’جمہوریت کی ریل گاڑی پر‘ کی رونمائی

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 01:47 GMT 06:47 PST

نفیسہ ہود بھائی سامعین سے مخاطب ہیں جبکہ سٹیج پر ڈاکٹر جعفر، زبیدہ مصطفٰی اور زہرہ یوسف موجود ہیں

معروف صحافی، براڈکاسٹر اور مدرس و مشیر نفیسہ ہود بھائی کے بارے میں محقق اور سینیئر صحافیوں کا کہنا ہے کہ نفیسہ نے اپنی عزم اور حوصلے سے نہ صرف خواتین کے لیے رپورٹنگ کا میدان ہموار کیا ہے بلکہ معیار کی مثال بھی فراہم کی ہے۔

اتوار کی شام کراچی آرٹس کونسل میں پاکستان میں سیاسی رپورٹنگ کرنے والی پہلی خاتون نفیسہ ہود بھائی کی کتاب کی رونمائی میں تقریب کی صدر زبیدہ مصطفٰی، ڈاکٹر جعفر، نذیر لغاری اور محمد حنیف اور خود نفیسہ ہود بھائی نے خطاب کیا۔

نفیسہ کی یہ کتاب Aboard the Democracy Train پہلے امریکہ اور برطانیہ میں شائع ہو چکی ہے اب اسے پاکستان سے شائع کیا گیا ہے۔

تقریب کی صدر معروف سینیئر صحافی زبیدہ مصطفیٰ نے بتایا کہ جب نفیسہ رپورٹنگ کے لیے ڈان میں آئیں تو وہ ان کے عزم اور حوصلے سے بہت متاثر ہوئیں کیونکہ تب وہاں چند ہی عورتیں کام کرتی تھیں اور وہ بھی ڈیسک پر تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف نئی نسل نے ہی نفیسہ کی رپورٹوں سے بہت کچھ سیکھا بلکہ ہم سینیئر لوگوں نے بھی بہت کچھ سیکھا۔ وہ انتہائی مشکل حالات تھے اور ان میں لوگوں تک سچ پہنچانا اور بھی مشکل تھا، اس میں نفیسہ کو کئی بات خطرناک مواقع کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن زہرہ یوسف نے کہا کہ یہ کتاب مناسب وقت پر آئی ہے کیونکہ پاکستان میں پہلی بار ایک منتخب حکومت کسی بظاہر رکاوٹ کے بغیر اپنی مدت مکمل کرنے والی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی خراب حکمرانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں پر بات نہ کی جائے لیکن اس پر بات کرتے ہوئے دو بڑے بھائیوں، فوج اور عدلیہ کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے لیے اب ایک اور نیا خطرہ عسکریت پسندی ہے۔

زہرہ نے کہا کہ ’نفیسہ کا نقطۂ نظر صحافتی ہے نہ کہ اکیڈیمک، یہ بات کتاب کو پڑھنا بہت آسان بنا دیتی ہے‘۔ ان کا انداز پرخلوص، دیانتدارانہ اور پُر کشش ہے۔

نفیسہ ذاتی تاریخ اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں توازن برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں: محمد حنیف

پاکستان سٹڈی سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جعفر احمد نے نفیسہ ہوڈ بھائی کی کتاب پر بات کرتے ہوئے کہا کہا کہ یہ ایک انتہائی اہم کتاب ہے اور اس کے ذریعے ہم یہ جان سکتے ہیں کہ کسی ملک کے ساتھ ساتھ پرورش پانے کے معنی کیا ہوتے ہیں۔ پھر اس میں ایک زندہ پاکستان کا عکس دکھائی دیتا ہے۔

انھوں نے کتاب کے پانچ اہم پہلو گنواتے ہوئے کہا کہ پہلا پہلو تو یہ ہے کہ نفیسہ کو شدید احساس تھا کہ پاکستان ایک مردانہ معاشرہ ہے اور اس معاشرے میں انھیں کام کرنے کے لیے غیر معمولی جدوجہد کرنی پڑے گی۔

یہی بات بےنظیر سے ان کی دلی وابستگی کو استوار کرتی ہے۔ پھر انھوں نے پہلی خاتون رپورٹر کے طور پر کام کر کے اس سلسلے میں موجود صنفی تعصب میں پہلی دراڑ ڈالی۔

دوسرا پہلو خود ایلیٹ گھرانے کا ہونے کے باوجود سندھ کے نچلے اور محروم طبقے کی نمائندگی ان کی سیاسی فکر کو نمایاں کرتی ہے۔

تیسرا پہلو نسلی سوال کے بارے میں ان کا معروضی اور تعصب سے پاک رویہ ہے حالانکہ کہ انھیں اکثریت کی اقلیت میں تبدیلی، تصادم کے اسباب اور ان سے نمٹنے میں انتظامی ناکامی کے معاشرتی اثرات کا بھی احساس رہتا ہے۔

چہارم، بےنظیر بھٹو سے قلبی تعلق کے باوجود ان کے دونوں ادوار کی کمزوریوں اور ناکامیوں پر تنقید کرتے ہوئے جمہوریت اور اس کے اصولوں پر سمجھوتا نہ کرنا۔

پنجم، نائن الیون کے بعد پاکستان کے کردار پر نفسیہ کی تنقید ہے، جس میں وہ سمجھتی ہیں کہ آج جو کچھ بھی کشت و خون ہے وہ اسی پالیسی کا شاخسانہ ہے۔

ڈاکٹر جعفر کا کہنا ہے کہ اصل بات یہ ہے کہ ہود بھائی کی کتاب ’پولیٹیکلی کریکٹ‘ یا سیاسی طور پر درست ہے اور جمہوری تناظر رکھتی ہے۔

"ہمیں ان خوفناک نتائج سے سبق سیکھنا چاہیے جو جمہوری عمل میں بار بار رکاوٹ کی وجہ سے پیدا ہوئے۔۔۔ اسلام آباد کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن ان سب کا ذمہ دار واشنگٹن کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس میں کم از کم حکمرانی اور منصوبہ بندی کے فقدان کا ذمے دار تو خود اسلام آباد ہی ہے۔"

نفیسہ ہودبھائی

کتاب اور خود اپنے بارے میں نفیسہ کا کہنا تھا کہ یہ کتاب ان لوگوں کے لیے ہے جو پاکستان کے اندرونی حالات کی کہانی سے دلچسپی رکھتے ہیں، اور انھوں نے یہ کتاب اس لیے لکھی ہے کہ انھیں 80 کی دہائی کے دوران سیاسی رپورٹر کی حیثیت پاکستان کے سرکردہ سیاستدانوں سے ملنے اور خصوصی معلومات تک رسائی کا موقع ملا۔

صحافی اور ناول نگار محمد حنیف نے کہا کہ اس کتاب کا سب سے مشکل مرحلہ یہ ہے کہ اسے فرسٹ پرسن میں لکھا گیا ہے اس کے باوجود نفیسہ ذاتی اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں توازن برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہیں۔ اگرچہ یہ کتاب پاکستان کی سیاسی تاریخ نہیں ہے بلکہ بیس سال کے حالات و واقعات کے بارے میں ایک رپورٹر کی ایسی ڈائری ہے جو نہ صرف اس وقت کے بارے میں بلکہ آج کے حالات کے بارے میں تناظر مہیا کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا نفیسہ نے اس دور میں صرف سیاسی رپورٹنگ ہی نہیں کی بلکہ قتل اور ریپ کے مقدمات کی بھی ایسی رپورٹنگ کی کہ انھیں انجام تک پہنچا کر دم لیا۔ سامعین کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے نفیسہ نے کہا کہ ’ہمیں ان خوفناک نتائج سے سبق سیکھنا چاہیے جو جمہوری عمل میں بار بار رکاوٹ کی وجہ سے پیدا ہوئے۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ موجودہ حکومت کی مداح نہیں ہیں لیکن ان کا خیال ہے کہ حکومت کو انتہائی مشکل صورت حال کا سامنا ہے۔ انھوں نے کہا.کہ مستحکم پالیسی اور ترقیاتی کام کیسے ہو سکتے ہیں جب حکمرانوں کو یہ دھڑکا لگا رہے گا کہ انھیں کسی بھی وقت گھر بھیجا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ عدم استحکام کا ذمے دار ان طاقتوں کو سمجھتی ہیں جو 1988 سے 1999 تک جمہوری عمل میں مداخلت کرتی رہیں اس دور میں کسی بھی حکومت کو اس کی مدت تک نہیں رہنے دیا گیا۔ تاہم اس وقت ملک اور خاص طور پر کراچی کو جس صورتِ حال کا سامنا ہے اس کا زیادہ تعلق ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں پاکستان کے کردار سے ہے۔

نفیسہ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کو مشکلات کا سامنا ہے لیکن ان سب کا ذمہ دار واشنگٹن کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اس میں کم از کم حکمرانی اور منصوبہ بندی کے فقدان کا ذمے دار تو خود اسلام آباد ہی ہے۔

تقریب سے آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے بھی خطاب کیا، تقریب کی نظامت ڈاکٹر ایوب شیخ نے کی۔

تقریب کے آغاز پر سابق ایڈیٹر، ناول نگار اور وکیل سراج الحق میمن کے انتقال پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی جب کہ اختتام پر نفیسہ ہودبھائی اور زبیدہ مصطفیٰ کو سٹینڈنگ اوویشن دیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔