ہند و پاک تاریخ و تناظر، چار کتابیں

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 19 جنوری 2013 ,‭ 02:30 GMT 07:30 PST

ہند و پاک تاریخ پر ساجدہ سلطانہ علوی، ایان ٹیلبوٹ اور جون اوبرائن کی تین کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ ان میں ساجدہ علوی کی زیادہ توجہ مغلوں کے دور میں حکمرانوں کے علاوہ موّرحوں، علما اور صوفیا پر ہے، جب کہ طاہرہ آفتاب کی کتاب شہزادی شہربانو جی آب بیتی کا ترجمہ ہے، جون اوبرائن کی کتاب بیداری اور ہوش مندی کی طرف لوٹنے کی صدا ہے جب کے ٹیلبوٹ کی تاریخ، پاکستان کا ایک بےلاگ جائزہ ہے۔

مغل ہند کے پس منظر

نام کتاب: مغل ہند کے پس منظر

حکمراں، موّرخ، علما اور صوفیا

Perspective on Mughal India

مصنف: ساجدہ سلطانہ علوی

صفحات: 277

قیمنت: 850 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

میکگل یونیورسٹی منٹریال کینیڈا کے انسٹیٹیوٹ آف اسلامک سلٹڈیز میں ہند اسلامی تاریخ، اردو زبان اور ثقافت کی پروفیسر ساجدہ سلطانہ علوی نے اس کتاب میں اس تمام تاریخ مواد کا کڑا جائزہ لیا ہے جو مغل ہند میں حکمرانوں، موّرخوں، علما اور صوفیا کے کردار کو بہتر طور پر سمجھنے میں تاریخی تناظر فراہم کرتا ہے۔

اس کی ابتدا انھوں نے ہندوستان میں اسلام کی آمد اور پھیلاؤ سے کی ہے اور سب سے پہلے ان دستاویزات کا تجزیے کیا ہے جنھیں مغل تاریخ کی بنیاد تصور کیا جاتا ہے۔

وہ پہلے تو مغلوں کی حکمرانی کے فن کو تاریخی حیثیت دیے جانے والے مواد کے ذریعے دیکھتی ہیں اور پھر اس ادب کے ذریعے جسی بالعموم ناصحانہ نوعیت کا تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں وہ کتابیں بھی شامل ہیں جو اس وقت کے حکمرانوں اور ممکنہ حکمرانوں کو حکمرانی کے امور سکھانے کے لیے لکھی جاتی تھیں۔

اس کے بعد وہ صوفیا کی طرف آتی ہیں اور نقشبندی سلسلے کے صوفیا کے حالات زندگی اور زندگی گذارنے کے طریقوں کو سامنے لاتی ہیں۔

ان کی منشا سے قطع نظر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ مغلوں کا وہ دور جسے سیاسی بےچینی اور سماجی شکایتوں کا دور بھی تصور کیا جاتا ہے نقشبندی صوفیا اور علما نے اسلام طرزِ زندگی کو متعارف کرانے میں ہراول دستے کا کردار کیسے ادا کیا۔

اس کتاب کا مطلعے ان لوگوں کے لیے انتہائی دلچسپ ہب گا جو ہندوستان اسلام کے پھیلاؤ کے طریقوں کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں اور یہ بطی سمجھنا چاہتے ہوں کہ ایک اقلیتی گروہ کی حکمرانی کیسے ممکن ہوئی۔

شہزادی شہر بانو بیگم پٹوڈی کی خود نوشت

نام کتاب: بیتی کہانی

شہزادی شہر بانو بیگم پٹوڈی کی خود نوشت

A Story of Days Gone By

ترجمہ و تدوین: طاہر آفتاب

صفحات: 253

قیمنت: 825 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔74900

طاہرہ آفتاب کی ترجمہ کی ہوئی یہ کتاب اردو کی ابتدائی خودنوشتوں میں سے ایک ہیں۔ مصنفہ شہزادی شہر بانو بیگم آف پٹوڈی کی آب بیتی ’بیتی کہانی‘ کے نام سے 1885 میں شائع ہوئی تھی۔ پھر دو سال بعد اس میں ایک مختصر تعارف شامل کیا گیا۔

لیکن یہ محض امیر طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی آب بیتی یا بیانہ نہیں ہے بلکہ کی 1857 جنگِ آزادی کے پہلے دوران اور بعد کے زمانوں میں عورتوں پر گذرنے والے حالات کی ایک ایسی منفرد دستاویز جو ہمیں اس دور کی تاریخ کے ایک نئے پہلو سے متعارف کراتی ہے۔

یہاں ضمنًا ایک بات کا ذکر ضرور ہونا چاہیے کہ اب تک ہمارے پاس تاریخ کے نام پر جتنی دستاویز ہیں وہ سب مردوں نے مردوں کے نظر سے اور مردوں ہی کے بارے میں لکھی ہیں اور بہت ہی کم ایسے تواریخ ہیں جن میں ان ادوار کو عورت کی نظر سے دیکھا اور عورتوں کے تجربات کی بنیاد پر سمجھا اور استوار کیا گیا ہے۔

اس اعتبار سے ’بیتی کہانی‘ کا یہ ترجمہ ہمیں انیسویں صدی کے اس دور کو ایک نئی نظر سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم اس حوالے سے اس دور کے سارے جنوبی ایشیا کے بارے میں نیا نقطۂ نظر ترتیب دینے کی ضرورت محسوس کریں۔ اس طور پر یہ ترجمہ مؤرخوں کے لیے ایک امتحان بھی ہے کہ وہ پرانی روش سے ہٹ کر کچھ دیکھنے کے لیے تیار ہو سکیں گے یا نہیں۔

اس میں تو شک نہیں کیا جانا چاہیے کہ جو تواریخ عورتوں کے طرز ہائے زندگی، سوچ، معاشرت اور رہن سہن کو نکال لکھی گئی ہیں وہ کسی طور پر بھی مکمل نہیں کہلا سکتیں۔

شہر بانوں اگرچہ ایک با پردہ خاتون تھیں لیکن ان کی آب بیتی گھر کی اندرونی اور بیرونی زندگی کا اس طرح احاطہ کرتی ہے کہ آب بیتی تاریخ کی اساس بننے والی دستاویز بن جاتی ہے۔

آب بیتی یقینی طور پر ایک رواں اور کہانی کاری کے اسلوب سے بھر پور ہے اور یہ بات طاہر آفتاب سے کے ترجمے کا جوہر ہے۔

ڈاکٹر طاہرہ آفتاب تاریخ کی پروفیسر ہیں اور کراچی یونیورسٹی میں ومن سٹڈیز کے بانی ڈائریکٹروں میں سے ہیں۔ انھوں نے جامعہ کراچی سے 1986 میں ڈاکٹریٹ کی۔ وہ ’عالم نسواں‘ کے نام سے نکالے جانے والے جریدے کی مدیر اور ناشر بھی ہیں۔2

جنوبی ایشیا پر پر معروف مغربی مورخ کی کتاب

نام کتاب: پاکستان، ایک نئی تاریخ

Pakistan A New History

مصنف: ایان ٹیلبوٹ

صفحات: 281

قیمنت: 895 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں کے لیے آئیّن ٹیلبوٹ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ ساؤتھ ہیمپٹن یونیورسٹی میں تاریخ کے پروفیسر ہیں اور جنوبی ایشیا کی تاریخ پر کام کرنے والے سرِ فہرست یورپی موّرخوں میں شامل ہیں۔

انھوں نے برِصغیر کی تقسیم، تقسیم کے شہروں پر اثرات اور مذہب، سیاست اور تشدد پر بھی بہت کام کیا ہے۔ ان کی کئی کتابیں اوکسفرڈ یونیورسٹی نے شائع کی ہیں۔

اس کتاب میں انھوں نے گذشتہ چھ دہائیوں کے دوران پاکستان کی تاریخ کے اہم اور بڑے موڑوں کا جائزہ لیا ہے۔ انھوں نے اس عرصے میں پاکستان کی بہت سی ناکامیوں، مستحکم حکمرانی کے زوال، مثبت سیا ست اور اقتصادی ترقی میں معکوسیت اور سب سے بڑھ کر مسلم ریاست کے ان غیر حقیقت پسندانہ مقاصد پر بات کی ہے جو پاکستان سے وابستہ کیے جاتے ہیں۔

اس کتاب میں وہ واضح طور پر پاکستان میں ایک مثبت بیداری کے ٹھوس امکانات کی توثیق کرتے ہیں۔ ٹیلبوٹ کی دلیل یہ ہے کہ ناکامیاں پاکستان کی تقدیر کا حصہ نہیں ہیں۔ ان کا حساس تاریخی فہم اس بات کو واضح کرتا ہے کہ پاکستان کے لیے ابھی بہت سے ایسے مواقع موجود ہیں جو اس کے مفاد میں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ریاست ان مواقع کا فائدہ اٹھا کر نہ صرف اپنی ترجیحات کو پھر سے بروئے کار لا سکتی ہے بل کہ اپنے اداروں کو مستحکم کر کے سیاسی اور اقتصادی پائیداری کو بھی حاصل کر سکتی ہے۔

یہ خیالات اس ٹیلبوٹ کے ہیں جن کے بارے میں یونیورسٹی آف لندن میں تاریخ کے پروفیسر فرانسس روبنسن کا کہنا ہے کہ ’ٹیلبوٹ کے نتائج متوازن اور الفاظ مستند اور قابلِ اعتبار ہوتے ہیں۔

ہو سکتا ہے کچھ اس بات سے تفاق نہ کریں لیکن اس میں تو کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی پیچیدہ سیاست کو سمجھنے کے لیے ان کی کتاب جتنی مدد گار ہو سکتی ہے اتنی شاید پاکستان کے بارے میں لکھی جانے والی کوئی تاریخ نہیں ہو گی۔

پاکستان کے پنجابی کرسچین

The Unconquered People

مصنف: جان اوبرین

صفحات: 332

قیمنت: 995 روپے

ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس پاکستان۔ پی او بکس 8214، کراچی۔ 74900

یہ کتاب تاریخ کے اس ہولناک حصے اور نسلیاتی جغرافیے کے تغیر کے جائزے سے شروع ہوتی ہے جب آریا برصغیر ہند پر حملہ آوور ہوئے اور یہاں رہنے والے اصل باشندوں پر فتح مند ہو کر انھیں نہ صرف جبری بیگاری بننے پر مجبور کر دیا۔ نرہمنوں کے کلاسیکی ادب میں ان لوگوں کا ذکر چنڈال کے نام سے ملتا ہے اور یہی لوگ تھے جنھیں ہندوستان میں (1931-1868) کی مردم شماری میں چوڑھے قرار دیا گیا۔

ہم عصر پاکستان میں ان لوگوں کو اب پنجابی کرسچنز کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

زیر تبصرہ کتاب بنیادی طور پر ان کی پیشہ ورانہ نوعیت کا جائزہ نہیں لیتی بل کہ ان کی قبائلی نوعیت، ان کا اصل وطن اور پھر ہندوستان میں ان کے پھیلاؤ کی تحقیق کرتی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کرتی ہے کہ ان کا انحطاط اور تنزل کیسے شروع ہوا اور کیسے ان کے ساتھ روا رکھی جانے والی نابرابری مذہب اور عقیدے کا حصہ بن گئی۔

اس کے علاوہ یہ کتاب استحصال کی یادداشت کے جبر کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے کہتی ہے کہ یہ لچک دار لوگ زیادہ بہتر اور قدرے انسانی مستقبل کے لیے مسلمہ سمجھے جانے والے رسم ورواج، اپنے حسب نسب اور ماضی و حال کو نئے معنی بھی دے سکتے ہیں کیوں کہ ان کی تاریخ بتاتی ہے کہ ثقافتی طور پر انھیں نہ تو آسانی سے محدود رکھنا آسان ہے اور نہ ہی ان پر ہمیشہ بالا دست رہا جا سکتا ہے۔

یہ کتاب اس کے علاوہ ان محکوموں کی ذہنی کائنات، ان کی مذہبی حساسیت اور اصطفائی ساختوں پر بھی بات کرتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ ان کے ہاں یہ چزیں کیسے ارتقا کرتی ہیں اور یہ کہ کیسے ان کے ہاں مظاہر پستی کے عقیدے نے بالا شاہ بالمکی کے مسلک کی شکل اختیار کی۔

اس کتاب کا کہنا ہے کہ ’چوڑھوں‘ کے ہاں کرسچینیٹی کے تحریک ان کی سماجی شناخت میں ایک فیصلہ کن لمحے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ زرعی کام کرنے والوں اور کرائے پر آنے والوں کے درمیان اوپر اٹھنے کا فرق نے کیسے شہری اور دیہی اور پھر شہروں میں ’خشک‘ اور ’گیلے‘ کام کرنے والے مہتروں کے درمیان سماجی فاصلے کو وسیع کیا ہے۔ پھر یہ کہ پنجابی کرسچنوں کے عقائد کیا ہیں اور پاکستان میں اب جو ہر چیز کو اسلام سانچے میں ڈھالنے کی لہر کے سبب ان کرسچنوں کو مرکزی دھارے سے الگ کر دیا گیا ہے تو اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔

جان اوبرائن اس کتاب میں صرف ایسی معلومات جمع نہیں کی جو انسائکلوپیڈیا کے لیے جمع کی جاتی ہیں بل کہ انھوں نے ایک ایسا کام کیا ہے جس پر مستقبل کے محققوں کو ایک مضبوط بنیاد میسر آئے گی۔ جان اوبرائن آئرلینڈ کے ہیں اور انھوں نے روم سے ’دی ہرمینیوٹیکل پریولج آف دی پوّر‘ کے موضع پر ڈاکٹریٹ کی ہے۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔