پیار کی باتیں۔۔۔

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 23:00 GMT 04:00 PST

بھارت اور پاکستان سے تعلق رکھنے والی دو خواتین نے مل کر انٹرنیٹ پر کتابیں شائع کرنے یعنی ’ویب پبلشنگ‘ کا ایک نیا منصوبہ شروع کیا ہے۔ یہ منصوبہ پیار کے عالمی تہوار سینٹ ویلنٹائنز ڈے سے شروع کیا جا رہا ہے اور اس میں جنوبی ایشیا سے متعلق پیار محبت کی کہانیاں ناویلا کی شکل میں شائع کی جائیں گی۔

انڈی روم کی ناہید حسن کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ شانتی ڈومنِک کا بھارت سے۔ ان کی ملاقات جنوبی افریقہ میں ہوئی اور ان کی دوستی کی ایک بڑی وجہ کتابیں پڑھنے میں دونوں کی دلچسپی تھی۔

ناہید حسن کہتی ہیں کہ انڈی روم پر وہ ایسی کہانیاں شائع کرنا چاہتی ہیں جو برِ صغیر کے لوگوں کے بارے میں ہوں اور جو کسی حد تک جنوبی ایشیا میں دور حاضر کی زندگی کی عکاسی کر سکیں۔

"بہت ساری لڑکیاں ہوتی ہیں جو محبت کی کہانیوں کو پڑھ کر توقع کرتی ہیں کہ زندگی پریوں کی کہانی ہوگی۔ لیکن زندگی پریوں کی کہانی نہیں ہے۔ زندگی میں چیلنجـز آتے ہیں، محبت میں چیلنجز آتے ہیں اور محبت کے بعد شادی میں بھی بہت ساری مسائل سامنے آتے ہیں، مگر محبت بر قرار رہ سکتی ہے، یہ ہم کہنا چاہتے ہیں۔‘"

ناہید حسن

اسی لیے بہت سی کہانیاں روایتی رومانس سے ہٹ کر ہیں اور ان میں ایک بڑی تعداد ’مچیور رومانس‘ سے متعلق ہیں۔

اس کی ایک مثال زینت محل کا ناولا ’دا کانٹریکٹ‘ (معاہدہ) ہے جس میں ایک سکول ٹیچر کو دکھایا گیا ہے جس کی پہلی شادی سے ایک بیٹا ہے اور جس کے والدین فوت ہو چکے ہیں۔ ان کی کلاس میں ایک بچی پڑھتی ہے جس کی ماں نہیں ہے اور جس کی دادی ان سے کہتی ہیں کہ آپ میرے بیٹے سے شادی کر لیں۔ یہ دونوں لوگ مختلف شرائط کی بنیاد پر شادی کر لیتے ہیں، اور یہ ان میں ایک طرح کا آپس میں معاہدہ ہوتا ہے، کیونکہ سماجی اور عملی زندگی میں ان دونوں کو شادی شدہ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے اور خاندان کا سہارہ درکار ہوتا ہے۔

شادی کے بعد کی محبت جنوبی ایشیا کے معاشروں کی شاید ایک عام کہانی ہے۔ لیکن جیسے کہ زینت محل کہتی ہیں ’اس طرح کی کہانی مغربی رومانس میں بھی بہت ہوتی ہے خاص کر تاریخی کہانیوں میں۔ اور یہ بھی بات ہے کہ شاید ہمارے معاشرے میں شادی کے بعد لوگوں کو لگتا ہے کہ ان کو اب ایک طرح سے اجازت بھی مل گئی ہے پیار کرنے کی۔‘

اسی نوعیت کی ایک اور کتاب شویتا گنیش کمار کی ’اے نیو لی ویڈز ایڈوینچرز اِن میریڈ لینڈ‘ یعنی ’شادی کی دنیا میں ایک نئی دلہن کے قصے‘ ہے۔

مصنفہ میمی جین کہتی ہیں کہ جنوبی ایشا کے معاشروں میں پیار محبت کے معاملات میں خاص بات یہ ہے کہ یہ صرف دو لوگ نہیں ہوتے بلکہ ’ہم دنیا میں جہاں بھی جاتے ہیں اپنے خاندان کو اپنے ساتھ لے کر جاتے ہیں۔ ہم جب پیار بھی کرتے ہیں تو ہم ان کا سوچتے ہیں، لڑکا ہمیشہ یہ سوچے گا کہ کیا یہ میری ماں کو قبول ہوگی؟ لڑکی سوچتی ہے کہ کیا میرا باپ اسے پسند کرے گا؟ سوال تو یہ آتے ہیں۔ یہ بعد کی بات ہے کہ آپ ان سے بغاوت کریں یا نہیں۔ لیکن خاندان کا خیال ہمیشہ رہتا ہے۔‘

ناہید حسن کہتی ہیں کہ ’جو ہم چاہ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ لوگوں کو ’ایسکیپسٹ‘ یعنی روایتی رومانوی کہانیوں سے نکال کر حقیقت کی طرف لے کر جائیں۔ کیونکہ بہت ساری عورتیں اور لڑکیاں ہوتی ہیں جو ان کہانیوں کو پڑھ کر توقع کرتی ہیں کہ زندگی پریوں کی کہانی ہوگی۔ لیکن زندگی پریوں کی کہانی نہیں ہے۔ زندگی میں چیلنجـز آتے ہیں، محبت میں چیلنجز آتے ہیں اور محبت کے بعد شادی میں بھی بہت سارے مسائل سامنے آتے ہیں، مگر محبت بر قرار رہ سکتی ہے، یہ ہم کہنا چاہتے ہیں۔‘

انڈی روم کے موجودہ مصنفوں میں چار مرد بھی شامل ہیں لیکن کیا ان کہانیوں کے پڑھنے والوں میں صرف خواتین ہی ہونگی؟ مصنف مامون عادل کہتے ہیں ایسا نہیں ہے اور بہت سے مرد بھی ایسی کہانیاں پسند کرتے ہیں چاہے وہ اس کا اعتراف کریں یا نہیں۔

انڈی روم کی کہانیاں کمپیوٹر، ای ریڈر اور فون پر پڑھی جا سکیں گی اور ان کی قیمت سو روپے سے کم رکھی جائے گی۔

ہر مصنف کو اپنی کہانی کے ہر ڈاؤن لوڈ پر رائلٹی کی رقم ملے گی، لیکن شانتی ڈومنِک کہتی ہیں کہ انہیں توقع ہے کہ آگے چل کر بالی وڈ والے بھی ان کہانیوں میں دلچسپی لیں گے۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کہانیوں سے خطے کے لوگ بھی ایک دوسرے کی زندگیوں کے بارے میں زیادہ جان سکیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔