مہاجر و پاکستانی منٹو اور اس کا فن

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 12 جنوری 2013 ,‭ 01:53 GMT 06:53 PST
منٹو کا آدمی نامہ

نام کتاب: منٹو کا آدمی نامہ

ترتیب: آصف فرخی

صفحات:

قیمت: 400 روپے

ناشر: شہر زاد، 155 بی، بلاک 5، گلشنِ اقبال، کراچی

اس کتاب سے پہلے ہم نے سعادت حسن منٹو کے ایک انتخاب سے آپ کا تعارف کرایہ تھا۔ منٹو کے افسانوں کا وہ انتخاب آصف فرخی نے کیا تھا اور اور اسے اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا تھا۔ اب سعادت حسن منٹو اور ان پر لکھے گئے مضامین کا انتخاب ہے۔

افسانوں کے انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ اس انتخاب کے ساتھ ایک ایسا مضمون ضرور ہونا چاہیے تھا جو انتخاب میں شامل افسانوں کی توجیح کرتا۔ جب میں نے یہ لکھا تو منٹو اور ان کے افسانوں پر آصف فرخی کی یہ انتھالوجی نہیں دیکھی تھی۔

اس انتھالوجی کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوا ہے کہ غالبًا آصف فرخی منٹو پر یہ سارے کام ساتھ ساتھ کر رہے تھے اس لیے ان کے ذہن میں یہ نہیں آیا ہو گا اور آنا بھی نہیں چاہیے تھا کہ افسانوں کے انتخاب میں شامل مضمون کی جگہ کو اور توجیحی مضمون ہونا چاہیے یہ بات ضرور محو ہو گئی ہوگی کہ ایسے بھی لوگ ہو سکتے ہیں جنہیں صرف افسانوں کے انتخاب تک رسائی ہو۔ خیر۔

منٹو اور ان کے افسانوں کے بارے میں اس انتھالوجی کو دیکھ کر مجھے یہ اندازہ ہوا ہے کہ آصف کے افسانوں کا انتخاب کتنا آسان ہو گیا ہو گا کیونکہ ان انتھالوجی میں شامل مضامین میں وہ تمام ہی افسانے زیرِ بحث آ گئی ہیں جو اوکسفرڈ یونیورسٹی سے شائع ہونے والے انتخاب میں شامل ہیں۔

اس انتھالوجی کے تین حصے کیے گئے ہیں۔ منٹو کی محفل کے عنوان سے لکھے گئے تعارف کے بعد پہلے حصے میں آصف فرخی کے دو مضامین ہیں جن میں پہلا، مانند صبح مہر: پاکستان میں ادیب کی ذمے داریاں اور منٹو ہے جب کہ دوسرا: ’عید نظارہ ہے شمشیر کا عریاں ہونا: منٹو کو نہ پڑھنے کے نئے طریقے‘ کے عنوان سے ہے۔ ان دونوں مضامین کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے ان کے عنوانات ہی نفسِ مضمون کے بارے میں بتا رہے ہیں۔

دوسرے حصہ میں بارہ مضمون ہیں۔ پہلا مضمون پروفیسر فتح محمد ملک کا ہے جو ’انقلاب پسند منٹو اور نام نہاد ترقی پسند‘ کے عنوان سے ہے۔ اس مضمون میں فتح محمد ملک یہ بتایا ہے کہ منٹو ترقی پسندوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے تھے اور انھیں نام نہاد کن معنوں میں کہتے تھے۔ ملک صاحب نے اس کا صرف یہ فائدہ اٹھایا ہے کہ لگے ہاتھوں جدید ادیبوں سے بھی کچھ حساب چکا لیا ہے۔

ریوتی شرن شرما کے دو مہاجر

"ریوتی شرن شرما نے اپنے خیالات سے زیادہ منٹو اور محمد حسن عسکری کے بارے میں مہاجر کا لفظ استعمال کر کے اشتعال انگیزی کی کامیاب کوشش کی ہے۔ منٹو کے افسانوں پر ان کے اعتراض دلچسپ ہیں، یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انھیں فکشن یا افسانہ نگاری کا تجربہ نہیں ہے لیکن ان کی اس تحریر سے یہ علم ضرور ہوتا ہے کہ وہ فکشن کیسا لکھتے ہیں۔ اگر وہ حیات ہیں تو اٹھاسی سال سے زائد کہ ہو چکے ہیں۔ کرشن چندر کے بہنوئی اور افسانہ نگار بیوی کے شوہر ہیں۔ ان کا مضمون پڑھنے لائق ہے"

اس کے بعد مشرف عالم ذوقی کا مضمون ہے۔ جو انھوں نے ساہتیہ اکیڈمی سے شائع ہونے والی ’پاکستانی کہانیاں‘ نامی انتھالوجی میں منٹو کو شامل کیے جانے کے بارے میں ’منٹو کو آپ نے پاکستانی کیوں بنا دیا ہے انتظار بھائی ۔ ۔ ۔‘ کے عنوان سے لکھا ہے۔ لیکن زیادہ بات ’پاکستانی کہانیاں‘ کے انتخاب پر ہی کی گئی ہے۔ یہ مضمون ہندی سے ترجمہ کیا گیا ہے۔

مشرف عالم ذوقی کے مضمون کے بعد کھیم چند کا مضمون ہے۔ یہ مضمون بھی ہندی سے ترجمہ کیا گیا ہے اور اس کا عنوان ہے ’منٹو پاکستانی نہیں کیا ہندوستانی تھے؟‘۔ اس میں کھیم چند نے مشرف عالم کے سوالوں کا جواب دینے کی کوشش کی ہے اور اس پر اصرار کیا ہے کہ ’فیض اور قراۃالعین کی طرح منٹو اتنا ہی ہندوستانی ہے جتنا پاکستانی اس کی ایک حیثیت سے یکسر انکار کر کے محض ایک پر زور دینا اس کے ساتھ اس طرح کی زیادتی ہے جو ٹوبہ ٹیک سنگھ کے ساتھ ہوئی تھی۔

اس کے بعد ایک مختصر تحریر محمد عاصم بٹ کی ہے مشرف عالم کے مضمون ہی کے حوالے سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ منٹو کو پاکستانی یا ہندوستانی قرار دینے کی لا حاصل بحث میں پڑنامیرے ناقص خیال میں بے کار ہے۔

اس کے بعد محمد منشا کا مضمون ہے جو انھوں نے منٹو کے نام ایک خط کی صورت لکھا ہے۔ اس کے ڈاکٹر طاہر مسعود کا مضمون ہے جو فتح محمد ملک کے بارے میں عاصم بٹ کے اس مضمون کے بارے میں زیادہ ہے جس میں انھوں کہا تھا کہ فتح محمد ملک نے منٹو کا کرتا پائجامہ اتار کر شلوار قمیض اور شیروانی پہنانے کی کوشش کی ہے۔

اس کے بعد ’اردو افسانہ، منٹو اور نئی تعبیر ۔ ۔ ۔ مگر منٹو زندہ ہے‘ کے عنوان سے محمد حمید شاہد کا مضموان ہے جو آدھے کے لگا بھگ مشرف عالم ذوقی کے مضمون کے حوالے سے اور آدھے کے لگ بھگ فتح محمد ملک کی کتاب کے حوالے سے۔

اس کے بعد ریوتی شرن شرما کا مضمون ہے جس میں انھوں نے زیادہ توجہ منٹو اور محمد حسن عسکری کے بارے میں مہاجر کا لفظ استعمال کر کے اشتعال انگیزی کی کامیاب کوششپر دی ہے۔ منٹو کے افسانوں پر ان کے اعتراض دلچسپ ہیں یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ انھیں فکشن یا افسانہ نگاری کا تجربہ نہیں ہے لیکن اس سے یہ ضرور علم ہوتا ہے کہ وہ فکشن کیسا لکھتے ہیں۔ اگر وہ حیات ہیں تو اٹھاسی سال سے زائد کہ ہو چکے ہیں۔ کرشن چندر کے بہنوئی اور افسانہ نگار بیوی کے شوہر ہیں۔ بہر طور ان کا مضمون پڑھنے لائق ہے لیکن ان کی عمر کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔

نئے سیاق اور تناظر

آصف فرخی کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ’یہ تمام تحریریں اس امید کے ساتھ یک جا اور شائع کی جا رہی ہیں کہ ان سے منٹو کے مطالعے کی نئی راہیں کھلیں گی‘۔ ایسا ضرور ہوگا لیکن اس میں قدرے جھکاؤ بھی محسوس ہوتا ہے۔ کئی اعتبار سے ن م دانش کا مضمون نمایاں ہے کیونکہ اس میں منٹو کا مطالعہ ایک نئے سیاق اور تناظر میں کیا گیا ہے۔

اس کے بعد پروفیسر صغیر افراہیم کا مضمون ہے جس میں انھوں ریوتی شرن شرما کے مضمون کے حوالے سے منٹو کے افسانوں پر بات کی ہے اور منٹو کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس کے بعد شمس الحق عثمانی کا مضمون ہے جو منٹو کے افسانے ’نیا قانون‘ کے کردار منگو کے بارے میں ہے۔

تیسرے حصے میں فرہاد زیدی، سمعود اشعر، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، ن م دانش، انتظار حسین، شمیم حنفی، محمد حمید شاہد، شہلا نقوی اور شمرف عالم ذؤقی کے مضمون کے علاوہ کامران اصدر علی کا مضمون ’پروگریسوز اینڈ پرورٹس‘ ہے۔ اس مضمون کو انگریزی ہی میں شائع کردیا گیا ہے۔

اس حصہ کا ایک دلچسپ مضمون انتظار حسین صاحب کا ہے جس میں انھوں نے منٹو کا نظیر اکبر آبادی سے رشتہ دریافت کیا ہے اور یہی اس انتھالوجی کا عنوان بھی ہے۔

آصف فرخی کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ’یہ تمام تحریریں اس امید کے ساتھ یک جا اور شائع کی جا رہی ہیں کہ ان سے منٹو کے مطالعے کی نئی راہیں کھلیں گی‘۔ ایسا ضرور ہوگا لیکن اس میں قدرے جھکاؤ بھی محسوس ہوتا ہے۔ کئی اعتبار سے ن م دانش کا مضمون نمایاں ہے کیونکہ اس میں منٹو کا مطالعہ ایک نئے سیاق اور تناظر میں کیا گیا ہے۔

کتاب عمدہ چھپی ہے، قیمت بھی مناسب ہے لیکن شائع ہونے سے پہلے پوری توجہ نہیں دی گئی۔ ایسی حساس کتاب میں چھوٹی چھوٹی باتیں بھی چبھنے لگتی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔