میں بہت خوش اور محفوظ ہوں: شاہ رخ خان

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جنوری 2013 ,‭ 21:33 GMT 02:33 PST

بھارتی فلم انڈسٹری بالی وڈ کے سپر سٹار شاہ رخ خان کا کہنا ہے کہ جو لوگ انہیں بغیر مانگے مشورہ دے رہے ہیں وہ انہیں کہنا چاہتے ہیں کہ وہ بہت خوش اور محفوظ ہیں۔

شاہ رخ خان نے یہ بات پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کے اس بیان کے جواب میں کہی جس میں رحمان ملک نے کہا تھا کہ بھارت کی حکومت کو شاہ رخ خان کو سکیورٹی دینی چاہیے۔

شاہ رخ نے کہا، ’ہمارے پاس ایک خوبصورت، جمہوری، آزاد اور سیکولر جینے کا طریقہ ہے۔‘

شاہ رخ سے منسلک یہ تازہ تنازع آؤٹ لک ٹرننگ پوائنٹس نامی ایک میگزین میں ان کے ایک مضمون سے پیدا ہوا۔ اس مضمون کا عنوان تھا ’بيگ اے خان‘۔

شاہ رخ خان نے مضمون میں لکھا تھا کہ بھارت میں مسلمان ہونے کی کچھ مسائل بھی ہیں۔

ان کے مضمون پر ہوئی بحث کو بکواس قرار دیتے ہوئے شاہ رخ خان نے ممبئی میں میڈیا سے کہا ’میں اس تنازعے کی جڑ ہی سمجھ نہیں پا رہا ہوں۔ اس مضمون کو لکھنے کا سبب تھا اس بات کو دہرانا کہ کئی بار میرا ایک ہندوستانی مسلم فلم سٹار ہونا تنگ ذہنیت والے اور مذہب میں اندھے لوگوں کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے۔‘

شاہ رخ کے مضمون پر جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے کہا کہ شاہ رخ چاہیں تو پاکستان آ کر رہ سکتے ہیں اور انہیں یہاں پوری آزادی ملے گی۔

"میں اس تنازعے کی جڑ ہی سمجھ نہیں پا رہا ہوں۔ اس مضمون کو لکھنے کا سبب تھا اس بات کو دہرانا کہ کئی بار میرا ایک ہندوستانی مسلم فلم سٹار ہونا تنگ ذہنیت والے اور مذہب میں اندھے لوگوں کی طرف سے استعمال کیا جاتا ہے۔"

شاہ رخ خان

اس کے بعد پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ بھارت کی حکومت کو اداکار شاہ رخ خان کو سہولیات فراہم کرانا چاہیے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق رحمان ملک نے کہا ’وہ (شاہ رخ خان) بھارت میں پیدا ہوئے ہیں اور بھارتی ہی رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن میں حکومت سے درخواست کروں گا کہ براہ مہربانی ان کو تحفظ فراہم کرے۔ میں تمام بھارتی بھائی بہنوں سے اور ان تمام لوگوں سے درخواست کروں گا، جو شاہ رخ خان کے بارے میں منفی طریقے سے بات کرتے ہیں، کہ انہیں یہ پتہ ہونا چاہیے کہ وہ ایک فلمی اداکار ہیں۔‘

منگل کو اپنے بیان میں شاہ رخ خان نے کہا کہ لوگ ان کے مضمون کو بغیر پڑھے تبصرے کر رہے ہیں اور انہیں سب سے پہلے یہ مضمون پڑھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اپنے مضمون میں انہوں نے کہیں یہ نہیں کہا کہ انہیں بھارت میں سکیورٹی کے حوالے سے خطرہ ہے۔

اس سے پہلے بھارت کے داخلہ سکریٹری آر کے سنگھ نے رحمان ملک کے بیان پر رد عمل میں کہا تھا کہ بھارت اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستان کو اس بارے میں فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔