اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس: منٹو کے افسانے

آخری وقت اشاعت:  اتوار 6 جنوری 2013 ,‭ 19:22 GMT 00:22 PST
اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس: منٹو کے افسانے

جس نے منٹو کو نہ پڑھا ہو اس کے لیے یہ ایک انتخاب ہی تعارف کرانے کے لیے کافی ہے

نام کتاب: انتخاب سعادت حسن منٹو

ترتیب و انتخاب: آصف فرخی

صفحات: 234

قیمت: 595 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، او یو پی پاکستان نے اردو کے اہم افسانہ نگاروں کے انتخاب شائع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ او یو پی کا کہنا ہے کہ ’یہ کتاب اردو کے اہم افسانہ نگاروں کے انتخاب کے سلسلے میں شامل ہے۔ جس میں ان کے نمائندہ کام کو معیاری اور مستند انداز میں پیش کیا جا رہا ہے‘۔

یہ خیال ہی انتہائی ہے۔ اردو میں اول تو اشاعت گھر یا اشاعتی ادارے ہیں ہی کم اور ان کم میں وہ اور بھی کم ہیں جنھیں مستند کہا جائے اور جن سے اس بات کی توقع کی جائے کہ وہ جو بھی شائع کریں گے اس کے مستند ہونے پر کوئی شک و شبہ نہیں ہوگا۔

یہ ساکھ اور اعتبار جو اوکسفرڈ یونیورسٹی کو دوسرے اشاعتی اداروں کے مقابل حاصل ہے، قطرہ قطرہ جمع ہوتا ہے اور اگر بے احتیاطی ہونے لگے تو پھر یہ بھرم جانے میں دیر نہیں کرتا۔

سعادت حسن منٹو کم از کم اردو پڑھنے والوں کے لیے تو کسی تعارف کے محتاج نہیں اور انھیں معارف کرانے کا مطلب ان کے ذریعے خود کو متعارف کرانا ہے۔ یہی بات ان افسانہ نگاروں کے انتخاب کرنے والوں پر صادق آتی ہے جو ان کا انتخاب کرتے ہیں یا کریں گے۔

منٹو ہوں یا راجندر سنگھ بیدی یا عصمت چغتائی یا ان سے پہلے کے پریم چند اور ان کے دو ایک ہم عصر، اب ان کا انتخاب، انتخاب کرنے والے کی قامت کا امتحان ہوتا ہے۔ اس عصر کے افسانہ نگاروں کے اہم افسانوں کے بارے میں فیصلے کم و بیش ہو چکے ہیں اب ان اہم میں ان کے کسی اور افسانے کو شامل کرنے کے لیے اس کے کسی ایسے نئے پہلو کو دریافت کرنا ہوگا جو اب تک سامنے نہ آیا ہو اور اس کے لیے انتخاب کرنے والے کو خود ایک امتحان سے گذرنا ہوگا اور اس کے لیے متن کو ایک نیا سیاق اور تناظر فراہم کرنا ہو گا اور یہ وسعت و صلاحیت نہ ہو تو اب تک کہ کیے کرائے پر ہی انحصار کرنا ہوگا۔

ممتاز شیریں کا مضمون

"ممتاز شیرین کا مضمون ’منٹو کا تغیر اور ارتقا‘ بہت عمدہ ہے لیکن یہاں مضمون کو منتخب افسانوں کے بارے میں ہونا چاہیے تھا تا کہ اہمیت کو جواز میسر آتا۔ تمام افسانوں کے بارے میں نہیں تو اکثر کے بارے میں۔ اس مضمون میں آٹھ نو افسانوں کا ذکر ہے لیکن اصل بحث منٹو کے تصور انسان اور انسان کی تکمیل کے بارے میں ہے۔"

منٹو کے افسانوں کا یہ انتخاب آصف فرخی نے کیا ہے۔ آصف فرخی خود بھی نقاد اور افسانہ نگار ہیں۔ انھوں نے جن اکیس افسانوں کا انتخاب کیا ہے ان میں سجدہ، شہیدِ ساز اور ننگی آوازیں ایسے افسانے ہیں جو منٹو کے عام انتخابوں سے مختلف ہیں۔

سجدہ کی ابتدا دیکھیں: ’گلاس پر بوتل جھکی تو ایک دم حمید کی طبیعت پر بوجھ سا پڑ گیا۔ ملک جو اس کے سامنے تیسرا پیگ پی رہا تھا فورًا تاڑ گیا کے حمید کے اندر روحانی کشمکش پیدا ہو گئی ہے‘۔

پہلے پیرا گراف کی یہ شروعات ہی غیر روایتی ہے اور ڈیڑھ جملے میں ہی بیان سے غیر بیانی کو بیان دیتی ہوئی روحانی کشمکش تک جا پہنچتی ہے۔ افسانہ نگار نے بتا بھی دیا ہے کہ بات روحانی کشمکش تک جائے گی لیکن کہانی کا عندیہ نہیں دیا، یہی منٹو کا ہنر ہے جو انہیں ان کے دوسرے ہم عصروں سے الگ کرتا ہے۔

شہیدِ ساز کا پہلا پیرا گراف دیکھیں: ’میں گجرات کاٹھیاواڑ کا رہنے والا ہوں۔ ذات کا بنیا ہوں۔ پچھلے برس جب تقسیم ہندوستان کا ٹنٹا ہوا تو میں بالکل بیکار تھا۔ معاف کیجیے گا میں نے لفظ ٹنٹا استعمال کیا۔ مگر اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ اردو زبان میں باہر کے الفاظ آنے چاہئیں۔ چاہے گجراتی ہی کیوں نہ ہو‘۔

اب ہمارے ہاں ہی اور زبانوں میں بھی کتنے افسانہ نگار ہیں جو اپنے افسانے کی ابتدا میں کردار کا تعارف کراتے ہوئے اس اعتماد اپنا زبان کے ایک بنیادی قضیے پر دو سطروں میں دو ٹوک رائے دے دے۔

ایسے انتخابوں میں لیے جانے والے افسانوں کے بارے ایسے نوٹ تو ہونے ہی چاہئیں جو یہ بتائیں کہ افسانہ کب اور کہاں شائع ہوا اگرچہ ضرورت تو یہ بھی ہے کے افسانے کی اہمیت بھی بیان کی جائے۔

جو آصف فرخی کا کہنا ہے ’کتابوں کی اشاعت میں موجودہ کساد بازاری کے وجہ سے بہت سے افسانہ نگاروں کی کتابیں آسانی سے نہیں ملتیں یا پھر ان کی اشاعت ان لکھنے والوں کے مرتبے کے مطابق نہیں ہوتی۔

اس کمی کو پورا کرنے کے لیے اہم افسانہ نگاروں کے انتخاب کا سلسلہ پیش کیا جا رہا ہے جو علمی ادبی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے معیاری اور مستند انداز میں نمائندہ کام کو نئے سرے سے سامنے لا سکے‘۔

اردو زبان میں باہر کے الفاظ

"میں گجرات کاٹھیاواڑ کا رہنے والا ہوں۔ ذات کا بنیا ہوں۔ پچھلے برس جب تقسیم ہندوستان کا ٹنٹا ہوا تو میں بالکل بیکار تھا۔ معاف کیجیے گا میں نے لفظ ٹنٹا استعمال کیا۔ مگر اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس لیے کہ اردو زبان میں باہر کے الفاظ آنے چاہئیں۔ چاہے گجراتی ہی کیوں نہ ہو"

شہیدِ ساز کا پہلا پیرا گراف

ان میں سے بہت سی باتیں تو پوری ہو گئیں۔ لیکن اہم کو تقویت فراہم نہیں ہوئی۔ منٹو کے بارے میں آصف فرخی کا مضمون عمدہ ہے لیکن اسے اگر حوالوں سے مزین کردیا جاتا تو مستند کے تقاضے پورے ہو جاتے۔ آصف فرخی یا کسی پر بے اعتباری نہیں ہے لیکن کچھ باتیں سہوًا بھی تو جاتی ہیں۔

اسی حوالے سے ممتاز شیرین کا مضمون ’منٹو کا تغیر اور ارتقا‘ بہت عمدہ ہے لیکن بہت عرصے بعد دوبارہ پڑھا ہے تو بہت سے ایسے سوال پیدا ہوئے ہیں جن پر اس وقت بات کا موقع نہیں ہے۔ لیکن اس مضمون کو منتخب افسانوں کے بارے میں ہونا چاہیے تھا تا کہ اہمیت کو جواز میسر آتا۔ تمام افسانوں کے بارے میں نہیں تو اکثر کے بارے میں۔ اس مضمون میں آٹھ نو افسانوں کا ذکر ہے لیکن اصل بحث منٹو کے تصور انسان اور انسان کی تکمیل کے بارے میں ہے۔

ضرورت ایک ایسے مضمون کی تھی ہر منتخب افسانے کے انتخاب کو توجیح فراہم کرتا۔

یہ ساری باتیں اس لیے ہیں کہ ابھی اور افسانے نگاروں انتخاب آنے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس انتخاب کے لیے جو افسانے چنے گئے ہیں وہ اہم نہیں ہیں لیکن اگر انتخاب پڑھنے والوں کی مختلف سطحوں کو بھی ایک ساتھ پورا کر سکے تو اس کی اہمیت دو چند ہو جاتی ہے۔

یہ انتخاب انتہائی عمدہ اور دیدہ زیب ہے۔ جس نے منٹو کو نہ پڑھا ہو اس کے لیے یہ ایک انتخاب ہی تعارف کرانے کے لیے کافی ہے۔ لیکن اگر اسے مجلد بھی شائع کیا جاتا تو یہ اور پسندیدہ ہو جاتا اور وہ لوگ بھی اسے خریدتے جو کتابوں کے ظاہر کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔