’فلم پر پابندی کے سوا کوئی راستہ نہ تھا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 13:11 GMT 18:11 PST

کمل ہاسن نے اپنی فلم پر عائد پابندی کے خلاف مدراس ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی

بھارتی ریاست تمل ناڈو کی وزیر اعلی جے للیتا کا کہنا ہے کہ کمل ہاسن کی جانب سے اپنی نئی فلم کے ’متنازع‘ مناظر کی تدوین سے انکار کے بعد فلم پر پابندی عائد کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔

جے للیتا نے ان الزامات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ریاستی حکومت نے بدلے کی نیت سے یہ قدم اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض مسلم تنظیموں نے فلم ’وشوروپم‘ کے بعض حصوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور ریاست میں امن و قانون قائم رکھنے کے لیے فلم کی نمائش پر پابندی عائد کرنا ضروری تھا۔

ان کا کہنا تھا ’اداکار کمل ہاسن سے میرا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ ہم نے بدلے کی نیت سے یہ کاروائی نہیں کی ہے‘۔

تمل ناڈو میں تعنیات پولیس اہلکاروں کی تعداد کے بارے میں انہوں نے بتایا ’ہمیں اس بات کی خفیہ اطلاع تھی کہ فلم ریلیز ہونے کے بعد تشدد شروع ہو سکتا تھا اور اس کے بندوبست کے لیے ریاستی حکومت کے پاس بڑی تعداد میں پولیس فورس موجود نہیں ہے‘۔

واضح رہے کہ بھارتی اداکار کمل ہاسن نے فلم کی ریلیز کے پیش نظر ریاست میں قانون کے نظام پر بھی سوال اٹھایا تھا۔

"امن و امان کے قیام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے تشدد شروع ہو اور پھر اسے روکا جائے، یہ انتطامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی نا خوشگوار واقعہ کو شروع ہونے سے پہلے ہی روک دے۔"

جے للیتا

اس بارے میں جے للیتا نے کہا ’امن و امان کے قیام کا مطلب یہ نہیں ہے کہ پہلے تشدد شروع ہو اور پھر اسے روکا جائے، یہ انتطامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی نا خوشگوار واقعہ کو شروع ہونے سے پہلے ہی روک دے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کمل ہاسن چاہتے تو مسلم تنظیموں کے ساتھ بات چیت کر کے مسئلے کا حل نکال سکتے تھے لیکن اس میں دیر کی گئی۔جے للیتا کے مطابق اگر کمل ہاسن اور مسلم تنظیمیں اس بارے میں بات کرتی تو ریاستی حکومت تعاون کرتی۔

واضح رہے کہ کمل ہاسن نے اپنی فلم پر عائد پابندی کے خلاف مدراس ہائی کورٹ میں درخواست دی تھی۔

مدراس ہائی کورٹ نے منگل کو فلم کی ریلیز کی اجازت دے دی تھی لیکن تمل ناڈو حکومت نے اسے چیلنج کیا اور بدھ کو مدراس ہائی کورٹ نے اپنے پرانے فیصلے کے برعکس فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کردی۔

کمل ہاسن نے کہا تھا کہ وہ مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے لیکن انہوں نے فی الحال ایسا نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاست کی بعض مسلم تنظیموں اور مسلم رہنماؤں نے ان کی نئی فلم کو فرقہ پرستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔

"اب میں عدالت اور دلیل کا سہارا لوں گا۔ اس طرح کی ثقافتی دہشتگردی کو روکنا ہوگا۔"

بھارتی اداکار کمل ہاسن

مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فلم سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔

تنظیموں نے فلم کے خلاف احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا تھا جس کے بعد تمل ناڈو کی حکومت نے فلم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔

بھارتی خبر رساں اداروں کے مطابق کمل ہاسن نے حکومت کے اس فیصلے کے بعد کہا تھا ’اب میں عدالت اور دلیل کا سہارا لوں گا۔ اس طرح کی ثقافتی دہشتگردی کو روکنا ہوگا۔‘

خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل مسلم اداروں کے لیے ’وشو روپم‘ کی خاص سکریننگ کی گئی تھی جسے دیکھنے کے بعد کہا گیا تھا کہ یہ فلم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ کمل ہاسن اپنی فلم کو پہلے ڈي ٹي ایچ یعنی ڈائریکٹ ٹو ہوم سسٹم پر ریلیز کرنا چاہتے تھے لیکن تمل ناڑو تھیٹر مالکان کے احتجاج کے بعد یہ طے پایا کہ تھیٹر میں ریلیز کے ایک ہفتے بعد فلم ڈي ٹي ایچ پر ریلیز کی جائے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔