دلی ریپ:امیتابھ بچن کا منظوم سلام

آخری وقت اشاعت:  اتوار 30 دسمبر 2012 ,‭ 14:50 GMT 19:50 PST
امیتابھ بچن

امیتابھ اس سے پہلے بھی اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کر چکے ہیں

دلّی میں اجتماعی زیادتی کا شکار لڑکی کی موت پر جہاں ہر کوئی غمزدہ ہے، وہیں بالی وڈ بھی اپنے ٹویٹس اور بیانات کے ذریعے ریپ کے خلاف آواز اٹھانے میں پیچھے نہیں ہے۔

بالی وڈ کے معروف ستارے امیتابھ بچن نے تو اپنے دکھ کو ایک نظم میں ڈھال دیا ہے۔ اس نظم کے ذریعے انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ لوگوں کی آنکھیں كھلیں گي اور وہ خواتین کو عزت دینا سیکھیں گے۔

ریپ کا شکار ہونے والی لڑکی کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے امیتابھ نے کہا کہ جب موم بتی روشنی اور پھولوں کے نذرانے ختم ہو جائیں گے تو دلوں میں بے باکی پیدا ہوگی۔.

یو ٹیوب اور فیس بک پر شائع کی گئی اس نظم کو امیتابھ نے اپنی آواز بھی دی ہے اور کلام کچھ اس طرح ہے۔

وقت کے ساتھ موم، جل کر بجھ جائیں گے
عقیدت والے پھول بن پانی مرجھا جائیں گے
آواز مخالفت اور امن کی اپنی قوت کھو دیں گے
لیکن بے باکی کی جلائی آگ ہمارے دل کو روشن کرے گی
پانی بغیر مرجھائے پھولوں کو ہمارے اشک زندہ رکھیں گے
رندھے گلے سے 'دامني' کی 'امانت' روح دنیا بھر میں گونجےگي
آواز میری تم، پاؤں سے کچل کر پیس نہ پاؤگے
میں بھارت کی ماں بہن یا یا بیٹی ہوں،
عزت اور تعظیم کی میں حقدار ہوں
بھارت ملک ہماری ماں ہے،
میری چھوڑو اپنی ماں کی تو پہچان بنو!!

ادھر شاہ رخ خان نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ اپنے مرد ہونے پر شرمندہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ’میں مرد ہونے پر شرمندہ ہوں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں آپ کی آواز کے لیے لڑوں گا۔ میں خواتین کا احترام كرتا رہوں گا۔‘

بالی وڈ کی اداکارہ اور فلم دبنگ کی ہیروئن سوناکشی سنہا نے کہا کہ ’وہ لڑکی مری نہیں ہے بلکہ ایک بہتر جگہ چلی گئی ہے جہاں کوئی ریپ نہیں ہوتے۔ بڑے دکھ کی بات ہے کہ ایسی جگہ اپنے مہان بھارت میں موجود نہیں ہے۔‘

بالی وڈ کی اداکارہ اور مس یونیورس شسمیتا سین نے کہا ’میرے لیے ایک خاتون اور ماں کی حیثیت سے انصاف کا مطلب ہے کہ ریپ کرنے والوں کو نامرد بنا دیا جانا چاہیے، انہیں عمر قید کی سزا دی جائےنہ کہ سزائے موت۔ میرے لیے یہی بدلہ مناسب ہوگا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔