کراچی کا تین روزہ جشنِ ادب

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 17:52 GMT 22:52 PST

کراچی آرٹس کونسل میں پریس کانفرنس میں دائیں سے بائیں، محمد احمد شاہ، آصف فرخی امینہ سید اور گوئٹے انسٹیٹیوٹ کراچی کے ڈائریکٹر

کسی حد تک غیر معمولی بن جانے والے جرائم اور روزانہ کا معمول بن جانے والی ہلاکتوں کے حوالے سے خبروں میں رہنے والے شہر کراچی میں چوتھا تین روزہ کراچی لٹریچر فیسٹیول کے ایل ایف جمعہ 15 فروری سے تاریخی ثقافتی پہچان رکھنے والے ہوٹل بیچ لگژری میں شروع ہو رہا ہے۔

سپانسر شپ میں کمی کے لیے منتظمین آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی امینہ سید اور آصف فرخی کی اس شکایت کے باوجود اس بار شرکت زیادہ اور متنوع اور پروگرام بھی زیادہ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس بار لگ بھگ دو سو ادیب دانشور ملک اور بیرونِ ملک سے شرکت کر رہے ہیں ان میں سے پچاس بیرونِ ممالک سے ہیں۔ یہ لوگ تین دنوں میں سو کے لگ بھگ پروگراموں میں شرکت کریں گے۔

ممتاز سماجی کارکن ستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کی کے ایل ایف چار میں شرکت اس سال کے فیسٹیول کا اہم واقعہ ہوگی۔ وہ اپنے مشن کے بارے میں اطالوی ادیب لوریز اریپونی کی کتاب ’ہاف اینڈ ٹو پیسہ‘ کے بارے میں تقریب کے خصوصی مہمان ہوں گے۔

بیرونِ ملک سے آنے والوں میں مقبول شاعر گلزار، شمیم حنفی، کاملہ شمسی، ندیم اسلم، شوبھا ڈی، لوریزاریبونی، مہر افشاں فاروقی، منیزہ نقوی، کامران اصدر علی اور برطانوی سیاستداں، ادیب اور صحافی جارج گیلوے شریک ہوں گے۔

پاکستان سے انتظار حسین، عبداللہ حسین، زہرہ نگاہ، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، مرزا اطہر بیگ، حسن منظر، امجد اسلام امجد، عطاالحق قاسمی، مستنصر حسین تارڑ، امر جلیل، افتخار عارف، امداد حسینی، حسینہ معین، زاہدہ حنا اور محمد حنیف سرِ فہرست ہیں۔

تین ناولوں کے معروف مصنف برطانیہ کے ندیم اسلم افتتاحی اجلاس سے اور جارج گیلوے اختتامی تقریب سے خطاب کریں گے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران آکسفرڈ یونیورسٹی پریس کی مینیجنگ ڈائریکٹر امینہ سید، آصف فرخی، کراچی آرٹس کونسل کے محمد احمد شاہ اور گوئٹے انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر نے تفصیلات بتاتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ فیسٹیول کے دوران بات چیت، مکالمے، مطالعے اور وضاحتوں کے ماحول سے پاکستان میں تنوع اور مختلف سوچ رکھنے اور اس کے اظہار اور اسے قبول کرنے کے رویے کو فروغ حاصل ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کے ایل ایف متنوع ثقافتوں، زبانوں، علوم اور فکری روایتوں سے تعلق رکھنے والے ادیبوں، شاعروں اور دانشوروں کو ایک جگہ جمع کر کے ان کی فعالیت کو تقویت دیتا اور تبادلۂ خیال کے وسیع مواقعے فراہم کرتا ہے۔

احمد شاہ کا کہنا تھا کہ ایسے میلے کراچی اور پاکستان کے امیج کا مثبت پہلو اجاگر کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ موجودہ حالات میں بھی کے ایل ایف عام لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور یہ قابلِ تعریف کوشش کراچی کے لوگوں کی ادب اور آرٹ سے محبت کی عکاس ہے۔

"جشن ادب کراچی کا ایک ایسا پرجوش موقع بن چکا ہے جو نئے انداز اور رحجانات کو نئے طریقوں سے متعارف کرانے کا ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ یہ نہ صرف سماجی و ثقافتی مسائل کو اجاگر کرتا ہے بلکہ بہترین نئی تحریروں کو بھی سامنے لاتا ہے۔"

کے ایل ایف کے شریک بانی آصف فرخی

کے ایل ایف کے شریک بانی آصف فرخی کا کہنا تھا کہ جشن ادب کراچی کا ایک ایسا پرجوش موقع بن چکا ہے جو نئے انداز اور رحجانات کو نئے طریقوں سے متعارف کرانے کا ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ یہ نہ صرف سماجی و ثقافتی مسائل کو اجاگر کرتا ہے بلکہ بہترین نئی تحریروں کو بھی سامنے لاتا ہے۔

کہانیاں ناول اور کالم لکھنے والے اردو اور پاکستان کے ممتاز ادیب انتظار حسین پہلے بھی کے ایل ایف میں شرکت کرتے رہے ہیں لیکن اس بار ان کی شرکت اس لیے اور زیادہ اہم ہے کہ وہ گراں قدر عالمی ادبی انعام مین بکر انٹرنیشل کے لیے شارٹ لسٹ ہونے والے نو ملکوں اور سات زبانوں کے دس منتخب ادیبوں میں شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس بار کے ایل ایف میں متعدد نئی کتابوں کی تعارفی تقاریب بھی ہوں گی۔ پرویز ہود بھائی کی تدوین کردہ ’ کنفرنٹنگ دا بم‘، نفیسہ ہود بھائی کی ’ابورڈ دا ڈیموکریسی ٹرین‘، لارینٹ گیئر کی تدوین کردہ ’مسلم اِن انڈین سٹیز‘، ساز اگر وال کی ’گم گشتہ وطن کی کہانیاں‘ منیزہ نقوی کی مدون ’کراچی: ہماری کہانیاں، ہماری زبانی‘ اور حسن درس کا کلام ’حسن درس جو رسالو‘ سرِ فہرست ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔