبیری کے مجموعے ’کانچ کا چراغ‘ کے صدارتی خطاب میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ناصرہ زبیری نے خوبصورت انداز سے اپنے کلام میں معاشرے کے دکھ سکھ بیان کیے ہیں۔ یہ نیم کلاسیکی شکل میں اچھا نمونہ ہے۔

’مجھے ناصرہ زبیری کی نظموں کا انتظار رہے گا۔ کراچی میں یہ آخری شام ہے کل میں دلی میں ہوں گا تب وہاں جا کر پورے ہفتے کی صورتحال پر غور کروں گا کہ کیا کھویا کیا پایا۔ یہاں کراچی میں پورا ہفتہ بے حد مصروف گزرا سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں ملا۔ اصغر ندیم سید نے کہا کہ ناصرہ تہذیبی شعور کی حامل شاعرہ ہیں اوراس کتاب کے مطالعے سے بہت ساری چیزیں آشکار ہوئیں، ان کی شاعری بظاہر آسان اسلوب میں لگتی ہے۔ یہ تہذیبی شعور کی حامل شاعرہ ہیں۔‘

"مجھے ناصرہ زبیری کی نظموں کا انتظار رہے گا۔ کراچی میں یہ آخری شام ہے کل میں دلی میں ہوں گا تب وہاں جا کر پورے ہفتے کی صورتحال پر غور کروں گا کہ کیا کھویا کیا پایا۔ یہاں کراچی میں پورا ہفتہ بے حد مصروف گزرا سوچنے سمجھنے کا موقع نہیں ملا۔ اصغر ندیم سید نے کہا کہ ناصرہ تہذیبی شعور کی حامل شاعرہ ہیں اوراس کتاب کے مطالعے سے بہت ساری چیزیں آشکار ہوئیں، ان کی شاعری بظاہر آسان اسلوب میں لگتی ہے۔ یہ تہذیبی شعور کی حامل شاعرہ ہیں۔"

پروفیسر ڈاکٹرشمیم حنفی

لاہور، کراچی کی ادبی فضا اور اسلام آباد کی ادبی محفل کا ان کی شخصیت پر گہرا اثر نظر آتا ہے۔ آج غزل لکھنا ایک بہت بڑی آزمائش بن چکا ہے۔ لیکن ان کا لہجہ اور اسلوب الگ ہے ان کے ہاں شاعری اکائی میں ڈھل کر ظہور کرتی ہے۔ ناصرہ زبیری نے مختلف کیفیات کو علامتوں اور اشعاروں میں پیش کیا ہے۔ ناصرہ زبیری کی شاعری کو سند کی ضرورت نہیں۔

معروف شاعر سرمد صہبائی نے کہا کہ میں کوئی نقاد نہیں ہوں جب میں نے ناصرہ زبیری کی کتاب کو پڑھنا شروع کیا تو مجھے لگا کہ مجھ پر نسائیت کا حملہ ہو گا لیکن پڑھنے کے بعد پتہ چلا کہ وہ ایک شاعرہ ہیں۔

پروفیسرشاہدہ حسن نے کہا کہ ناصرہ زبیری کی یہ دوسری کتاب ہے جو کہ ’شگون‘ کے بعد آئی ہے۔ وہ سولہ سال پہلے ملی تھیں جب یہ اسلام آباد ایک مشاعرے میں آئی تھیں۔ اس مشاعرے میں احمد فراز سمیت دیگر شاعر بھی موجود تھے جنہوں نے ناصرہ زبیری کے اشعاروں پر داد دی۔ ناصرہ زبیری نے اپنے دائروں میں رہتے ہوئے اپنے راستے خود متعین کیے ہیں اور بدلتے منظروں میں اپنی پہچان رکھتی ہیں۔ پہلی کتاب ’شگون‘ سے دوسری کتاب ’کانچ کا چراغ‘ تک آتے ہوئے ان میں زیادہ جنون نظر آیا۔ ناصرہ زبیری نے اپنے پیش لفظ میں متوازی کائنات کا نام دیا ہے۔

ناصرہ زبیری نے اظہار خیال کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر شمیم حنفی اور دیگر شرکا اور حاضرین محفل کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ان کی شاعری اظہار ہے مختلف لمحات کا، مختلف جذبات کا، اس کا تعلق کسی مرد یا عورت سے نہیں ہے۔ عورت کو معاشرے میں عورت ہی سمجھا جائے۔ اس کتاب سے وہ شہرت حاصل کرنا نہیں چاہتیں۔ یہ انداز کی آواز ہے جو میرے ساتھ پلی بڑھی ہے اور میرے ساتھ ساتھ چلی ہے۔ اس میں مختلف احساسات موجود ہیں۔

تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ہما میر نے کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔