لندن میں موسیقی کی واک آف فیم

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 مارچ 2013 ,‭ 06:26 GMT 11:26 PST

لندن میں ہالی وڈ کی طرز پر موسیقی کے بڑے بڑے ستاروں کے لیے ایک ’واک آف فیم‘ یا فٹ پاتھ بنایا جائے گا جس پر ان ستاروں کے ناموں پر مشتمل ڈسکس لگائی جائیں گی۔

ابتدا میں ان ستاروں کی فہرست میں سرِ فہرست بلر، دی ہو اور ایلوس پریسلے ہیں جن کے نام ڈسک پر لگا کر فٹ پاتھ پر نصب کیے جائیں گے۔

یہ واک آف فیم کی ڈسکس شمالی لندن کے علاقے کیمڈن ٹاؤن میں بنائی جائے گی اور اسے ہالی وڈ کا جڑواں قرار دیا جائے گا۔

اس مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ ابتدائی 30 ڈسکس اسی سال موسمِ گرما میں لگائی جائیں گی۔

اس کا مقصد دنیا کے بڑے موسیقاروں اور گلوکاروں کی خدمات کا اعتراف ہو گا جس میں مزید ڈسکس وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لگائی جائیں گی۔

اسی علاقے میں رہنے والی برطانوی گلوکارہ ایمی وائن ہاؤس کی تیسویں سالگرہ پر ان کے نام کا ایک مجسمہ ستمبر میں ایستادہ کیا جائے گا۔

منتظیمن کے مطابق راک موسیقار لیڈ زیپلن اور عظیم موسیقار فرینک سیناٹرا کے نام بھی فہرست میں شامل ہیں۔

جب کبھی بھی کسی ستارے کے نام کی ڈسک لگائی جائے گی اس کے کام کو اجاگر کرنے کے لیے کنسرٹ اور تقریب منعقد کی جائے گی۔

موسیقی کے کنسرٹ منعقد کرنے والے لی بینیٹ کے مطابق جب کبھی کسی بینڈ کو جو کہ اب جدا ہو چکا ہے ڈسک دی جائے گی تو انہیں اکٹھے فن کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی جائے گی۔

ایسے فنکاروں کو پانچ گروہوں میں تقسیم کیا جائے گا جن میں تجدید کرنے والے فنکار، اثر رکھنے والے فنکار، عظیم فنکار، ایسے فنکار جنہیں شناخت نہیں ملی اور موسیقی کے شعبے کے اہم کارکن جیسا کہ منتظمین اور پروڈیوسر ہوں گے۔

اس وقت ایک کمیٹی جس میں عالمی سطح پر موسیقی کی صنعت سے وابستہ اہم افراد اور مقامی لوگ شامل ہیں ایک فہرست پر کام کر رہے ہیں جو پہلی تیس ڈسکس کے لیے فنکاروں کا انتخاب کریں گے۔

مئی کے مہینے میں ایک فہرست انٹرنیٹ پر موسیقی کی واک آف فیم کی ویب سائٹ پر عوامی ووٹ کے لیے رکھی جائے گی۔

لی بینیٹ کے مطابق ’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ موسیقی کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ہو گا۔‘

لی نے کہا کہ یہ عالمی برانڈ ہو گا نہ کہ صرف ایک کیمڈن کی مقامی چیز مگر کیمڈن میں اسے ایک عالمی راک اینڈ رول مرکز کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

لی بینیٹ کے بیٹے کے دماغ میں اس واک آف فیم کا خیال اس وقت آیا تھا جب وہ صرف دس سال کے تھے۔

لی بینیٹ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ ہالی وڈ سے پیدل گزر رہے تھے کہ ان کے بیٹے ایڈم نے پوچھا کہ ’ایسی کوئی جگہ برطانیہ میں کیوں نہیں ہے؟‘

اس پر بینیٹ نے کہا میں نے سوچا برطانیہ کی سب سے زیادہ اہم برآمد کیا ہے اور میرے ذہن میں آیا کہ وہ موسیقی ہے سو پھر میں نے سوچا کہ کیوں نہ ہم موسیقی کی واک آف فیم بنائیں۔

اس کے بعد لی بینیٹ نے ہالی وڈ میں بہت سا وقت گزارا جہاں انہوں نے لاس اینجلس میں ہالی وڈ واک آف فیم کی انتظامیہ سے شرائط طے کیں۔

چھ سال قبل ہالی وڈ کے چیمبر آف کامرس نے انہیں اس واک آف فیم کے عالمی جملہ حقوق دیے۔

واک آف فیم کے منتظم میٹ مورس رو نے اس بات سے اتفاق کیا کہ کیمڈن اس کام کے لیے موزوں جگہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’لندن موسیقی کا عالمی مرکز ہے اور کیمڈن اس مرکز کے اندر ایک مرکز ہے۔ ہم اس کی کامیابی کو ایک جیتی جاگتی موسیقی کی صنعت کے درمیان محسوس کر رہے ہیں۔‘

منصوبے کی عالمی حمایت

اس منصوبے کا خیال لی بینٹ کو اپنے بیٹے ایڈم کی بات سے آیا جب وہ دس سال کے تھے

اس منصوبہ کی حمایت کیمڈن کی ٹاؤن کونسل کے ڈپٹی مئیر جوناتھن سمپسن بھی کر رہے ہیں جنہوں نے کہا کہ ’ہمارے علاقے میں ساٹھ سے زیادہ ایسے مقامات ہیں جہاں لائیو موسیقی سنی یا اس کے فن کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے تو ایسا تنوع دنیا میں کہیں نہیں پایا جاتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اس اقدام سے نئے لوگوں کو موسیقی کی دنیا میں قدم رکھنے کا موقع ملے گا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی موسیقی کی تدریس کے ایک ادارے کے ایک منصوبے پر خرچ کی جائے گی تاکہ فنکاروں کو عالمی سطح پر پہنچنے میں مدد مل سکے۔‘

اس فٹ پاتھ پر لگنے والی ہر ڈسک پر پانچ سو پاؤنڈ تک لاگت آئے گی اور اسے ایک میٹر کی ایک کنکریٹ کی سلیب میں لگایا جائے گا جسے پھر فٹ پاتھ میں سٹیل کے راڈ کے ساتھ لگایا جائے گا تاکہ اسے چوری نہ کیا جا سکے۔

اس کے پہلے حصے کا آغاز جیمز ٹاؤن روڈ سے مشہور راؤنڈ ہاؤس کے جگہ تک جانے والے راستے پر کیا جائے گا جہاں مشہور گلوکاروں ’دی کلیش‘ ’جمی ہینڈرکس‘ اور ’دی رولنگ سٹون‘ نے فن کا مظاہرہ کیا ہوا ہے۔

امید کی جا رہی ہے کہ بالاخر یہ سارا سلسہ موننگٹن کریسنٹ کی جگہ سے چاک فارم کے علاقے تک پھیل جائے گا۔

لی بینیٹ نے کہا کہ ’ایسے ہر فنکار جنہیں کوئی برِٹ یا گریمی ایوارڈ کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ ملے گا خودبخود ایک ڈسک کے حقدار ہوں گے‘۔

ایمی کا مجسمہ اور ڈسک

ایمی وائن ہاؤس کو یقینی طور پر ایک کانسی کی ڈسک دیے جانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے

یہ بھی منصوبہ ہے کہ اسی علاقے کی مشہور گلوکارہ ایمی وائن ہاؤس کی یاد میں ان کا ایک مجسمہ ایستادہ کیا جائے گا۔

اسی طرح یہ بات یقینی ہے کہ ایمی وائن ہاؤس کو ایک کانسی کی ڈسک دی جائے گی جو کہ ستمبر میں فٹ پاتھ پر لگائی جائے گی جب ایمی کی تیسویں سالگرہ ہوگی۔

ایمی کے والد مِچ نے کہا کہ ’ایمی کو یہ یقیناً پسند آتا کیونکہ وہ کیمڈن کے علاقے کو پسند کرتی تھیں اور انہیں بہت خوش ہوتی اس بارے میں جان کر۔‘

انہوں نے مجسمے کے بارے میں سن کر کہا کہ ’اس سے تو ان کی خوشی دو چند ہو جاتی اور بہت عرصے بعد تک جب میں اور آپ نہیں ہوں گے ایمی کو اس یادگار کے حوالے سے اس علاقے کی سڑکوں پر یاد کیا جاتا رہے گا۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔