لاہور: غیر ملکی ڈراموں کے خلاف احتجاج

آخری وقت اشاعت:  منگل 18 دسمبر 2012 ,‭ 18:14 GMT 23:14 PST

پاکستان کے شہر لاہور میں ٹی وی ڈراموں میں کام کرنے والے فنکاروں نے نجی ٹی وی چینلز پر غیر ملکی ڈراموں کو نشر کرنے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

منگل کو ٹی وی فنکاروں نے لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاج کیا جس میں فلم سٹار اور گلوکار بھی شامل ہوئے۔

احتجاج میں شامل فنکاروں کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ڈراموں کو نشر کرکے ان معاشی قتل عام نہ کیا جائے۔

پاکستان میں ان دنوں کچھ ٹی وی چیلز پر اردو زبان میں ڈب کیے گئے ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں جو لوگوں میں خاصی مقبولیت حاصل کر رہے ہیں۔

لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق پریس کلب کے سامنے ہونے والے احتجاج میں فردوس جمال، عثمان پیرزادہ، ثمینہ احمد، سیمی راحیل ماریہ واسطی، راشد محمود، خالد بٹ سمیت دیگر فنکاروں نے بارزوں پر سیاہ پیٹیاں باندھ کرشرکت کی۔

احتجاج کرنے والے فنکاروں نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پرپاکستانی ڈرامے کو بچاؤ اور ثفاقتی حملے نامنظور کی عبارتیں درج تھیں۔

غیر ملکی ڈراموں کے خلاف احتجاج کے دوران ٹی وی فنکاروں نے بند کرو، بند کرو باہر کے ڈرامے بند کرو کے بھی لگائے۔

معروف فلم سٹار غلام محی الدین اور گلوکار شوکت علی بھی فنکاروں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج میں شریک ہوئے۔

احتجاج میں شامل ٹی وی ڈراموں کے پروڈیوسر یاسین نے یہ اندیشہ ظاہر کیا کہ غیر ملکی ڈرامے نشر کرنے سے پاکستان کی ڈرامہ انڈسری کا بھی وہی حال ہوگا جو پاکستان کی فلمی صعنت کا ہوا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ٹی وی چینلز دس سے بیس برس پرانے ڈرامے سستے داموں خرید کر انہیں نشر کیا جا رہا ہے۔

ان کے بقول طلبہ مختلف تعلیمی اداروں سے ٹی وی پروڈکشن کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں لیکن غیر ملکی ڈراموں کے بعد وہ کہاں کام کریں گے ۔

ٹی وی فنکارہ ماریہ واسطی نے کہا کہ غیر ملکی ڈرامے نشر کر کے فنکاروں اور ڈرامے کے شبعہ سے منسلک لوگوں کا معاشی قتل عام نہ کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کی بننے ہوئے ڈراموں کا تحفظ فراہم کریں اس لیے حکومت پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو بچائے۔

عثمان پیرزادہ نے کہا کہ فنکار پاکستانی ڈرامے کو بچانا چاہتے ہیں اور اسی لیے احتجاج کر رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر ملکی ڈراموں کے بارے میں ضابطہ اخلاق ترتیب دیا جائے۔

ٹی وی ڈرامہ فنکار پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرے کے بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔