زیرو ڈارک تھرٹی: پاکستانیوں کے لیے باعثِ شرمندگی؟

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 فروری 2013 ,‭ 10:17 GMT 15:17 PST

پاکستانی سنیما گھروں نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش اور پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں ان کی کمین گاہ پر امریکی آپریشن کے بارے میں بنائی جانے والی فلم زیرو ڈارک تھرٹی کی نمائش سے تو انکار کیا ہے لیکن یہ فلم ڈی وی ڈی پر ملک بھر میں عام دستیاب ہے۔ بی بی سی کے محمد حنیف نے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ کیا پاکستانی اس فلم کو بےعزتی یا باعثِ شرمندگی مانتے ہیں یا پھر ان کے نزدیک یہ حالات و واقعات کی صحیح عکاس ہے۔

پاکستان میں سنسر بورڈز اور سنیما کے مالکان ایسی فلموں کے مداح نہیں جن میں ملک کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا ذکر ہو اور چاہے وہ ذکر کیسا ہی کیوں نہ ہو۔

گزشتہ برس ہی سنسر نے اسی وجہ سے دو بھارتی فلموں پر پابندی عائد کی تھی۔

’ایک تھا ٹائیگر‘ پر پابندی کی وجہ بھارتی خفیہ ادارے کے جاسوس کا آئی ایس آئی کی حسین جاسوسہ سے عشق بنی تو ’ایجنٹ ونود‘ میں بھارتی جاسوس کی آئی ایس آئی کے جاسوسوں پر جیت اس پر پابندی لگوا گئی۔

لیکن ان پابندیوں کا نتیجہ بڑی تعداد میں پاکستانی عوام کے فلموں کی دکانوں کی جانب رخ کرنے کی صورت میں نکلا جہاں انہوں نے ان فلموں کی ’پائریٹڈ‘ ڈسک خرید کر دیکھا۔

فلمیں دیکھنے کے بعد یہ لوگ یہی کہتے سنائی دیے کہ ’ان بھارتیوں کو دیکھو یہ ہمیشہ ہمارے خفیہ اداروں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔‘

لیکن یہی لوگ ملک بھر میں ہونے والی شادیوں میں انہی پابندی کا شکار فلموں کے گانوں پر رقص بھی کرتے رہے۔

اگرچہ زیرو ڈارک تھرٹی میں آئی ایس آئی کا کوئی اچھا یا برا ایجنٹ نہیں دکھایا گیا لیکن پھر بھی فلموں کے تقسیم کاروں نے سنسر حکام کو زحمت دینا بھی گوارا نہیں سمجھا اور رضاکارانہ طور پر فلم تقسیم ہی نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

وجہ یہی تھی کہ اس فلم میں اس شخص کا تذکرہ تھا جو پاکستان کے خفیہ اداروں کے لیے باعثِ شرمندگی بنا ہے۔ اسامہ بن لادن پاکستانی فوج کی مرکزی اکیڈمی کے قریب قیام پذیر رہا اور پاکستان کے خفیہ اداروں کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہوئی۔

فلم میں تشدد کے متنازع مناظر پر تو دنیا بھر میں بات ہوئی لیکن پاکستان میں یہ موضوعِ بحث نہیں

اور جب امریکی فوجی ایک رات اسے گرفتار یا ہلاک کرنے کا مشن لیے ایبٹ آباد آن پہنچے تب بھی پاکستان کی طاقتور فوج ’سوتی ہی رہ گئی‘۔

اس لیے شاید اس فلم کو ہماری معصومیت کی توہین سمجھا گیا ہے۔

اس فلم میں تشدد کے متنازع مناظر پر تو دنیا بھر میں بات ہوئی لیکن پاکستان میں یہ موضوعِ بحث نہیں۔

جنہوں نے یہ فلم دیکھی ہے انہیں اب یہ تو پتا چل گیا ہے کہ ’واٹر بورڈنگ‘ پانی کے کسی کھیل کا نام نہیں اور یہ کہ ایک دن اگر آپ تشدد کرنے کے ماہر ہوں تو اگلے دن آپ واشنگٹن میں ایک اہم بیوروکریٹ بن سکتے ہیں۔

اس فلم سے ایک اور سبق یہ ملتا ہے کہ دنیا کے تحفظ کے لیے آپ کو ایک بالٹی پانی، چند نقاب پوش افراد اور اسلام آباد میں تعینات ایک امریکی خاتون درکار ہے جو کمپیوٹر کا استعمال جانتی ہو۔

اعتراضات تو شروع ہی تب ہوتے ہیں جب فلم تشدد کے مراکز سے باہر نکلتی ہے اور لوگوں کو تشدد کرنے والے ماہر کے اپنے بندروں کو آئس کریم کھلانے پر بھی اعتراض نہیں۔

ایک ایسی فلم جس میں انتہائی سطح کے تشدد کو روزمرہ کے دفتری کام جیسا دکھایا گیا ہو، اس پر پاکستان کی روزمرہ زندگی کے غلط تصویر کشی کا الزام کچھ صحیح نہیں لگتا لیکن اصل بحث یہی ہے۔

غیر ملکی فلموں پر اعتراضات کرنے کے ماہر پاکستانیوں کو ’زیرو ڈارک تھرٹی‘ کی شکل میں ایک خزانہ ہاتھ لگا ہے۔

پاکستانی ناظرین کے بڑے اعتراضات کچھ یوں ہیں کہ ہم تو عربی نہیں بولتے نہ ہی ہم ’ہومس‘ کھاتے ہیں اور ایک عام خیال یہ بھی ہے کہ فلم میں امریکی خاتون کے دعوے کے برعکس ہمارے یہاں بہت زیادہ سپورٹس یوٹیلٹی وہیکلز بھی نہیں ہیں۔

زیرو ڈارک تھرٹی کا پاکستان، تشدد کے مراکز، سی آئی اے کے کمپیوٹرز، عربی بولتے پشتون رہنما اور انگلش بولتے عرب رہنماؤں پر مشتمل ہے۔

لیکن چونکہ تشدد کے ماہرین کو بھی آخرِ کار اپنے مراکز سے باہر نکلنا تو پڑتا ہے اس لیے آپ کو پاکستان کی ’اصل‘ زندگی کی جھلک بھی دکھائی دے جاتی ہے۔

بظاہر یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں حملہ آور امریکی سفارتکاروں پر کھلے عام فائرنگ کرتے ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کو بزرگ افغان خاتون کا روپ دھارنا پڑتا ہے اور ایک مقامی شخص کو جو فقرہ بولنے کی اجازت ہے وہ یہ کہ ’ہمیں سفیدفاموں کی شکل پسند نہیں۔‘

یا پھر جب امریکی اہلکار اسامہ بن لادن کے حواس باختہ اہلِ خانہ کو سمجھانے بجھانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو لوگ دور کھڑے عربی میں کچھ بڑبڑا رہے ہوتے ہیں۔

سینیئر کالم نگار ندیم ایف پراچہ نے اپنے ایک مضمون زیرو آئی کیو تھرٹی میں ان تعصبات کی فہرست تیار کی ہے جو امریکی اور پاکستانی ایک دوسرے کے بارے میں رکھتے ہیں۔

’شاید اس فلم کو ہماری معصومیت کی توہین سمجھا گیا ہے‘

جہاں امریکیوں کے خیال میں ایک بزرگ پاکستانی خاتون سبزی کے ساتھ خودکش جیکٹ بھی خرید کر لا سکتی ہے وہیں بظاہر پاکستانیوں کے خیال میں امریکی بچوں کو فارغ اوقات میں ڈرون طیارے بنانا سکھایا جاتا ہے۔

یہ سب اپنی جگہ لیکن فلم کا جائزہ لینے والے ایک فرد نے تو اس کی حمایت کی ہے۔

نعمان انصاری لکھتے ہیں کہ جہاں تک دو مئی دو ہزار گیارہ کے واقعات کا تعلق ہے زیرو ڈارک تھرٹی ہمیں بےوقوف اور نا اہل ثابت کرتی ہے جو کہ ہم تھے بھی۔

فلم میں آئی ایس آئی ایک مہمان اداکار کے طور پر سامنے آتی ہے جب فلم کی مرکزی کردار خاتون اہلکار اپنے افسر سے کہتی ہے کہ اس کا بھانڈا پھوٹنے کی ذمہ دار آئی ایس آئی ہے۔

نوجوان صحافی اور بلاگر صبا امتیاز کے خیال میں اس عام فہم جملے میں بیان کیا گیا یہ احساس ہی اس فلم کی ’ٹیگ لائن‘ ہونی چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔