’پاکستانی ہونے کے سبب کام کی کمی نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 20 فروری 2013 ,‭ 05:17 GMT 10:17 PST
علی ظفر

علی ظفر کی کئی فلمیں بھارت میں کافی پسند کی گئی ہیں

گزشتہ دنوں بھارت پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دونوں ممالک کے فنکاروں کے لیے مشکلات پیدا کر دیں تھیں لیکن علی ظفر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس کام کی کمی نہیں۔

یاد رہے کہ ایک جانب جہاں بالی وڈ کی معروف شخصیت گلزار کو مبینہ طور پر سیکورٹی وجوہات کی وجہ سے اپنے پاکستان کے دورے کو ادھورا چھوڑ کر واپس لوٹنا پڑا، وہیں کئی پاکستانی فنکار اور کھلاڑیوں کو بھی بھارت سے جانا پڑا تھا۔

کشمیر میں ایل او سی پر تنازعات کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اور تلخی نظر آئی لیکن بی بی سی ہندی کے لیے لکھنے والی ریکھا خان کے مطابق بالی وڈ کے پاکستانی اداکار علی ظفر کا خیال ہے کہ ان سب مسائل کے باوجود ان کے پاس کام کی بالکل کمی نہیں ہے۔

علی ظفر کہتے ہیں کہ’مجھے نہیں معلوم کہ جو کام میرے پاس نہیں ہے وہ اس وجہ سے نہیں ہے کہ میں پاکستان سے ہوں۔ لیکن اس کے باوجود جو فلمیں میرے پاس ہیں اس سے میں بہت مطمئن ہوں اور شکرگزار ہوں کہ میں ان لوگوں کے پروجکٹ کا حصہ ہوں۔‘

طریقہ بدل گیا

"ڈیوڈ دھون نے فلم کو آج کے زمانے کے حساب سے تیار کیا ہے۔ پہلی والی فلم اسّی کی دہائی کی معنویت کو پیش کررہی تھی اور وہ وقت مختلف تھا، اب ہم سب دوہزار تیرہ میں کھڑے ہیں، محبت کا اظہار کرنے کا طریقہ بدل گیا ہے اور اس لیے فلم کا انداز بھی بدلا ہے"

کیا دونوں ممالک کے درمیان تلخیاں علی ظفر کو خوفزدہ کرتی ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے علی ظفر نے کہا’خوفزدہ ہوکر کیا کرسکتا ہوں، کام تو کرنا ہی ہے۔ خوفزدہ ہونے کا کوئی فائدہ تو آج تک نہیں ہوا ہے۔ میں ایک مثبت فکر رکھنے والا انسان ہوں اور زندگی میں ہر چیز کو پرامید اور حوصلہ مند طریقے سے دیکھتا ہوں۔ اگر کبھی کچھ ہوگا تو دیکھی جائے گی۔‘

اس دوران انہوں نے ان خبروں کو بھی مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عدم تحفظ کی وجہ سے انہوں نے اپنی کئی فلم کی شوٹنگ بھارت کی جگہ لندن میں کرنے کی بات کی تھی۔

علی ظفر کی آنے والی فلم ’چشم بددور‘ ہے جس کے ہدایتکار ڈیوڈ دھون ہیں۔ یہ فلم 1981 میں بنی فلم ’چشم بددور‘ کا ری میک ہے۔

واضح رہے کہ یہ فلم بھارت میں کافی پسند کی گئی تھی اور اس فلم میں سدھارتھ کا کردار جو کہ پہلے فاروق شیخ نے ادا کیا تھا اس بار اسے علی ظفر ادا کریں گے۔

فاروق شیخ، دیپتی نول

فاروق شیخ، دیپتی نول نے اسی کی دہائی میں بنی فلم چشم بددور میں لیڈ رول کیا تھا

تو کیا علی ظفر نے فاروق شیخ سے اس رول کے بارے میں کسی طرح کی کوئی ٹپس لی ہیں؟ اس کے جواب میں علی ظفر نے کہا ’نہیں فاروق بھائی سے میرا ملنا ہی نہیں ہوا۔ لیکن ہاں میں گزشتہ دنوں لاہور میں نصیرالدين شاہ سے ملا تھا اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ فاروق بھائی کو اصلی چشم بددور بہت پسند ہے اور وہ دیکھنا چاہیں گے کہ نئی فلم کیسی بنی ہے۔‘

فلم کی پیشکش پر علی ظفر کا کہنا ہے کہ ’ڈیوڈ دھون نے فلم کو آج کے زمانے کے حساب سے تیار کیا ہے۔ پہلی والی فلم اسّی کی دہائی کی معنویت کو پیش کررہی تھی اور وہ وقت مختلف تھا، اب ہم سب دوہزار تیرہ میں کھڑے ہیں، محبت کا اظہار کرنے کا طریقہ بدل گیا ہے اور اس لیے فلم کا انداز بھی بدلا ہے۔‘

ڈیوڈ دھون کی ہدایتکاری میں بننے والی اس فلم میں علی کے ساتھ رشی کپور، سدھارتھ اور دويندو شرما بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ فلم پانچ مارچ کو ریلیز ہوگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔