جمہوری، ترقی پسند اور سیاسی انتظار حسین

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 04:45 GMT 09:45 PST

سٹیج پر بائیں سے دائیں انتظار حسین، شمیم حنفی، سحر انصاری اور محمد احمد شاہ

اردو اور ہندوستان کے معروف نقاد اور سکالر شمیم حنفی نے کہا ہے کہ انتظار حسین ایک جمہوری اور حقیقی ترقی پسند ادیب ہیں اور اپنے بارے میں پائی جانے والے تمام تصورات کے برخلاف وہ ایک سیاسی لکھنے والے ہیں، لیکن جتنی غلط فہمیاں انھوں نے اپنے بارے میں پیدا کی ہیں اتنی کبھی کسی اور ادیب نے خود اپنے بارے میں پیدا نہیں کی ہوں گی۔

شمیم حنفی بدھ کی شام کراچی آرٹس کونسل میں کہانیوں اور ناولوں سے عالمی فکشن میں اردو کی پہچان کا حوالہ بننے والے پاکستانی ادیب انتظار حسین اور ان کے فن کی اہمیت پر بات کر رہے تھے۔

شمیم حنفی کے بعد انتظار حسین نے کہا کہ انھیں جو کچھ کہنا تھا یا کہنا ہوتا ہے وہ اپنی کہانیوں اور ناولوں میں کہہ دیتے ہیں اور کہہ چکے ہیں اور جب ان کے بارے میں بات ہوتی ہے تو انھیں حیرت ہوتی ہے کہ جو کہا جا رہا ہے وہ سب ان کے فکشن اور تحریروں میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لکھنے والے جو بھی لکھتے ہیں اس میں آدھے معنی ہوتے ہیں باقی آدھے معنی پڑھنے والوں میں ہوتے ہیں۔

شمیم حنفی نے اردو فکشن کی تاریخ کے حوالے سے بات شروع کی اور کہا کہ اردو کے جدید فکشن کے تین اہم دور ہیں۔ پہلا دور پریم چند ہیں جن سے عالمی داخلے کا راستہ ملتا ہے، دوسرا سعادت حسن منٹو ہیں جب کہ تیسرا اور اہم دور قرۃ العین اور انتظار حسین کا ہے۔ یہ دور انتہائی تبدیلیوں اور آشوب کا دور ہے اور اس دور کی تمام تبدیلیوں کا سراغ ہمیں انہی دو کے ہاں ملتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان دو کی کہانیوں اور ناولوں کا مطالعہ دراصل تاریخ کا مطالعہ ہے۔ اس اعتبار سے انتظار حسین کا نام ان کے لیے ایک تجربہ ہے اور اس عصر کے اہم عالمی فکشن کے جو شاہ پارے ہم پڑھتے ہیں اس کے نمونے ہمیں انتظار حسین کے ہاں ملتے ہیں۔ ہمیں ان کی تحریروں میں آج کی دنیا ملتی ہے اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم ان کے دور میں کھڑے ہیں۔

"لکھنے والے جو بھی لکھتے ہیں اس میں آدھے معنی ہوتے ہیں باقی آدھے معنی پڑھنے والوں میں ہوتے ہیں۔"

انتظار حسین

شمیم حنفی کا کہنا تھا کہ انتظار حسین اور قرۃ العین دو مختلف لکھنے والے ہیں لیکن قرۃ العین اگرچہ ہمیں اردو کا پہلا بڑا ناول دیا اور ان کی بڑائی اور اہمیت کا ذکر نوبل انعام حاصل کرنے والے ایک ادیب نے اپنے نوبل خطاب میں بھی کیا اور قرۃ العین کے ہاں ہمیں ایک کوسمک اور کائناتی تصور ملتا ہے لیکن ان کے فکشن کے بڑے حصے میں ہمیں اشرافیہ طبقہ ملتا ہے جب کہ انتظار حسین کا انداز جمہوری ہے لیکن وہ تہذیب کی طرح دھیرے دھیرے کھلتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظار حسین بظاہر سہل لگتے ہیں لیکن جب ان کے معنی مقرر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو دشواری پیش آنے لگتی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ وہ ترقی پسندوں سے بہتر ترقی پسند ہیں لیکن جب ان پر تنقید کی گئی تو انھوں نے یہ کہہ دیا کہ وہ تو غیر سیاسی ادیب ہیں جب کہ وہ کسی طور پر غیر سیاسی ادیب نہیں ہیں لیکن ان کے ہاں اپنے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کا جو رویہ ہے، اس نے انھیں سمجھنے میں خاصی دشواریاں پیدا کی ہیں۔

شمیم حنفی نے بتایا کہ ایک بار انتظار حسین نے کہہ دیا کہ ان کے پاس تو ایک ہی کہانی ہے جسے وہ لکھتے رہتے ہیں اور محمد حسن عسکری تک نے لکھ دیا کہ انتظار حسین کے ہاں تکرار ہے۔ اگر تکرار ہے تو پھر وہ انتظار حسین کی نہیں ہے کیونکہ ان کی تو چھوٹی چھوٹی کہانیوں میں بھی اس دور کی تاریخ تلاش کی جا سکتی ہے جس میں وہ لکھی گئیں۔

زبان کی بات کرتے ہوئے شمیم حنفی نے کہا کہ انتظار حسین کے زبان پر بھی بہت اعتراضات کیے جاتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ زبان انتظار حسین کے ہاں اظہار کا وسیلہ نہیں ہے بلکہ زبان خود ان کی کہانیوں کی تلاش میں آتی ہے۔

نوآبادیاتی دور کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا انتظار حسین کے ہاں نوآبادیاتی ذہن دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی وجہ ان کے خیال میں یہ ہے کہ انتظار زیادہ جمہوری اور زیادہ عوامی ہیں اور اسی لیے اپنے دور سے زیادہ قریب ہیں۔

"انتظار حسین کا انداز جمہوری ہے لیکن وہ تہذیب کی طرح دھیرے دھیرے کھلتے ہیں۔"

شمیم حنفی

ان کی کہانیوں میں نام کردار نہیں ہوتے بلکہ انسانوں کی قسمیں اور ٹائپ ہوتے ہیں۔ ان کی کہانیوں میں ایک تخلیقی جست ملتی ہے اور شاعری کی طرح یہ تخلیقی جست نامعلوم کی طرف ہوتی ہے جس کے وجہ سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی کہانی پڑھتے ہوئے ہم کسی بھول بھلیوں میں داخل ہو گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انتظار حسین کے بارے میں ایک نقاد نے، غالبًا کہانی کار انور سجاد نے لکھا کہ جدید کہانی کا اصل مقابلہ انتظار حسین سے ہے۔

شمیم حنفی نے کہا کہ انتظار حسین کی کہانیوں کے مجموعے ’شہرِ افسوس‘ میں ہماری ملاقات ٹھنڈی اداسی اور تنہائی کے مارے ہوئے جس انسان سے ہوتی ہے اس کے بارے میں اگر انتظار حسین سے بات کریں تو وہ کہہ دیں گے کہ انھیں پتا نہیں، وہ تو خود کہانیوں کے ذریعے جاننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تایخ کے حوالے سے شمیم حنفی نے کہا کہ قرۃ العین کی طرح تاریخ کے بارے میں انتظار حسین کا رویہ غیر جانب دارانہ ہے اور انھوں نے تاریخ کو کہانیوں کی اساس بنایا ہے لیکن یہ بات بالائی سطح پر نہیں ہے وہ اسے تہہ میں تلاش کرتے ہیں اور انھوں نے یہ تلاش ختم نہیں ہونے دی۔ پھر تاریخ کے ساتھ انھیں جغرافیے کی اہمیت کا بھی احساس رہتا ہے کیونکہ وہ صرف فکشن رائٹر نہیں ہیں اعلیٰ درجے کے نقاد بھی ہیں۔

شمیم حنفی کا کہنا تھا کہ انتظار حسین ایک کچھوے کی طرح اس دنیا کی طرف چل رہے ہیں جہاں انتشار اور تصادم نہ ہو۔ وہ ایک ایسے آدمی ہیں جو اپنے حافظے میں زندہ ہو۔ اس لیے ان کی کہانیوں میں آج بھی وہی توانائی نظر آتی ہے جو ان کی ابتدائی کہانیوں میں دکھائی دیتی تھی۔

ان سے پہلے آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا یہ ہماری خوش نصیبی ہے ہم انتظار حسین کے عہد میں ہیں۔ یہ عہد کوئی خوشگوار عہد نہیں ہے لیکن انتظار حسین اور شمیم حنفی جب آتے ہیں تو سوختہ شہروں میں زندگی کی ایک نئی رمق پیدا ہو جاتی ہے۔

نقاد، افسانہ نگار اور مترجم آصف فرخی نے تقریب کی نظامت کی اور خود کو انتہائی مختصر رکھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔